سلا م بر امامِ عالی مقام ۔۔۔۔۔ ارم نقوی

0
430

نہ تخت و تاج نہ ہی عیشِ خسروی کے لیئے
حسین (ع) کربلا آئے تھے آگہی کے لیئے
.
وہ آگہی کہ جو حر (ع) کے نصیب میں آئ
بہت ضروری تھی قسمت یاوری کے لیئے
.
امام (ع) وہ ہے جو تحت الثری بھی کام آئے
مثالِ خضر(ع) ہو دنیا میں رہبری کے لیئے
.
علی (ع) شناس ہی غربت کو سہہ گۓ اکثر
شعور چاہیۓ افکارِ بوذری (ع) کے لیۓ
.
زبانِ حق ہو تو میثم (ع) بھی دار پر بولے
مزاج چاہیۓ کردار قنبری (ع) کے لیۓ
.
انی پہ سر ہو یا فاران سے صدائے رسول ( ص)
خطاب ہوتا ہے احکامِ داوری کے لینے
.
خلیلِ کربلا (ع) ، برچھی کا پھل ، پسر بے جان
کلیجہ چاہیئے ہاں ایسی بندگی کے لیۓ
.
ستم تو یہ کہ رہا بے کفن وہ لختِ رسول ( ص )
ہیں خود ملائکہ جس کی مجاوری کے لیئے
.
مثالِ سورہِ کوثر وہ اصغرِ(ع) بے شیر
منادی کرگیا دشمن کی ابتری کے لیئے
.
سکینہ (ع) سو گئ زندان کے اندھیروں میں
کفن نہ مل سکا بابا کی لاڈلی کے لیئے
.
ملا ہے تربتِ عباس (ع) کو شرف ایسا
طواف کرتا ہے خود آب اس جری کے لیئے
.
خطیبِ نہجِ بلاغہ (ع) کی وارثہ کو ارم
علی (ع) کا لہجہ ملا حق کی برتری کے لیئے

SHARE

LEAVE A REPLY