زلفی بخاری کا نام بلیک لسٹ سے نکالنے کا حکم

0
56

ہائی کورٹ نے عمران خان کے قریبی دوست زلفی بخاری کا نام بلیک لسٹ سے نکالنے اور ان پر سفری پابندیاں ختم کرنے کا حکم دے دیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق زلفی بخاری کی درخواست پر فیصلہ جسٹس عامر فاروق نے سنایا، فیصلے میں کہا گیا کہ زلفی بخاری پر سفری پابندیاں ختم کی جائیں،عدالت نے اپنے فیصلے میں حکم دیا کہ زلفی بخاری کا نام بلیک لسٹ سے نکالا جائے۔

عدالت نے دوسری درخواست میں بلیک لسٹ سے نام نکلوانے کی تحقیقات اور نور خان ائیر بیس سویلین کے استعمال کرنے کی تحقیقات کی استدعا مسترد کر دی۔اس سے قبل تین جولائی کو اسلام آباد ہائی کورٹ نے چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کے قریبی دوست زلفی بخاری کا نام بلیک لسٹ میں ڈالنے اور نور خان ایئربیس استعمال کرنے کے معاملے پر فریقین کے دلائل مکمل ہونے کے بعد فیصلہ محفوظ کیا تھا۔

دوران سماعت جسٹس عامر فاروق نے استفسار کیا کہ بلیک لسٹ سے متعلق قانون کیا ہے، درخواست ای سی ایل کی آئی اور نام بلیک لسٹ میں ڈال دیا گیا، غیر ملکی یا دہری شہریت رکھنے والے کو بلیک لسٹ کیسے کیا جا سکتا ہے، جس پاکستانی پاسپورٹ کو کینسل کیا اس کا نمبر کیا ہے۔اس موقع پر ڈپٹی اٹارنی جنرل نے کہا کہ زلفی بخاری کا پاسپورٹ نہیں شناختی کارڈ کینسل کیا جس پر فاضل جج نے کہا کہ شناختی کارڈ پر کیسے بلیک لسٹ کیا جا سکتا ہے، اس کی قانونی حیثیت کیا ہے جس پر اٹارنی جنرل نے کہا کہ یہ وزارت داخلہ کا اپنا ایس او پی ہے۔

جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیئے کہ آپ نے خود قانون بنا کر خود ہی توڑ دیا، پہلے نام بلیک لسٹ میں ڈالا پھر خود ہی نکال دیا جس پر ڈپٹی اٹارنی جنرل نے کہا کہ صوابدیدی اختیارات پر زلفی بخاری کو جانے کی اجازت دی گئی۔

فاضل جج نے ریمارکس دیئے کہ کون سے صوابدیدی اختیارات، یہ کوئی بادشاہت تو نہیں ہے، اس موقع پر انعام الرحیم ایڈووکیٹ نے کہا کہ زلفی بخاری کی جانب سے بلیک لسٹ سے نکالنے کی کوئی درخواست نہیں ہے۔دوران سماعت ڈپٹی پراسیکیوٹر جنرل نیب نے مؤقف اختیار کیا کہ نام ای سی ایل میں ڈالنے کی ہماری استدعا اب بھی برقرار ہے جب کہ زلفی بخاری کے وکیل نے عدالت سے استدعا کی کہ نام بلیک لسٹ سے نکالا جائے، کاروبار، بچے اور فیملی برطانیہ میں ہے،عدالت نے وکلا کے دلائل سننے کے بعد زلفی بخاری کا نام بلیک لسٹ سے نکالے جانے کے معاملے پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔

اس سے قبل پچیس جون کو زلفی بخاری نیب کے روبرو پیش ہوئے، ٹیم نے زلفی بخاری سے چھ آف شور کمپنیوں سے متعلق ڈیڑھ گھنٹے تک پوچھ گچھ کی اور سوال نامہ ان کے حوالے

SHARE

LEAVE A REPLY