پیرس میں کافی عرصے سے یہ دیکھا جا رہا تھا کہ لکھنے والوں میں خواتین کی تعداد ایک تو ویسے ہی کم ہے اور جو ہے وہ بھی اپنی باقاعدہ شناخت کے لیے یہاں کے لکھاری حضرات کی پشت پناہی کی محتاج ہے. اس صورتحال میں نئی لکھنے والی خواتین کو کوئی ایسا پلیٹ فارم میسر نہیں تھا جہاں وہ اپنی تخلیقی صلاحیتوں کو بلا جھجھک اور وقار کیساتھ پیش کر سکیں. اس سے پہلے ایک دو خواتین نے مردوں کے ساتھ مل کر یا الگ سے کوئی گروپ بنانے کی جو سعی کی وہ انہیں کی اندرونی سیاستوں اور خودنمائی کے شوق میں دفن ہو گئیں. ان پلیٹ فارمز پر کسی بھی خاتون کے ادبی کام کو جِلا تو کیا ملتی الٹا ان کے اپنے کام کا معیار بھی شدید متاثر ہوا . یوں ان کوششوں میں اخلاص کی کمی اور شوق خودنمائی کی ذیادتی نے انہیں کوئی باوقار مقام حاصل ہی نہیں کرنے دیا . بلکہ ان کی وجہ سے خواتین کا کام ایک مذاق بن گیا.
کہنے کو ہم بیشک یورپ میں رہتے ہیں لیکن ہمارے دماغ آج بھی ڈنگہ, بھائی پھیرو, کلرسیداں , قصور, جہلم, گجرات, گجر خان کی تنگ و تاریک گلیوں میں پھنسے ہوئے ہیں. ہمیں ہر کام میں خاتون صرف ٹائم پاس ہی نظر آتی ہے. اس کا کام اور ہنر کوسوں دور بھی ہماری سمجھ سے پرے رہتا ہے. کوئی بھی خاتون جب لکھتی ہے یا گھر سے باہر اپنی ذمہ داریوں کے بعد اپنے تجربات اور مشاہدات کو اپنے معاشرے اور کمیونٹی کے لوگوں کی تربیت کے لئے استعمال کرتی ہے تو مردوں سے کہیں زیادہ مسائل سے نبرد آزما ہونے کے بعد اپنے کام کو ان تک پہنچا پاتی ہے سو اس کے لئے اسے بجاء طور پر زیادہ حوصلہ افزائی کی ضرورت ہوتی ہے. جبکہ یورپ بھر میں اور خصوصا ہمارے اپنے شہر پیرس میں ہمیں شدت سے اس بات کا احساس ہو رہا تھا کہ خالصتاً اپنا کام کرنےوالی خواتین کو جان بوجھ کر پیچھے دھکیلا جا رہا ہے. جس کا ایک ثبوت یہ ہے کہ یورپ میں پاکستانی خواتین پاکستانی مردوں سے کہیں زیادہ پڑھی لکھی اور باشعور ہونے کے باوجود ان کی تعداد ادبی میدان میں نہ ہونے کے برابر ہے. وہ حضرات جنہیں اردو میں ایک جملہ ادا کرتے ہوئے جبڑے میں درد محسوس ہونے لگتا ہے وہ بھی یہاں خود کو استاد ثابت کرنے پر تلے رہتے ہیں. جبکہ خواتین جو ان سے زیادہ اچھی زبان دان بھی ہیں اور پڑھی لکھی بھی وہ منظر سے ہی غائب کر دی جاتی ہیں. انہیں اپنی مرضی سے ہی متنازعہ اور غیر متنازعہ کے خانوں میں بانٹ دیا جاتا ہے. خواتین میں غلط فہمیاں پیدا کرنا ان میں سے اکثر کا ہسندیدہ مشغلہ رہا ہے . اب یہ ان کے اندر کا چھپا ہوا بغض ہے یا احساس کمتری ..
ہم کچھ کہنا نا تو مناسب سمجھتے ہیں اور نہ ہی ضروری. سو پیرس میں ہم نے خواتین سے کافی عرصے کی مشاورت کے بعد ایک ایسی تنظیم بنانے کا فیصلہ کیا.جہاں پر خواتین کا کام خواتین کے ساتھ ہی دنیا کے سامنے پیش کیا جائے.
