پاکستان میں گداگری کا بڑھتا طوفان۔آفتاب احمد

0
391

علوم عمرانیات کے ماہرین گداگری کو ایک ایسا سماجی رویہ قرار دیتے ہیں جس کے تحت معاشرے کا محروم طبقہ اپنی بنیادی ضروریات کو پورا کرنے کیلئے دوسروں کی امداد کا محتاج ہوجاتا ہے۔ یہ طبقہ امیر افراد سے براہ راست اشیائے خوردو نوش، لباس اور دیگر ضروریات کیلئے رقم کا مطالبہ شروع کردیتا ہے

معاشیات کے ماہرین کی رائے میں بھیک مانگنا درحقیقت سرمایہ دارانہ نظام کے منفی پہلوؤں میں سے ایک ہے اور کسی بھی سرمایہ دارانہ معاشرے کی جڑوں کو کمزور کرنے کا سبب ہے۔ اس نظام کے بعض پہلو معاشرے کے ایک طبقے کو غیر منافع بخش بنا دیتے ہیں۔

گداگری غربت اور محرومی سے جنم لینے والی ایک سرگرمی کا نام ہے۔ یہ دوسروں کے سامنے پیش کی جانے والی ایسی درخواست کا نام ہے جسے پیش کرنے کا مقصد حصول رقم یا صدقات ہوتا ہے اور جسے پیش کرنے والا یہ رقم ذہنی و جسمانی مسائل، غربت وغیرہ کے سبب خودکمانے سے قاصر ہوتا ہے۔

پسماندگی اور غربت کے باعث دن اور رات لمحات میں ہر سمت بھیک مانگتے نظر آتے بچوں کی تعداد انتہائی دردناکصورت اختیار کرتی جارہی ہے، غربت اور بیروزگاری کے مارے افراد نے گداگری کو کمائی کا ذریعہ بنالیا ہے، اپنے پیٹ کی آگ بجھانے کیلیے بھوک کے مارے نچلے طبقے کے لوگ یہ پیشہ اختیار کرتے ہیں بلکہ اپنے گینگ کے سربراہوں اور پولیس کو حصے کے طور پر بھتہ بھی ادا کرتے ہیں۔

ہمارے ملک میں یوں لگتا ہے جیسے سب کو مانگنے کی لت لگ گئی شاید ہی کوئی ایسا شعبہ ہائے زندگی ہو گا جو ترقی کی منازل اتنی تیزی سے نہیں طے کر رہا ہو گا جتنا کہ پاکستان میں گداگری کا شعبہ ترقی کر رہا ہے۔

اقتصادی ماہرین کا کہنا ہے کہ ان کے پاس گداگروں کی تعداد، عمر اور اوسط آمدن سے متعلق اعدادو شمار موجود نہیںہیں۔ قیصر بنگالی نے بتایا کہ گداگروں کے گینگ مختلف شہروں میں کام کرتے ہیں جو اپنے کارندوں کو رش کے مقام پر منتقل کرتے رہتے ہیں، بعض حقیقی ضرورت مند بھی ہوتے ہیں۔ اقوام متحدہ کے مطابق 18کروڑ نفوس پر مشتمل پاکستان کی 49 فیصد آبادی انتہائی غربت کی زندگی گزار رہی ہے جبکہ حکومت کا کہنا ہے کہ وہ غریبوں کے لیے ہر سال 70 ارب روپے مختص کرتی ہے۔

پاکستان کے ہرشہر کی ہر سڑک ، ہر گلی، ہر محلے، ہر بازار میں گداگروں کی بے شمار تعداد دیکھنے میں آتی ہے۔

اس کے علاوہ کراچی کی تقریباً ہر بس میں ایک نہ ایک گداگر عورت ضرور نظر آتی ہے ۔ بس کے رکتے ہی یہ گداگر خواتین پھٹے پرانے کپڑے اور پاوٴں میں ٹوٹی چپل پہنے بس میں سوار ہوجاتی ہیں اور بلند آواز کے ساتھ اپنے مخصوص انداز میں بھیک مانگنے لگ جاتی ہیں ۔

پاکستان میں بڑھتی ہوئی غربت کے باعث گداگروں کی تعداد میں روز بروز اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے۔ ان میں عورتو ں اور بچوں کی تعداد زیادہ ہے۔

ان میں زیادہ تر خواتین کی تعداد گاوں دیہاتوں سے تعلق رکھتی ہے جو شہروں میں آکر اس پیشے کو اپنا لیتی ہیں۔

