سپریم کورٹ میں انتخابی اصلاحات ایکٹ کیخلاف درخواستیں سماعت کیلئے منظور

0
91

چیف جسٹس میاں ثاقب نثار، جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس فیصل عرب پر مشتمل بینچ نے انتخابی اصلاحات ایکٹ 2017 کیخلاف درخواستوں کی سماعت کی۔ پیپلزپارٹی، تحریک انصاف، عوامی مسلم لیگ، جسٹس اینڈ ڈیمو کریٹک پارٹی، نیشنل پارٹی اور جمشید دستی سمیت 13 درخواست گزاروں نے اس قانون کو چیلنج کر رکھا ہے۔

چیف جسٹس ثاقب نثار نے ریمارکس دیئے کہ پارلیمنٹ قانون بنانے کی سپریم باڈی ہے، آپ کہتے ہیں کہ پارلیمنٹ کے بنائے گئے قانون کالعدم قرار دے دیں، ایسے قانون کو کالعدم قراردینے کے اصول کیا ہیں؟، سپریم کورٹ نے آج تک کتنے قوانین کو کالعدم قرار دیا، عدالتی فیصلوں کی نظیریں لائیں۔ چیف جسٹس نے کہا عدالت کو قانون سازی پر جوڈیشل نظرثانی کا اختیار ہے لیکن پارلیمنٹ بالادست ہے، حدود سے تجاویز نہیں کرسکتے، میرے خیال میں قانون تمام سیاسی جماعتوں کے ووٹ سے قومی اسمبلی سے پاس ہوا، قانون بنیادی حقوق سے متصادم ہونے پر کالعدم ہو سکتا ہے۔

جسٹس اعجازالاحسن نے کہا پارلیمانی نظام میں پارٹی سر براہ کا کردار بڑا اہم ہے، انتخابی اصلاحات ایکٹ کی شق 203 میں ایسا کیا ہے جس پر اسے کالعدم کر دیںِ۔ شیخ رشید کے وکیل نے کہا ایماندار قیادت شہریوں کا بنادی حق ہے، قانون کے تحت نا اہل شخص پارٹی کے معاملات کو کنٹرول کرے گا۔ جسٹس اعجازالاحسن نے استفسار کیا کہ کیا قانون سینیٹ میں ایک ووٹ کی اکثریت سے منظور ہوا تھا؟۔ اس پر وکیل شیخ رشید نے اثبات میں جواب دیا۔ پیپلز پارٹی کے وکیل لطیف کھوسہ نےکہا قانون کے تحت پارٹی سربراہ جماعت کے تمام فیصلوں کو ریگولیٹ کرتا ہے۔ جسٹس اعجازالاحسن نے سوال کیا آپ کے مطابق سیاسی جماعت کی پارلیمانی کمیٹی بھی فیصلوں میں آزاد نہیں؟۔ وکیل لطیف کھوسہ نے کہا ایسا ہی ہے۔

سپریم کورٹ میں انتخابی اصلاحات ایکٹ 2017 کیخلاف کیس کی 23 جنوری سے باضابطہ سماعت ہوگی۔

SHARE

LEAVE A REPLY