سینئر قانون دان و سینیٹر فروغ نسیم نے کہا ہے کہ نواز شریف،مریم نواز اور کیپٹن (ر)صفدر کو سزا تمام آئینی و قانونی تقاضے پورے کئے جانے کےبعد سنائی گئی ،قانون میں ایسی کوئی شق نہیں کہ الیکشن قریب ہوں تو فیصلہ نہ سنایا جائے۔

میڈیا سے گفتگوفروغ نسیم نے کہا کہ ایون فیلڈ اپارٹمنٹس کی ضبطی اور قرقی کےلئے حکومت کو برطانیہ میں علیحدہ قانونی کارروائی کرنی پڑے گی اور وہاں کے ہائیکورٹ کے حکم بعد ہی فیصلے پر عمل درآمد ممکن ہوگا۔

انہوں نے مزید کہا کہ حسن نواز اور حسین نواز کے معاملے میں انٹر پول کے ذریعے اور لندن کے سول مجسٹریٹ کے ذریعے کارروائی کی جاسکتی ہے،یہ تاثر قائم ہونا ضروری تھا کہ پاکستان کوئی بنانا ری پبلک نہیں کہ جو جتنی چاہے کرپشن کرے اور بھاگ جائے،عدالتیں اور قانون اس کا کچھ بگاڑ نہ سکیں۔

فروغ نسیم نے یہ بھی کہا کہ کیس میں مواد اتنا زیادہ تھا کہ آج یہ فیصلہ آیا اور یہی فیصلہ آنا تھا، بنیادی کیس یہ ہے کہ کسی کے پاس اثاثے ہیں اور وہ منی ٹریل نہیں دے پارہا، نواز شریف 3 بار وزیر اعظم رہ چکے ہیں جبکہ 93 اور 94 میں یہ اثاثے لیے گئے تو یہ بچے چھوٹے تھے، لہٰذا منی ٹریل دینے کی ذمہ داری ان کے والد کی ہے جو کہ عوامی نمائندے رہے ہیں ۔

ایک سوال کے جواب میں فروغ نسیم کا کہنا تھا کہ قانون اور عدالتوں کا طریقہ کار ایک ہی ہے، کہیں ایسی کوئی شق نہیں کہ اگر الیکشن قریب ہوں تو کسی کیس کا فیصلہ نہ سنایا جائے جبکہ اس بات کا فیصلہ عدالت کرتی ہے کہ کن حالات میں فیصلہ ملتوی کیا جائے۔

فروغ نسیم نے کہا کہ ملزمان ملک کے باہر سے اپیل کرسکتے ہیں لیکن عدالت کا فیصلہ ان کی غیر موجودگی میں معطل نہیں ہوسکتا لہٰذا اپلیٹ کورٹ میں ان کا پیش ہونا ضروری ہے جس کے بعد ہی سزا کی معطلی ممکن ہے۔

بیرون ملک اثاثوں کی ضبطی سے متعلق انہوں نے کہا کہ پاکستان کے نیب آرڈیننس کے تحت اثاثے تو ضبط ہوگئے لیکن نیب آرڈیننس لندن میں نافذ العمل نہیں ہے، ’وائٹ بک‘ کے تحت حکومت پاکستان کو یوکے میں قانونی چارہ جوئی کرنی پڑے گی۔

انہوں نے کہا کہ لندن کے مجسٹریٹ کے پاس اختیار ہے کہ اگر کسی نے دنیا میں کہیں بھی جرم کیا ہو تو مجسٹریٹ سزا سنا سکتا ہے اور مجرم کو کسی اور ملک کے حوالے کرنے کا حکم بھی دے سکتا ہے۔

فروغ نسیم نے کہا کہ وفاقی حکومت اگر اثاثے ضبط کرنے کے لیے کارروائی نہیں کرتی تو توہین عدالت کی کارروائی ہوسکتی ہے۔

یاد رہے کہ احتساب عدالت نے ایون فیلڈ ریفرنس میں سابق وزیراعظم نواز شریف کو 10 سال، ان کی صاحبزادی مریم نواز کو 7 سال اور کیپٹن (ر) صفدر کو ایک سال قید کی سزا سنائی ہے۔

احتساب عدالے نے نوازشریف کو 80 لاکھ پاؤنڈ اور مریم نواز کو 20 لاکھ پاؤنڈ جرمانہ بھی کیا ہے اور ایون فیلڈ اپارٹمنٹس کو ضبط کرنے کا بھی حکم دیا ہے جب کہ عدالت نے کیپٹن (ر) صفدر پر جرمانہ نہیں کیا

SHARE

LEAVE A REPLY