ملک میں گداگری بڑھ گئی۔۔یہ گداگر شہر کے مختلف ُکونوں میں نمو دار ہوتے ہیں ۔۔۔ اگر دیکھا جائے تو شہروں میں سب سے زیادہ ۔۔۔ سگنلز پر اور چھوٹے علاقوں میں چوکوں ۔۔ چوراہوں پر بھیک مانگنے والوں کی تعداد روزبر روز بڑھتی جا رہی ہے۔۔ان میں سے زیادہ تعداد چھوٹے بچوں کی ہے۔۔۔ جس کے لئے لمحہ فکریہ ۔۔۔لفظ بہت چھوٹا ہے۔۔۔۔ ۔۔۔ بھکاریوںمیں دوسری بڑی تعداد ۔۔۔ معذوروں کی ہے ۔۔۔ ایک رپورٹ کے مطابق ۔۔۔ یہ معذور ۔۔۔ صرف بھیک منگوانے کے لئے ۔۔۔ بنائے جاتے ہیں۔۔۔ جو ۔۔۔ ایک انتہائی افسوسناک امر ہے۔۔۔ ملک میں بڑھتے ہو ئے اس مسلئے نے سنگین نوعیت اختیار تو کر لی لیکن ۔۔۔ انتاہی ۔۔۔ خوفنا ک بات یہ ہے ،،۔،، کہ اس اہم ترین اور سنگین معاملے پر ۔۔۔ ہمارے ۔۔۔حکام کی توجہ ہی نہیں۔۔۔

پاکستان میں مہنگائی نے وہ ظلم ڈھائے کہ ا س کے اثرات نسل در نسل دیکھے جائیں گے ، پٹرول، ڈیزل اور بجلی کے نرخوں میں اضافہ صرف مہنگائی بڑھنے کا ہی نہیں بلکہ غربت اور گداگری میں اضافے کا دوسرا نام ہے، لوگ مہنگائی کے سبب پیٹ کاٹ کاٹ کر جینے پر مجبور ہیں ، بیشتر گھرانے ایسے ہیں جہاں مہینے کا اکٹھا سامان لانے کا رواج دن بہ دن کم ہونے لگا ہے۔ وی او اے کے مطابق مہنگائی تیسری دنیا کا ہی نہیں بلکہ پاکستان کا بھی سنگین اور گھمبیر مسئلہ ہے ستم ظریفی یہ ہے کہ اس مسئلے سے کئی اور مسئلے جڑے ہیں جن میں بے روزگاری، غربت اور بھوک شامل ہیں۔

جہاں آپ میٹرو جیسی سروسسز متعارف کروارہے ہیں اسی ملک و قوم کے بچے ان اسٹیشنز پر بھیک مانگنے کے لیئے کھڑے ہوتے ہیں یہ ترقی ہے یا قوم کی پسپائی، جو عوام کے حقوق سے ذیادہ میٹروجیسے اور کئی منصوبوں پر توجہ لگائے ہوئے ہے۔

پاکستان میں گداگری کا پیشہ ایک مافیا میں بدل چکا ہے۔ ایک پورا نیٹ ورک ان گداگروں کے پیچھے کام کر رہا ہے اور یہ کام پوری پلاننگ کے ساتھ ہوتا ہے۔اس نیٹ ورک کے لوگ اپنے بندے مختلف جگہوں پہ کھڑے کرتے ہیں اور بھیک منگواتے ہیں ان کو واچ بھی کیا جا رہا ہوتا ہے۔اور تو اور یہ جگہیں کرائے پہ دی جاتی ہیں اور ہر بھکاری کی جگہ مخصوص ہوتی ہے اس کی جگہ پہ دوسرا بھکاری نہیں کھڑا ہو سکتا اور ساتھ ساتھ بھیک مانگننے کے اوقات کار بھی متیعن ہوتے ہیں۔اس گداگر مافیا کے گروپ میں جو بھکاری سب سے زیادہ کما کر دیتا ہے اس کو اتنے ہی پوش علاقے میں تعینات کیا جاتا ہے جیسے کہ ڈیفینس، کلفٹن، طارق روڈ اور گلشن کے علاقوں میں دوسرے علاقوں کی بنسبت زیادہ بھیک مل جاتی ہے۔ زیادہ تر بھکاری اسپتال کے باہر بھی ملتے ہیں جہاں مریض کے ساتھ آنے والے سے بیماری سے صحت یاب ہونے کے صدقے میں، پیسوں کے بدلے دوائی دلانے کا مطالبہ کرتے ہیں، تاکہ دس بیس روپے کے بدلے سو دو سو کی دوائی مل جاتی ہے جسے بعد میں میڈیکل اسٹور والے کو ہی تھوڑے کم دام میں فروخت کر دیا جاتا ہے۔

ایک طرف غربت کے ہاتھوں تنگ نوجوان، بزرگ اور خواتین خودکشیاں کرنے پر مجبور ہو رہے ہیں، ایک طرف لوگ اپنے جگر پاروں اور آنکھوں کی ٹھنڈک (اولاد) کو فروخت کر تے دکھائی دیتے ہیں تو دوسری جانب لاکھوں افراد گداگری کا ناسور ہمارے معاشرے کو دھیمک کی طرح چاٹ رہا ہے

ایک سروے کے مطابق پاکستان میں سات کروڑ سے زائد لوگ غربت کی لکیر سے نیچے زندگی بسر کررہے ہیں، کروڑوں عوام زہر آلود پانی پی کر اپنی زندگیاں کو ختم کر رہے ہیں، غربت، بے روزگاری اور فاقہ کشی کے باعث خودکشی کرنے والوں کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے برسراقتدار طبقہ کے دعوؤں کے برعکس گداری سمیت دیگر ممنوعہ دھندوں کو اختیار کرکے راتوں رات اپنے مسائل کا حل تلاش کرنے والوں کی شرح تیزی سے بڑھ رہی ہے۔

