پنجاب میں سال 2016-17 میں بچے اور بچیوں سے زیادتی کے 1316 واقعات

0
101

صوبہ پنجاب میں سال 2016-17 میں بچے اور بچیوں سے زیادتی کے 1316 واقعات ہوئے، 43 بچے اور بچیاں زیادتی کے بعد قتل کر دیئے گئے جبکہ صرف 19کیسوں میں ملزموں کو سزائیں سنائی جا سکیں۔ یعنی ہر 10 روز میں بچے بچیوں سے زیادتی کے 18 واقعات رپورٹ ہوتے رہے۔ایڈیشنل آئی جی پنجاب کی چیف جسٹس منصور علی شاہ کو جمع کروائی جانیوالی رپورٹ میں خوفناک انکشافات پر چیف جسٹس نے تشویش کا اظہار کیا۔

تفصیلات کے مطابق چیف جسٹس نے پنجاب میں ہونیوالے بچے اور بچیوں سے زیادتی اور زیادتی کے بعد قتل کے واقعات کی مکمل رپورٹ طلب کی تھی۔ ایڈیشنل آئی جی کی جانب سے 4 صفحات پر مشتمل رپورٹ عدالت میں جمع کروائی گئی،جس میں بتایا گیاکہ سال 2016 اور 2017 میں 10 سال سے کم عمر بچیوں کو اغوا کر کے زیادتی کا نشانہ بنانے کے مجموعی طور پر 252 واقعات رونما ہوئے جن میں سے 24 بچیوں کو زیادتی کے بعد قتل کر دیا گیا۔ پولیس کی جانب سے ان مقدمات کا چالان مقامی عدالتوں کو بھجوا گیا۔ عدالتوں نے عدم ثبوت کی بنیاد پر 26 ملزموں کو بری کر دیا، 8 ملزموں کو سزائیں سنائیں جبکہ 219 کیس عدالتوں میں ابھی تک زیر سماعت ہیں۔

رپورٹ کے مطابق سال 2016 اور 2017 میں دس سال سے کم عمر بچوں کے ساتھ زیادتی کے 1064 واقعات رونما ہوئے جبکہ 19 بچوں کو زیادتی کے بعد قتل کردیا گیا۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 1064 کیسوں میں سے صرف 11 ملزموں کو سزائیں سنائی گئیں اور عدم ثبوتوں کی بنیاد پر 140 ملزموں کو بری کردیا گیا جبکہ 801 کیس ابھی بھی عدالتوں میں زیر سماعت ہیں جن کا فیصلہ ہونا باقی ہے۔ چیف جسٹس منصور علی شاہ نے پنجاب کی عدالتوں میں بچے اور بچیوں سے زیادتی کے واقعات کے کیسوں کو روزانہ کی بنیاد پر سماعت کرکے جلد از جلد فیصلے سنانے کا حکم دیا ہے

SHARE

LEAVE A REPLY