نارووال کا فاروق بندیال اور بے خبر عمران خان: سہیل احمد لون

0
131

کسی بھی مہذب معاشرے میں اخلاقی قدروں کی بڑی اہمیت ہوتی ہے ، تاریخ اس چیز کی گواہ ہے کہ کسی بھی طاقتور اور عظیم قوم کی تنزلی کا پہلا قدم اخلاقی پستی ہے۔برطانیہ ، یورپ سمیت دیگر ترقی یافتہ ممالک میں ایک معمولی سیکورٹی گارڈ یا ٹیکسی ڈرائیور کے لائسنس کے حصول کے لیے بھی کم از کم گزشتہ پانچ برس کا کردار دیکھا جاتا ہے جس کے لیے کرمینل ریکارڈ چیک کرنے کے لیے مخصوص ادارے بنے ہوتے ہیں ۔ ٹیکسی ڈرائیور، سیکورٹی گارڈ، وکیل، ڈاکٹر ، استاد سمیت دیگر شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے لوگ اگر پیشہ وارانہ زندگی میں کسی بڑے جرم میں ملوث پائے جائیں تو ان پر قانونی کارروائی عمل میں لائی جاتی ہے جس کے بعد جرم کی نوعیت کے حساب سے سزا یا جرمانہ ہوتا ہے اور ان سے لائسنس بھی واپس لے لیے جاتے ہیں۔جہاں تک سیاستدانوں کا تعلق ہے تو ان کے لیے بھی اسی طرح کا سکیننگ سسٹم ہوتا ہے۔ برطانیہ کے حالیہ بلدیاتی انتخابات میں لیبر پارٹی کی ٹکٹ سے جیتنے والی خاتون کونسلر لیلی بٹ کو تحقیقات کا سامنا ہے اور لیبر پارٹی نے اسکی رکنیت بھی معطل کردی ہے کیونکہ اس پر یہ الزام ہے کہ اس نے کاغذات نامزدگی کے ساتھ اپنے خاوند کا ایک مکان جو اس نے کرائے پر دے رکھا تھا ڈیکلیئر نہیں کیا تھا۔ برطانیہ میں اس طرح کی بے شمار مثالیں موجود ہیں جب اخلاقی قدروں پر کسی کا سیاسی باب ہی بند ہو جائے ، برطانیہ کے سابقہ وزیر اعظم گورڈن براؤن کا سیاسی کیریئر انتخابی مہم کے دوران ایک بوڑھی عورت کو Bigoted womanکہنے )یہ الفاظ انہوں نے کار میں سوار ہوتے ہوئے بڑبڑائے تھے جو بد قسمتی سے ایک صحافی کے مائک نے ریکارڈ کرلیے( پر اختتام پریز ہوگیا۔
پاکستان میں ان دنوں انتخابی مہم کا سلسلہ شروع ہوچکا ہے ، سیاسی جماعتیں اپنے منشور اور اپنے امیدوار سامنے لانے کی تیاریوں میں مصروف ہیں ۔ جمہوری ممالک میں عمومی طور پر دو بڑی سیاسی جماعتوں کے درمیان مقابلہ ہوتا ہے مگرعمران خان جس میدان میں بھی گیا ہے اس نے کچھ نیا تجربہ کرکے کوئی ناممکن حد تک مشکل کا م کو پایا تکمیل تک کرکے ضرور دکھایا ہے۔ سیاست میں تیسری بڑی پارٹی متعارف کروائی اور اگر وہ حکومت بنانے میں کامیاب ہو جاتا ہے تو یہ بھی ایک ناممکن حد تک مشکل کام ہوگا۔ عمران خان گزشتہ انتخابات میں بھی جیتنے کے لیے بہت پر امید تھے مگر نتائج بالکل برعکس نکلے ۔ انتخابی دھاندلی کا رونا اپنی جگہ مگر اس بات کا اعتراف تحریک انصاف کے چیئر مین نے کھلے دل سے کیا تھا امیدواروں کو ٹکٹیں دینے میں انکی پارٹی سے غلطی ہوئی ۔ اسکے بعد انہوں نے اس بات کی یقین دہانی کروائی تھی کہ آئندہ انتخابات میں ٹکٹوں کی تقسیم وہ اپنی نگرانی میں کروائیں گے۔ پانامہ میں میاں صاحب کے نااہل ہونے کے بعد نون لیگ کے لیے سیاسی میدان میں مشکلات میں اضافہ ہوتا گیا جس کے نتیجے میں تحریک انصاف کی مقبولیت میں اضافہ ہونا شروع ہوگیا ،اب حالات یہ ہیں کہ تحریک انصاف میں دوسری سیاسی جماعتوں کے Electables کی ایک کثیر تعداد جمع ہو چکی ہے ۔دیگر سیاسی جماعتیں کیا کررہی ہیں کسی ٹکٹ دے رہی ہیں میڈیا اور سوشل میڈیا کو اتنا attractنہیں کرتا مگر جس کا کتا بھی ہیڈ لائن بنے تو یہ کیسے ممکن ہے کہ اس پارٹی میں شامل ہونے والے سیاستدانوں اور ٹکٹوں کی تقسیم کا معاملہ زیر بحث نہ ہو۔ عامر لیاقت ہو یا فاروق بندیال وہ پہلے کس سیاسی جماعت میں تھے اس بات کا تذکرہ نہیں کیا گیا مگر اس بات کا چرچا خوب رہا کہ انہوں نے ماضی میں کیا غیر اخلاقی حرکات کیں ، فاروق بندیا ل اور کھوسہ کو تو تحریک انصاف کا دوپٹہ پہنا کر چند گھنٹوں بعد عوامی ردعمل کی وجہ سے اتار دیا گیا جو ایک اچھا جمہوری عمل تھا مگر جگ ہمسائی کا موقع دینے سے پہلے اگر انکے پروفائل کی تحقیق کر لی جاتی تو شاید پنجاب کے نگران وزیر اعلی کے نام کی طرح یہاں بھی یو ٹرن لینے کی نوبت نہ آتی۔

