چیف جسٹس پاکستان جسٹس ثاقب نثار کا کہنا ہے کہ عمران خان عدالت کے لاڈلے نہیں ہیں، مریم اورنگزیب کیوں یہ بیان دے رہی ہیں عمران خان کو ہم نے رعایت دی؟، آپ کیوں عدالتوں کو بدنام کرنا چاہتے ہیں؟ چیف جسٹس کا وفاقی وزیر برائے کیڈ طارق فضل چوہدری کو روسٹرم پر بلا کر استفسار۔

سپریم کورٹ میں بنی گالا تجاوزات ازخود نوٹس کیس کی سماعت چیف جسٹس پاکستان جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں ہوئی ۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ آپ یہ تاثر کیوں دے رہے ہیں کہ عدالت نےعمران خان کو غیر قانونی تعمیر پررعایت دی؟، آپ بتائیں، یہ رعایت آپ نے خود نہیں دی؟ وضاحت کریں ورنہ ایکشن لیں گے۔

دوران سماعت وفاقی وزیربرائے کیڈ طارق فضل چوہدری نے کہا کہ سر یہ رعایت عدالت نے نہیں بلکہ ہم نے خود بنی گالا کے رہائشیوں کو دی ہےجس میں عمران خان سمیت 10 لاکھ لوگوں شامل ہیں۔ چیف جسٹس نے طارق فضل چوہدری کو اونچی آواز میں دوبارہ وضاحت کرنے کی ہدایت کر دی ۔

طارق فضل چوہدری نے کہا کہ غیر قانونی تعمیرات کو ریگولائز کرنے کی سمری وفاقی کابینہ کو بھجوا دی ہے۔دوران سماعت چیف جسٹس نے کورنگ نالہ کے اطراف تعمیرات کا معاملہ وفاقی محتسب کو بھجوا دیا اور تمام متاثرین کو 2 دن کی اندر اپنی درخواستیں وفاقی محتسب میں جمع کروانے کی ہدایت جاری کردی۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ کورنگ نالہ کے اطراف غیرقانونی تعمیرات کرنے والوں کیلئے کوئی رعایت نہیں ہوگی۔ا س موقع پر کیس کی سماعت 2 ہفتوں کے لئے ملتوی کر دی گئی

SHARE

LEAVE A REPLY