آپ سوچتے ہونگے کہ اگر پہلے دو تنظیمات اپنی سیاست بازیوں اور خودنمائی کے اثرات سے نہ بچ سکیں تو یہ نئی تنظیم کیونکر اس سے بچ پائے گی ؟ تو اس کی سب سے بڑی تین وجوہات یہ ہیں کہ ایک تو اس میں کسی بھی مرد کے عمل دخل کا راستہ بند کر دیا گیا ہے. دوم اس کی تشکیل میں شامل تینوں خواتین اپنے کام میں اپنا اپنا نام اور مقام رکھتی ہیں . اور سوم انہیں ایکدوسرے کو نیچا دکھانے کے لیے کسی چھچھورے انداز کی قطعی کوئی ضرورت نہیں. ان کی اچھی شہرت ہی انہیں ان باتوں سے دور رکھنے کے لئے کافی ہے.
اس تنظیم کی تشکیل میں شامل خواتین میں اپنے بیس سالہ تخلیقی سفر کے بعد میں ناچیز ممتاز ملک, معروف سماجی کارکن اور ہر دلعزیز محترمہ روحی بانو صاحبہ اور ہمارے بہت پیاری دوست محترمہ شمیم خان صاحبہ شامل ہیں.
اس تنظیم کا نام باہمی مشاورت کے بعد “راہ ادب ” تجویز کیا گیا ہے.
اس نام کا پس منظر یہ ہی ہے کہ اس تنظیم کے ذریعے خواتین کے ادب اور تحریر کے راستے کو آسان اور روشن بنایا جا سکے اور وہ تکالیف جو ہم نے اس سفر میں اٹھائی ہیں , آنے والی لکھاریوں کو ان تکالیف سے بچایا جا سکے.
اس تنظیم “راہ ادب ” میں شامل ہونے کے لیے کسی بھی خاتون کا اردو, پنجابی, فرنچ یا کسی بھی زبان کا لکھاری ہونا لازمی ہے. اور انتظامی ذمہ داری نبھانے کے لئے صاحب کتاب ہونا لازم ہے . پروگرام کی ساری انتظامیہ صرف خواتین پر مشتمل ہو گی. اس کی ممبر بننے کے لیے کوئی بھی لکھنے کی شوقین خاتون ہم سے بلا جھجھک رابطہ کر سکتی ہے. اصلاح لے سکتی ہے اور اپنے کام کو مزید بہتر بنانے کے لیے ان کی ہر طرح سے ادبی راہنمائی کے لیے ہم سے رابطہ کر سکتی ہے.
اس سلسلے میں تنظیم “راہ ادب” کی پہلی بیٹھک کل شام سات بجے, بروز بدھ بتاریخ 11 اپریل 2018ء 25 رجب المرجب کو ایک مقامی ریسٹورنٹ میں منعقد ہوئی. جس میں مندرجہ بالا تمام نکات طے پائے. بیٹھک کی کچھ تصاویر بھی اس تحریر کیساتھ پیش کی جا رہی ہیں.
ہماری اس تنظیم کا مقصدِ قطعی طور پر اپنے لکھاری بھائیوں کے ساتھ کوئی بھی مقابلہ بازی یا کسی بھی قسم کی مخاصمت نہیں ہے بلکہ اس کا مقصد ان کا اس کام میں ہاتھ بٹانا ہے جو وہ خواتین کے لئے کرنا چاہتے تھے لیکن بوجوہ کر نہیں پاتے تھے. اب ایک بااختیار پلیٹ فارم سے وہ زیادہ بہتر انداز میں ہمارا ساتھ دے سکتے ہیں اور ہماری حوصلہ افزائی کر سکتے ہیں. ہم اپنے پروگرامز میں اپنے بھائیوں کو نہ صرف مدعو کیا کرینگے بلکہ ان کی تصانیف کے لئے رونمائی اور پذیرائی کا بھی کھلے دل سے انعقاد کیا کرینگے ان شاءاللہ آئیئے مل کر اپنی اپنی ماؤں بہنوں اور بیٹیوں کے لئے راہ ادب کو آسان بنائیں. تاکہ آپ کو اپنے آدھے حصے کے تجربات مشاہدات اور سوچ بچار سے آگاہی حاصل ہو سکے

ممتاز ملک. پیرس

SHARE

LEAVE A REPLY