نارووال کے حلقہ پی پی 50میں تحریک انصاف نے سجاد مہیس کو ٹکٹ دی ہے اور محسوس یہ ہوتا ہے کہ یہاں بھی امیدوار کے بارے میں مکمل تحقیق نہیں کی گئی ۔ اس مرتبہ ٹکٹوں کی تقسیم میں ہر حلقے سے تین بہترین امیدواروں کو شارٹ لسٹ کرکے چیئر مین تک نام پہنچائے جاتے ہیں ، کس امیدوار کو ٹکٹ دینی ہے اس کا اختیار چیئر مین نے اپنے پاس رکھا ہے مگر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ان امیدواروں کا کریمینل ریکارڈ چیک کیا جاتا ہے؟ عمران خان نے کافی عرصہ برطانیہ میں گزارا ہے اور چوہدری محمد سرور تو برطانوی پارلیمنٹ میں ممبر بھی رہے ہیں، کیا وہاں کسی امیدوار کو کریمینل ریکارڈ کے ساتھ پارٹی ٹکٹ دیتی ہے؟ صوبائی اسمبلی کے امیدوار سجاد مہیس کو کیا ٹکٹ صرف اس بنیاد پر دیا گیا ہے کہ وہ اس ابرار الحق کا پسندیدہ آدمی ہے جو اپنے علاقے میں اس بات پر مشکوک ہے کہ وہ رقم بٹور کر امیدواروں کو ٹکٹ دلوا تا ہے اور یہ بات تحریک انصاف کے چیئر مین کے نظریہ کے متضاد اور متصادم ہے۔ فاروق بندیال کی طرح جناب سجاد مہیس بھی زنا بالجر اور قتل جیسے سنگین جرائم میں ملوث ہیں ۔ان کے خلاف تھانہ صدر نارووال میں ایک ایف آئی آر نمبر 120درج ہے جس کے مطابق سجاد مہیس نے علی آباد کی رہائشی خاتون بشری پروین نے یہ پرچہ درج کروایا تھا کہ سجاد مہیس نے اپنے ساتھیوں سمیت متعدد با ر زیادتی کا نشانہ بنایا ہے اور جان سے مارنے کی دھمکیاں بھی دیں ہیں۔ایف آئی آر کے مطابق بشری پروین کا کہنا تھا کہسجاد مہیس نے شراب کے نشے میں دھت ہو کر اس کے ساتھ کئی بار جسمانی زیادتی کی۔28جولائی2007ء کو تھانہ بدوملہی میں درج ہونے والی 302کی ایف آئی آر میں مدعی سلطان محمود نے مقدمہ درج کروایا ہے جس کے مطابق چوہدری سجاد مہیس نے کوثر محمود کو فائرنگ کرکے قتل کیا، اسکے علاوہ گجر پورہ تھانہ لاہورمیں 24مارچ 2007ء کو چوہدری سجاد مہیس کے خلاف ایک ایف آئی آر درج ہوئی جس کے مقدمہ نمبر 196/7ب کے مطابق وہ تین بے گناہ افراد کے قتل میں ملوث ہے جن میں ایک خاتون بھی شامل ہے۔تحریک انصاف کو اس معاملے کی تحقیات کرنی چاہئیں کہ ایسا جرائم پیشہ لوگ کو ٹکٹ دلوانے کے پیچھے کون ہے اور اسکے کیا محرکات ہیں؟اگرتھوڑی سی تحقیق کی جائے تو پتہ چلے گا کہ سجاد مہیس سابقہ وزیر داخلہ احسن اقبال کا خاص آدمی تھا۔چند برس قبل سجاد مہیس کے بیٹے نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ ملکر ایک ریٹائیرڈ جنرل کے بیٹے کو قتل کردیا تھا۔چوہدری سجاد مہیس نے پیسے کے زور پر اپنے بیٹے کو قتل کے مقدمے سے بری کروایا تھا اور آجکل اس کا وہی قاتل بیٹا لندن میں عیش و عشرت کی زندگی گزار رہا ہے۔اس واقعے پر ایک نجی چینل پر مبشر لقمان نے صحافی عارف حمید بھٹی کے ساتھ مل کر ’’کھرا سچ‘‘ پروگرام بھی کیا تھا۔ابرار الحق اور چوہدری سجاد مہیس نے تحریک انصاف کے لیے اپنے حلقے میں کوئی خاطر خواہ کام نہیں کیا ۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ابرا رالحق کو نون لیگ کے سینئر رہنماء احسن اقبال کا خاص بندہ ہی پسند کیوں آیا؟ کیا ابرارالحق کو چوہدری سجاد مہیس کے جرائم کی داستانوں کا علم نہیں تھا ؟ کیا اس کے پیچھے بھی کوئی ڈیل ہے ؟ اس سے قبل کہ چوہدری سجاد مہیس کا بھی سوشل میڈیا اور میڈیا ٹرائل شروع ہو اور پھر تحریک انصاف کے چیئر مین ایک اور یو ٹرن لیں ، اس معاملے کی مکمل تحقیقات کروائیں اور جرائم پیشہ افراد سے اور انکو پارٹی میں لانے والوں سے جان چھڑائیں۔ برائی کو شروع میں دبا دینا چاہیئے ورنہ وہ آپ کی قبر بنا دے گی۔

تحریر: سہیل احمد لون
سربٹن ۔ سرے

SHARE

LEAVE A REPLY