چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس ثاقب نثار نے آج چھٹی کے روز لاپتہ افراد کے مقدمات کی سماعت کی، چیف جسٹس نے لاپتہ افراد کے لئے خصوصی سیل قائم کرنے اور تمام درخواستوں پر کارروائی کا حکم دے دیا۔

چیف جسٹس آف پاکستان ثاقب نثار نے آج سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں لاپتہ افراد کے حوالے سے مقدمات کی سماعت کی، ڈی جی رینجرز اور آئی جی سندھ سمیت حساس اداروں کے اعلی افسران کو طلب کیا گیا۔ کراچی رجسٹری کے باہرلاپتہ افراد کے اہل خانہ کی بڑی تعداد پہنچی جنھوں نے اپنے پیاروں کی تصاویر اٹھائے احتجاجی مظاہرہ بھی کیا۔

لا پتہ اشخاص کی بازیابی کیس کی سماعت کیلئے آئے لوگوں کا کہنا تھا کہ ہمیں یہ تک علم نہیں کہ ہمارے پیارے زندہ بھی ہیں یا نہیں۔ چیف جسٹس نے لاپتہ افراد کے اہل خانہ سےدرخواستیں وصول کیں۔ درخواست گزاروں نے شکایات کے انبار لگا دیئے۔

عدالت میں درخواست گزار نیلم نے چیف جسٹس کو بتایا کہ اس کے والد 14 ماہ سے لاپتہ ہیں، کمرہ عدالت میں خواتین کی چیخ وپکار کے باعث رینجرز اور پولیس طلب کر لی گئی، چیف جسٹس نے عدالت میں ہنگامہ ہونے پر سماعت ختم کر دی۔ چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ میرا کہنا بھی آپ لوگ نہیں مانے اور شور شرابا کرتے رہےآپ لوگوں نے عدالت کا تقدس پامال کیا، پولیس اہلکار پر ہاتھ کیسے اٹھایا ؟

ڈائس پر ہاتھ مارنے والی خاتون نے غیر مشروط معافی مانگ لی،چیف جسٹس نے لاپتا افراد کے لئے خصوصی سیل قائم کرنے اور تمام درخواستوں پر کارروائی کا حکم دیا۔

SHARE

LEAVE A REPLY