احتساب عدالت میں اسحاق ڈار کے خلاف زائد اثاثہ جات ضمنی ریفرنس کی سماعت جاری ہے، کیس میں نامزد تینوں نامزد ملزمان کمرہ عدالت میں موجود ہیں جبکہ شریک ملزم نیشنل بینک کے صدر سعیداحمد کی بریت کی درخواست پر وکیل حشمت حبیب دلائل دے رہے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق کیس کی سماعت احتساب عدالت کے جج محمد بشیر کررہے ہیں جہاں صدر نیشنل بینک سعید احمد کی بریت کی درخواست پر بحث جاری ہے،ان کے وکیل حشمت حبیب دلائل دے رہے ہیں۔

چھ جون کو ہونے والی سماعت کے موقع پر گواہ نے اسحاق ڈار کی بینک ٹرانزیکشن کا ریکارڈ عدالت میں پیش کیا تھا،جن میں آٹھ الیکٹرانک ٹرانزیکشن شامل تھیں۔
اس موقع پر نیشنل بینک کے صدرسعید احمد نے عدالت کو بتایا کہ میری طبیعت خراب ہے ڈاکٹر نے چلنے سے منع کیا ہمیں جانے کی اجازت دی جائے جس کے بعد عدالت نے ان کی استدعا منظور کرلی۔

دوران سماعت معاون وکیل معظم حبیب کا موبائل بول پڑا جس پر عدالت نے وکیل معظم حبیب کو دو ہزار جرمانہ عائد کیا، بعد ازاں عدالت نے اسحاق ڈار کیخلاف آمدن سے زائد ضمنی ریفرنس میں نامزد ملزم صدر نیشنل بنک سعید احمد کی بریت کی درخواست تیرہ جون کو سماعت کے لیے مقررکردی تھی۔اس سے قبل تیس مئی کو ہونے والی سماعت کے موقع پر وکیل صفائی قاضی مصباح نے استغاثہ کے گواہ مسعود الغنی پر جرح کی، مسعود الغنی کا تعلق بینک الفلاح سے تھا، وکیل صفائی کی جانب سے استغاثہ کے گواہ پر جرح مکمل ہوئی تو احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے کیس کی سماعت ساڑھے گیارہ بجے تک ملتوی کرتے ہوئے ریمارکس دئیے کہ دوسرے سیشن میں گواہ محمد عظیم پر جرح کی جائے گی۔وقفے کے بعد دوبارہ کیس کی سماعت شروع ہوئی توصدر نیشنل بینک سعید احمد نے کیس سے بریت کی درخواست دائر کی ،درخواست میں کہا گیا تھا کہ سعید احمد نے کوئی بینک اکاؤنٹ کھلوائے نہ ہی کسی کو فائدہ پہنچایا۔

سماعت ملتوی ہونے سے قبل وکیل صفائی قاضی مصباح نے گواہ محمد عظیم پر جرح کی، اس موقع پر نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ سوال مختصر کرلیں تاکہ جرح مکمل ہو جائےایک سوال بار بار کریں گے تو وقت ضائع ہو گا۔

جس پر وکیل صفائی قاضی مصباح نے نیب پراسیکیوٹرعمران شفیق کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وکالت کا شعبہ جوش اور جذبے کا شعبہ ہے حوصلہ رکھیں، میں بھی جو چیزیں ضروری ہیں وہی پوچھ رہا ہوں۔

دوران سماعت نیشنل بینک کے صدر سعید احمد کے وکیل نے عدالت میں استدعا کی کہ وہ عمرے پر جانا چاہتے ہیں، جس پر جج محمد بشیر نے کہا کہ ٹرائل جاری ہے،اس مرحلے پر کیسے جا سکتے ہیں، پہلے ہی سعید احمد کے سینئر وکیل حشمت حبیب نہیں آ رہے، جس پر معاون وکیل حشمت حبیب نے بتایا کہ حشمت حبیب بیمار ہیں گزشتہ سماعت پر وہیل چیئر پر آئے تھے۔

اس موقع پر نیب پروسیکیوٹر عمران شفیق نے عدالت میں موقف اختیار کیا کہ یہ سب تاخیری حربے ہیں کیس کو چلنے نہیں دیا جا رہا ہے، ایک وکیل بیمار ہے دوسرا عمرہ پر جا رہا ہے، بعد ازاں کیس کی سماعت ساڑھے گیارہ بجے تک ملتوی کردی گئی تھی۔گواہ محمد نسیم کی فرانزک رپورٹ کے مطابق دستخط بھی سعید احمد کے دستخط سے نہیں ملتے، چار گواہوں میں سے ایک گواہ نے بھی سعید احمد کے خلاف گواہی نہیں دی ۔ لہذا عدالت اسحاق ڈارضمنی ریفرنس سے سعید احمد کو بری کرنے کا حکم جاری کرے۔

SHARE

LEAVE A REPLY