روس نے حلب میں ’امن‘ کے لیے فرانسیسی قرارداد ویٹو کر دی

0
318

العربیہ ڈاٹ نیٹ

روس نے شام کے جنگ زدہ شہر حلب میں جنگ بندی کے لیے سلامتی کونسل میں پیش کی گئی فرانس کی قرارداد ویٹو کرتے ہوئے کشت وخون روکنے کی ایک اور کوشش ناکام بنا دی ہے۔
العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق ہفتے کے روز سلامتی کونسل کے پندرہ ارکان پر مشتمل اجلاس میں فرانس کی پیش کردہ قرارداد پر رائے شماری کی گئی۔ قرارداد کی حمایت میں 11 ارکان نے ووٹ دیا جب کہ دو ارکان نے مخالفت کی اور دو نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا۔ قرارداد کی منظوری کے باوجود روس نے ویٹو پاور کا استعمال کرتے ہوئے قرارداد ناکام بنا دی۔

سلامتی کونسل میں شام کے شہر حلب میں جنگ بندی کے مطالبے پرمبنی قرارداد ویٹو کیے جانے پر برطانوی حکومت کی طرف سے شدید تنقید کرتے ہوئے روس کوشام میں جاری قتل عام کا ذمہ دار قرار دیا ہے۔ سلامتی کونسل میں برطانوی مندوب سخت لہجے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ حلب میں جہاں آگ اور خون کے سوا کچھ نہیں وہاں امن کے قیام کے لیے کی جانے والی کوشش ناکام بنانا روس کے ماتھے پر کلنک کا ٹیکہ ثابت ہوگا۔انہوں نے روسی مندوب کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ویٹو پر ہم میں سے کوئی بھی آپ کا شکر گذار نہیں ہو سکتا۔

روس کی جانب سے قرارداد ویٹو کیے جانے سے چندے قبل فرانسیسی وزیر خارجہ جان مارک ایرولٹ نے سلامتی کونسل کےاجلاس سے خطاب کیا۔ انہوں نے تنبیہ کی حلب میں جاری لڑائی سے شہربدترین تباہی سے دوچار ہو سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر عالمی برادری حلب کو بچانے کے لیے مداخلت نہیں کرتی تو ہم ہمیشہ کے لے حلب کو کھو دیں گے۔

ایرولٹ نے سلامتی کونسل کے ممبر ممالک کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ حلب میں بمباری نہیں بلکہ فوری امدادی کارروائیوں کی ضرورت ہے مگر افسوس ہے کہ حلب میں انسانوں کی نسل کشی کی جا رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ حلب میں اسد رجیم اور ان کے حلیف دہشت گردی کے خلاف جنگ کی آڑ میں تباہی اور بربادی پھیلا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت جو بھی بشارالاسد کے ساتھ کھڑا ہوگا اور شامی قوم کا قتل عام کرے گا وہ اس کے بھیانک نتائج کا بھی ذمہ دار ہوگا۔

SHARE

LEAVE A REPLY