وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا کہ پی ایس ایل فائنل کے لیے تمام تر اقدامات کررہے ہیں، اس جیسے بڑے ایونٹ کیے ہیں، یہ بھی احسن طریقے سے انجام دیں گے۔
صوبائی الیکشن کمیشن کے دفتر کے باہر میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سندھ کا کہنا تھا کہ آئندہ عام انتخابات میں لوگوں کی خدمت کرکے اپنے امیدوار کھڑے کریں گے اور ہمارے نمائندے ہر جگہ سے کامیاب ہوں گے۔
چیئرمین سینیٹ رضا ربانی، سابق وزیراعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ، فاروق ایچ نائیک، وزیر صحت ڈاکٹر سکندر میندھرو و دیگر ایم پی ایز وزیراعلیٰ سندھ کی سربراہی میں سینٹ انتخابات 2018ء کیلئے ٹیکنوکریٹ اور خواتین نشست کے پیپلز پارٹی امیدواروں نے کاغذات نامزدگی کی اسکروٹنی کیلئے صوبائی الیکشن کمیشن آفیس پہنچے، جہاں پر پیپلز پارٹی کی جانب سے تمام منتخب امیدوارن کے چھان بین کے بعد کاغذات نامزدگی منظور کرلیے گئے۔
پیپلز پارٹی کے 5 رہنماؤں ڈاکٹر سکندر میندھرو، تاج حیدر، ڈاکٹر یونس حیدر سومرو، انتھنی نوید اور انور لال دین کے ٹیکنوکریٹ نشستوں کے کاغذات نامزدگی کے کوائف کی چھان بین عمل کے بعد منظورکرلیے گئے۔ ڈاکٹر سکندر میندھرو کے پہلے پرپوزر غلام قادر چانڈیو اور دوسرے جاوید ناگوری، تاج حیدر کے پرپوزرغزالہ لغاری اور دوسرے شہلا رضا ، ڈاکٹر یونس کے پہلے پرپوزر اویس شاہ اور دوسرے شاہینہ شیر علی ، اقلیت انتھنی نوید کے پہلے پرپوزر شہباز بیگم اور دوسرے ستار راجپر جبکہ انور لال دین کے پہلے پرپوزر جام خان شورو اور دوسرے سکندر شورو تھے۔
خواتین کے 5 مخصوص نشستوں میں قرت العین مری، ہمیرہ علوانی، کرشو بائی عرف کرشنا، ندا کھڑو اور رخسانہ زبیری کے کاغذات کی جانچ پڑتال کے بعد منظور کرلیے گئے جس میں قرت العین مری کے پہلے پرپوزر مکیش کمار چاولہ اور دوسرے فیاض بت، ہمیرہ علوانی کے پہلے پرپوزر سائرہ شلوانی اور دوسرے خیرالنساء مغل، کرشو بائی عرف کرشنا کے پہلے پرپوزر سردار شاہ اور دوسرے گیان چند ایسرانی ، ندا کھڑو کے پہلے پرپوزر مشتاق بھٹو اور دوسرے (ٹوسک کرنے والا) خورشید جونیجو جبکہ رخسانہ زبیری کے پہلے پرپوزر کلثوم چانڈیو اور دوسرے سلیم رضا تھے۔
وزیراعلیٰ سندھ کا کہنا تھا کہ ہم سب کو مل کر عوام کی خدمت کرنی چاہیے، ہم سیاسی پارٹی ہیں عوام کی خدمت کرتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ چاہتے ہیں ایم کیو ایم والے سب مل بیٹھیں، ایم کیو ایم سے کہتا ہوں آپس میں لڑنے کے بجائے ساتھ ہوجائیں، کسی کو برا بھلا کہنا سیاست نہیں ہوتی، کسی کو قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دی جائے گی، سیاسی سرگرمیاں تمام جماعتوں کا حق ہے، راؤ انوار کے معاملے پر سب سے مدد طلب کی ہے۔

SHARE

LEAVE A REPLY