یا اللہ توہمارامواخذہ مت کرنا ۔نصرت نسیم

0
133

ہائے یہ کم بخت دل بھی کیا چیز ہے میں عید کے لیے ثناسفینازکااتنا مہنگا سوٹ لے چکی تھی کہ عاصم جوفہ کاڈیزائن پسندآگیا آن لائن آڈر کر دیا ہے وہ واٹس ایپ پر پکچر دکھا رہی تھی سب کولیگیز بڑے اشتیاق سے ڈیزائن دیکھ رہی تھیں اوربچوں کے کپڑے؟ ایک نے سوال کیا ہاں ہاں ان کے بھی کھاڈی اورمنیمینار پر بڑے اچھے سٹائلش کپڑے مل گئے بھئ کیا کریں عید کے دن خاندان، دوست احباب سے ملناجلنا توکپڑے بہترین ہونے چاہئیں سب ساتھیوں نے پرزور تائید کی

میری نظر اپنے موبائل پر تھی جہاں مفتی عدنان صاحب کافطرانہ کا میسیج چمک رہا تھا گندم 90 جو 1903 کھجور 840 اورکشمش 1680 روپے اپنی استطاعت کے مطابق اداکریں میں نے بآواز بلند پڑھا ہائیں یہ کیا ‘ہم توساری عمر گندم سے نکالتے آے بہت سارے لوگ بیک وقت بول اٹھے لوبھلا کھجور اورکشمش سے تو کافی رقم بنتی ہے اورہم ٹہرے غریب پروفیسر لوگ’ہم کیسے کھجور اورکشمش سے نکال سکتے ہیں انہوں نے میری بات کا تمسخر اڑایا اورسب سےبلندآواز میری اس کولیگ کی تھی جوابھی کچھ دیر پہلے ہزاروں روپے کے مہنگے ملبوسات کا تذکرہ کر رہی تھی لہذا میں نے بھی اس مخاطب کیا اے میری پیاری غریب دوست ‘

یہ جو اتنے مہنگے ملبوسات عیدکے لئے وہ کیا ہے اپنے لئے سال میں کئی دفعہ شاپنگ کرتے ہیں اورسال بعد اللہ کے راستے میں خرچ کرنا پڑےتوغریب بن جاتےہیں چہ خوب

اس بات پرگرماگرم بحث شروع ہو گئی اتنے میں گھنٹی کی آواز سنائی دی میں کلاس کے لئے باہرآئ تو سب کا مشترکہ قہقہہ اورمیری ساتھی کی آواز سماعت سے ٹکرائی پاگل ہے ہمیشہ نئے نئے شوشے چھوڑتی ہے ساری عمر ہمارے باپ دادا گندم کے حساب سے فطرانہ دیتے آئے بھلاکشمش اورکجھور سےکیسے ممکن ہے یہ تو ہزاروں کی بات ہے

میرا دل غم سےاورخوف سے بھرگیا یا اللہ توہمارامواخذہ مت کرنا کہ تیرے دیے ہوئےرزق میں سے تیرے لیے خرچ کرنا پڑےتوغریب بن جاتےہیں

نصرت نسیم

SHARE

LEAVE A REPLY