پورے پاکستان خاص طور پر کراچی کا یہ حال ہے کہ قدم قدم پر فقیروں کی فوج ظفر موج نظر آتی ہے، فٹ پاتھ پر پورا خاندان صبح اٹھتے ہی اپنی مخصوص جگہوں پر آ جاتا ہے اور پھر یہ لوگ مختلف گاڑیوں کی سمت دوڑ لگا دیتے ہیں۔ راہ گیروں اور دکانداروں سے بھی باقاعدگی سے ہر روز بھیک مانگتے ہیں، اگر اسنیک بار پر کوئی فیملی یا ایک فرد لذیذ کھانوں کے مزے لوٹ رہا ہے تو یہ لوگ مزے کو کرکرا کرنے میں اپنا اہم رول ادا کرتے ہیں اور چکن تکہ اور کولڈ ڈرنک کا مطالبہ کرتے ہیں۔

پاکستان میں غربت و افلاس کے مارے عوام کئی برسوں سے متواتر مہنگائی کا ایٹم بم برداشت کرتے آ رہے ہیں۔ پاکستان میں مہنگائی نے وہ ظلم ڈھائے ہیں کہ اس کے اثرات نسل در نسل دیکھے جائیں گے۔

کراچی اور اندرون سندھ میں بھکاریوں کی بہتات کا یہ عالم ہے کہ محسوس ہوتا ہے کہ نصف آبادی بھیک مانگنے جیسے منافع بخش کاروبار میں ملوث ہے۔

بھکاریوں میں خانہ بدوشوں کے علاوہ ، افغان، تاجک، خسرے اور جرائم پیشہ بھی شامل ہیں، ایک علاقے کا گداگر دوسرے علاقے میں جاکر نہیں مانگ سکتا جبکہ بھکاریوں کے اڈے لاکھوں روپے ٹھیکے پر بکتے ہیں ۔

معاشی اور معاشرتی طور پر گداگری کی وجوہات کچھ بھی ہوں گداگری ایک لعنت ہے جو معاشرے کو پستی و ذلت کا شکار کر تی ہے۔ جس سے عزت نفس اور محنت کی عظمت کے تمام خیالات و نظریات بری طرح متاثر ہوتے ہیں۔ گداگر چونکہ اپنی ظاہری حالت خراب رکھتے ہیں اور صفائی ستھرائی کا اکثر اہتمام نہیں کرتے جس کی وجہ سے وہ خطرناک بیماریوں کا شکا ر ہو کر اپنے آس پاس بسنے والے دوسرے لوگوں کو بھی متاثر کرتے ہیں۔ ایک سروے کے مطابق پاکستان کے سات بڑے شہروں میں کل آبادی کا 0.3فیصد افراد جبکہ شہر کراچی میں ہر 100میں سے ایک شخص نے رضا کارانہ طور پر یہ تسلیم کیا ہے کہ وہ باقاعدہ گداگری کے پیشے سے منسلک ہے۔ سروے میں اس بات کا خدشہ ظاہر کیا گیا تھا کہ اصل تعداد اس سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہے۔ سروے میں یہ بھی کہا گیا تھا کہ بھکاریوں میں تقریباً نصف افراد مردوں کی ہے جبکہ چھوٹے بچوں اور عورتوں کی تعداد برابر ہے۔ ان اعداد و شمار کے مطابق پیشے کے طور پر خود تسلیم کرنے والے ان گداگروں میں سے تقریباً 65 فی صد ایسے تھے جو عام کام کرنے کے قابل تھے۔ لیکن انھوں نے گداگری کو اپنا رکھا ہے۔

غربت، افلاس، بےروزگاری، بیماری، ذہنی و جسمانی معذوری، قدرتی آفات اور جنگیں عام طور پر گداگری کا باعث ثابت ہوتی ہیں۔ کچھ لوگ اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ غربت گداگری کی بنیادی وجہ ہے اور اگر گداگری کو ختم کرنا ہے تو غربت کو ختم کرنا ہوگا۔

گداگر ایک منافع بخش کاروبار کی شکل اختیار کر چکا ہے گداگری کے اس پیشے میں اکثریت بچوّں کی ہے یہ وہ بچےّ ہیں جنھیں اغوا کیا جاتا ہے اور پھر ان اغوا شدگان بچوّں کو نشہ ور ادویات کا عادی بنایا جاتا ہے تا کہ وہ اپنی یاد داشت بھول جائیں اور اس کے علاوہ بچوّں کو معذور کر دیتے ہیں تا کہ وہ با آسانی بھیک مانگ سکیں تا کہ معذوری کے سبب لوگ ان معذور بچوّں پر ترس کھا کر انھیں کچھ نہ کچھ دے دیں ۔۔۔کراچی کی جتنی بھی بڑی اور مشہور اوپن مارکیٹیں ہیں وہاں ان بچوّں کی کثیر تعداد پائی جاتی ہے۔

تحریر آفتاب احمد

SHARE

LEAVE A REPLY