پینٹا گون حکام کا کہنا ہے کہ امریکا نے پاکستان کو بتادیا ہے کہ اگر وہ واشنگٹن کی جانب سے روکی گئی امداد کو بحال کروانا چاہتا ہے تو اسے دہشت گردوں کی مبینہ محفوط پناہ گاہوں کو ختم کرنے کے لیے لازمی اقدامات کرنے ہوں گے۔

پینٹاگون کے ترجمان کرنل روب میننگ نے پنٹاگون میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ امریکا کی توقعات پاکستان سے خفیہ نہیں ہیں۔

ان کا کہنا تھا ’طالبان اور حقانی نیٹ ورک کی اعلیٰ قیادت اور افغانستان میں دہشت گردی کرنے والے منصوبہ ساز کو اب محفوظ پناہ گاہیں مہیا نہیں ہو سکیں گی یا وہ پاکستان کی سرزمین سے اپنی کارروائی نہیں کر سکیں گے۔‘

پینٹاگون ترجمان کا کہنا تھا کہ پاکستان کو امریکا کی جانب سے مخصوص اور ٹھوس اقدامات کے بارے میں آگاہ کر دیا گیا ہے جو وہ اٹھائے جا سکتے ہیں۔

روب کیننگ کا کہنا تھا کہ امریکا پاکستان کے ساتھ دہشت گردوں کے خلاف بلا امتیاز کارروائی کرنے کے لیے تیار ہے اور اس کے بارے میں خفیہ طور پر بات چیت پاکستانی حکومت کے ساتھ جاری رہے گی۔

فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق پینٹاگون حکام اس بات کا جائزہ لے رہے ہیں کہ کیا پاکستان امریکی حکومت کی جانب سے امداد روکے جانے پر کراچی سے افغانستان میں امریکی فوجی ساز و سامان کی ترسیل روکنے جارہا ہے؟

تاہم اس حوالے سے پینٹاگون حکام کا کہنا ہے کہ انہیں اسلام آباد کی جانب سے ایسے اقدامات اٹھانے کے اشارے نہیں ملے۔

انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ پاکستان کو امداد کی بندش اس وقت مستقل نہیں ہے اور نہ ہی یہ پیسہ کہیں اور جارہا ہے۔

ترجمان نے دعوی کیا پاکستان کو 2017 کے کولیشن سپورٹ فنڈز سے کوئی رقم نہیں دی گئی جبکہ 2016 کے فنڈ سے 50 کروڑ 50 لاکھ ڈالر کی رقم سال کے آغاز میں ہی اداکر دی گئی تھی۔

خیال رہے کہ گزشتہ روز (08 جنوری کو) امریکا کی سینٹرل انٹیلی جنس ایجنسی (سی آئی اے) کے سربراہ مائیک پومپیو کا بیان سامنے آیا تھا جس میں انہوں نے ٹرمپ انتظامیہ کے دیگر حکام کی طرح پاکستان پر امریکی شہریوں کو ہدف بنانے والے دہشت گردوں کو مبینہ محفوظ پناہ گاہیں فراہم کرنے کا الزام عائد کیا تھا۔

اپنے انٹرویو میں ان کا کہنا تھا کہ امریکا اب پاکستان کے اس رویے کو مزید برداشت نہیں کرے گا۔

ان کا مزید کہنا تھا ’امریکا نے پاکستان کی امداد روک کر اسے ایک اور موقع فراہم کیا ہے، اگر پاکستان اپنی سرزمین سے تمام دہشت گرد گروپوں کے خلاف جنگ کے عزم کو ثابت کرتا ہے تو ہمیں ان کے ساتھ تعلقات کو آگے لے کر چلنے میں خوشی ہو گی اور اگر پاکستان نے ایسا نہیں کیا تو ہم امریکا کا تحفظ کریں گے۔‘

مائیک پومپیو کا کہنا تھا کہ ’ہم پاکستانیوں کو اپنی سرزمین میں امریکا کے لیے خطرے کا باعث بننے والے دہشت گردوں کو مسلسل محفوظ پناہ گاہیں فراہم کرتا دیکھ رہے ہیں۔‘

واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے پاکستان مخالف ٹوئیٹ سامنے آیا تھا جس میں کہا تھا کہ ‘پاکستان دہشت گردوں کو مبینہ محفوظ پناہ گاہیں فراہم کرتا ہے اور امریکا نے پاکستان کو 15 برسوں میں 33 ارب ڈالر کی مالی مدد کی لیکن امریکا کو بدلے میں صرف جھوٹ اور دھوکا ملا۔‘

امریکی صدر کے اس بیان کے چند روز بعد وائٹ ہاؤس نے پاکستان کے لیے 25 کروڑ 50 لاکھ ڈالر پر مشتمل عسکری امداد روکنے کی تصدیق کردی تھی جبکہ امریکا نے پاکستان کا نام مذہبی آزادی کی ’سنگین خلاف ورزیاں‘ کرنے والے ممالک کی خصوصی واچ لسٹ میں ڈال دیا تھا۔

SHARE

LEAVE A REPLY