دو محرم ۔ محرم اسلامی تقویم کا پہلا مہینہ ہے ۔از؛ نگہت نسیم

0
471

نگہت نسیم۔سڈنی

دو محرم الحرام 61 ھ بروزجمعرات کو امام حسین علیہ السلام اپنے ساتھیوں اور خاندان کے ہمراہ کربلا پہنچے ۔واعظ کاشفی اور علامہ اربلی کا بیان ہے کہ جیسے ہی امام حسین (ع) نے زمین کربلا پر قدم رکھا زمین کر بلا زرد ہو گئی اور ایک ایسا غبار اٹھا جس سے آپ کے چہرہ مبارک پر پریشانی کے آثار نمایاں ہوگئے۔یہ دیکھ کر اصحاب ڈرگئے اور جنابِ اُم کلثوم رونے لگیں۔

صاحب مخزن البکا لکھتے ہیں کہ کربلا پر درود کے فوراََ بعد جنابِ ام کلثوم نے امام حسین (ع) سے عرض کی،بھائی جان یہ کیسی زمین ہے کہ اس جگہ ہمارادل دھل رہا ہے۔ امام حسین (ع) نے فرمایا بس یہ وہی مقام ہے جہاں بابا جان نے صفیں کے سفر میں خواب دیکھا تھا۔یعنی یہ وہ جگہ ہے جہاں ہمارا خون بہے گا۔کتاب مائتین میں ہے کہ اسی دن ایک صحابی نے ایک بیری کے درخت سے مسواک کے لیے شاخ کاٹی تواس سے خون تازہ جاری ہو گیا۔

اسی تاریخ کو آپ کے حکم سے برلبِ فرات خیمے نصب کئے گئے ۔حرنے خیمے لگانے پر مزاحمت کی اور کہا کہ فرات سے دور خیمے نصب کیجئے۔ عباس ابن علی کو غصہ آگیا امام حسین (ع) نے غصہ کوفروکیا۔اور بقول علامہ اسفر ائنی تین یاپانچ میل کے فاصلہ پر خیمے نصب کئے گئے ۔

نصبِ خیام کے بعد ابھی آپ اس میں داخل نہ ہوئے تھے۔کہ چند اشعار آپ کی زبان پر جاری ہوئے۔جنابِ زینب نے جونہی اشعار کو سنا اس درجہ روئیں کہ بے ہوش ہوگئیں۔حضرت امام حسین رخسار پر پانی چھڑک کر انہیں ہوش میں لائے ۔ پھر آلِ محمد داخل خیمہ ہوئے۔اس کے بعد ساٹھ ہزار درہم پر سولہ مربع میل زمین خرید کر چند شرائط کے ساتھ انھیں کو ہبہ کر دی۔

امام حسین (ع) کا خط اہل کوفہ کے نام

کربلا پہنچنے کے بعد آپ نے سب سے پہلے اتمام حجت کیلئے اہل کوفہ کے نام قیس ابن مسہر کے ذریعہ سے ایک خط ارسال فرمایا۔جس میں آپ نے تحریر فرمایا کہ تمھاری دعوت پر میں کربلا تک آگیا ہوں الخ۔قیس خط لیے جارہے تھے کہ راستے میں گرفتار کر لیے گئے۔اور انھیں ابن زیاد کے سامنے کوفہ لے جاکر پیش کر دیا گیا۔ابن زیاد نے خط مانگا۔قیس نے بروایتے چاک کرکے پھینک دیا اوربروایتے اس خط کو کھا لیاابن زیاد نے انہیں بضرب تازیانہ شہید کر دیا۔

عبیداللہ ابن زیاد کا خط امام حسین (ع) کے نام

علامہ ابن طلحہ شافعی لکھتے ہیں کہ امام حسین (ع) کے کربلا پہنچنے کے بعد حرنے ابن زیاد کو آپ کی رسیدگی کربلا کی خبردی۔ا س نے امام حسین (ع) کو فوراََ ایک خط ارسال کیا۔جس میں لکھا کہ مجھے یزید نے حکم دیا ہے کہ میں آپ سے اس کے لیے بیعت لے لوں ،یا آپ کو قتل کر دوں۔امام حسین (ع) نے اس خط کا جواب نہ دیا۔اَلقَاہُ مِن یَدِہ اور اسے زمین پر پھینک دیا۔ اس کے بعد آپ نے محمد بن حنفیہ کو اپنے کربلاپہنچنے کی ایک خط کے ذریعہ سے اطلاع دی اور تحریر فرمایا کہ میں نے زندگی سے ہاتھ دھولیا ہے اور عنقریب عروس موت سے ہم کنار ہو جاؤں گا۔

(مضمون کی تیاری میں انٹرنیٹ کے مضامین سے بھی مدد لی گئی ہے )

SHARE

LEAVE A REPLY