سینیٹ: حکومتی نمائندوں کی عدم موجودگی پر اپوزیشن کا احتجاج

0
70

حکومت کی جانب سے ڈاکٹر شکیل آفریدی کو مبینہ طور پر جیل سے فرار کروانے کی سازش سے متعلق معاملے میں سینیٹ کو تفصیلات فراہم کرنے میں ناکامی پر اپوزیشن ارکان نے احتجاج کرتے ہوئے اجلاس سے واک آؤٹ کیا۔

واضح رہے کہ سینیٹ کے چیئرمین صادق سنجرانی نے وزیر داخلہ اور وزیر خارجہ کو مذکورہ معاملے پر اپنی رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی تھی۔

سینیٹ ارکان کی جانب سے ڈاکٹر شکیل آفریدی کو مبینہ طور پر سی آئی اے کی جانب سے فرار کروانے کی کوششوں کی رپورٹس پر وضاحت طلب کی گئی تھی، جس کے باعث ڈاکٹر شکیل آفریدی کو پشاور سے راولپنڈی کی اڈیالہ جیل منتقل کردیا گیا تھا۔

اس ضمن میں سابق چیئرمین سینیٹ اور سینیٹر رضا ربانی نے موجودہ چیئرمین سینیٹر صادق سنجرانی کو بتایا تھا کہ آپ نے دونوں وزراء کو ایوان میں پیش ہونے کی ہدایت کی تھی، تاہم چیئرمین سینیٹ نے اس پر وزیر داخلہ پر ہونے والے حملے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ انہیں اپنا جواب جمع کروانے میں کچھ دن لگیں گے، اس پر رضاربانی نے مزید کہا کہ آپ نے وزیر خارجہ کو بھی طلب کیا تھا تاہم اس سلسلے میں کوئی بھی وفاقی وزیر آکر وضاحت پیش کرسکتا تھا۔

سابق چیئرمیں رضا ربانی نے اس بات پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہ کوئی وزیر شکیل آفریدی کے معاملے پر گفتگو کرنے کو تیار نہیں اور انہوں نے احتجاجاً ایوان سے بائیکاٹ کا اعلان کردیا جس پر اپوزیشن کے دیگر ارکان بھی ان کا ساتھ دیتے ہوئے ایوان سے باہر چلے گئے۔

اس موقع پر سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر شیری رحمٰن نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم کی کابینہ کے اتنے وزیروں میں سے کوئی وزیر بھی زخمی وزیر داخلہ کی جگہ بات کرسکتا تھا، انہوں نے کابینہ میں وزراء کی تعداد پر اعتراض کرتے ہوئے بتایا کہ قانون کے تحت حکمران جماعت کی پارلیمنٹ میں مجموعی تعداد کا 11 فیصد حصہ کابینہ پر مشتمل ہوسکتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ مجھے حاصل اعدو شمار کے مطابق اس طرح کابینہ میں 49 افراد ہونے چاہیے لیکن مسلم لیگ (ن) کی کابینہ میں 60 وزراء موجود ہیں، ان کا مزید کہنا تھا کہ مذکورہ معاملے کو عدالت میں لے جا کر حکومت کو کابینہ ارکان کی تعداد آئین کے مطابق کرنے کا کہا جاسکتا ہے، ’جو ووٹ کو عزت دینے کا مطالبہ کرتے ہیں انہیں قانون کا حترام بھی کرنا چاہیے‘۔

اس سے قبل سینیٹ اجلاس میں پاکستان تحریک انصاف کے سینیٹر شبلی فراز نے بجٹ پر بحث کے دوران ملک کو قرضوں کے جال سے نکالنے کے لیے باقاعدہ اصلاحی ڈھانچے کا نفاذ اور اس ضمن میں اسٹریٹجک پالیسی کا فریم ورک بنانے پر زور دیا، ان کا کہنا تھا حکومت مالی خسارہ پورا کرنے کے لیے قرض پر قرض لے رہی ہے، ایک ہی کام بار بار کر کے مختلف نتیجے کی توقع کرنا پاگل پن ہے۔

شبلی فراز نے اپنی تقریر میں مزید کہا کہ ہمیں برآمدات بڑھانے کی ضرورت ہے جو فی الوقت 3 چیزوں پر ہی مشتمل ہے جس میں ٹیکسٹائل سب سے نمایاں ہے، انہوں نے بتایا کہ 2 دہائی قبل ہمارے ملک کی برآمدات ویتنام کی برآمدات کے برابر تھی جو اب بڑھ کر 2 سو 16 ارب ڈالر ہوگئی ہے جبکہ پاکستان کی برآمدات کا حجم اب بھی 15 سے 25 ارب ڈالر ہے۔

انہوں نے حکومت کی ٹیکس ایمنسٹی اسکیم پر تنفید کرتے ہوئے کہا کہ اس سے حقیقی ٹیکس دہندگان کو فائدہ پہنچنے کے بجائے ان افراد کو فائدہ ہوگا جو غیر قانونی ذرائع سے پیسہ کماتے ہیں۔

اجلاس میں کشمیر میں جاری بھارتی جارحیت کے خلاف مذمتی قرارداد متفقہ طور پر منظور کی گئی، جس میں بین الاقوامی برادری سے مطالبہ کیا گیا کہ کشمیر کے مسئلے کا حل کشمیری عوام کی خواہش کے مطابق نکالا جائے۔

قرارداد میں بھارتی فوج کی جانب سے کی روزانہ کی بنیاد پر کی جانے والی ظالمانہ کارروائیوں کا بھی ذکر کیا گیا، اور کہا گیا کہ پاکستانی حکومت منتخب نمائندے اور عوام کشمیری بہن بھائیوں کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہیں۔

سینیٹ نے حکومت سے کشمیری معاملے پر خصوصی ایلچی مقرر کرنے کا بھی مطالبہ کیا۔

SHARE

LEAVE A REPLY