‘شمالی کوریا کے جوہری ہتھیار ختم کریں گے

0
34

امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ شمالی کوریا کے سربراہ کم جونگ ان کے ساتھ ان کا بہت اچھا تعلق قائم ہوگیا ہے اور “ہم شمالی کوریا کے جوہری ہتھیاروں کو تلف کرکے رہیں گے۔”

سنگاپور میں کم جونگ ان کے ساتھ ملاقات کے بعد وائس آف امریکہ کی نمائندۂ خصوصی گریٹا وین سسٹرن سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے ملاقات میں ہونے والے اتفاقِ رائے کو ایک عظیم معاہدے کا آغاز قرار دیا۔

انہوں نے کہا کہ شمالی کوریا کے جوہری ہتھیاروں کی تلفی کا آغاز فوراً ہی ہوگا اور ان کے بقول “اس کے علاوہ بھی بہت کچھ ہوگا۔”

امریکی صدر نے شمالی کوریا کو لگ بھگ 70 سال قبل جنگِ کوریا کے دوران قید اور لاپتا ہونے والے ہزاروں امریکیوں کی باقیات کی واپسی پر آمادہ کرنے کو بھی اپنی ایک بڑی کامیابی قرار دیا۔

سربراہی ملاقات کے بعد جاری ہونے والے مشترکہ اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ دونوں ممالک جنگِ کوریا کے دوران قید اور لاپتا ہونے والے شہریوں کی باقیات تلاش کرکے انہیں ایک دوسرے کے حوالے کریں گے۔

صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ان باقیات کی واپسی بہت سے امریکی شہریوں کے لیے بہت اہمیت رکھتی ہے جنہوں نے صدر کے بقول اس مسئلے کے لیے “مجھے فون کیا، مجھے خط لکھے، [اور مجھ سے پوچھا کہ] پلیز کیا آپ یہ کرسکتے ہیں؟”

سنہ 1950 سے 1953 کے دوران ہونے والی جنگِ میں پینٹاگون کے مطابق 36 ہزار سے زائد امریکی فوجی اہلکار ہلاک ہوئے تھے۔

اس سوال پر کہ کیا سربراہی ملاقات میں شمالی کوریا میں انسانی حقوق کی صورتِ حال بھی زیرِ بحث آئی، صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ 90 فی صد وقت جوہری ہتھیاروں سے متعلق بات چیت پر صرف ہوا لیکن “ہم نے اور بہت سے معاملات بھی اٹھائے، جن میں انسانی حقوق کا بھی ذکر ہوا۔”

صدر نے کہا کہ وہ اس سربراہی ملاقات کی وجہ سے 25 گھنٹے سے نہیں سوئے ہیں اور یہ ان کے بقول بہت طویل مذاکرات تھے جس پر انہیں بہت فخر ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ ملاقات ایک طویل عمل کا آغاز ہے ۔ ان کے بقول اس تنازع کا اختتام جنگ پر بھی ہوسکتا تھا جس میں لاکھوں لوگ مارے جاتے “لیکن اب اس تنازع کا خاتمہ ایک معاہدے پر ہوگا۔”

صدر ٹرمپ نے واضح کیا کہ سربراہی ملاقات میں جنوبی کوریا میں تعینات امریکی فوجیوں کا معاملہ زیرِ بحث ہی نہیں آیا اور امریکی فوجی دستے وہاں بدستور تعینات رہیں گے۔

البتہ انہوں نے کہا کہ امریکہ جنوبی کوریا کے ساتھ مشترکہ فوجی مشقیں بند کر رہا ہے کیوں کہ ان کے بقول “ان پر بہت پیسہ خرچ ہوتا ہے۔”

صدر نے کہا کہ جب تک امریکہ شمالی کوریا کے ساتھ نیک نیتی سے مذاکرات کر رہا ہے یہ مشقیں بند رہیں گی کیوں کہ “یہ بہت اشتعال انگیز ہیں۔”

صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ وہ سمجھتے ہیں کہ کم جونگ ان واقعی کچھ کرنا چاہتے ہیں اور امریکہ کے ساتھ کسی معاہدے کے خواہش مند ہیں۔ انہوں نے کہا کہ شمالی کوریا کے خلاف ان کے سخت بیانات کے بغیر ایسا ہونا ممکن نہیں تھا۔

گو کہ دونوں رہنماؤں کی اس ملاقات کا بیشتر ملکوں کی قیادت نے خیر مقدم کیا ہے لیکن بعض تجزیہ کاروں اور مبصرین نے ملاقات کے بعد جاری کیے جانے والے مشترکہ اعلامیے میں کوئی ٹھوس اقدام اور واضح ڈیڈلائنز نہ ہونے پر تحفظات بھی ظاہر کیے ہیں۔

SHARE

LEAVE A REPLY