ابھی تو مجھ کو کو کئی بار جنگ کرنا ہے،نقاش عابدی

0
55

گماں سا ہے یہ ملاقات آخری ہی نہ ہو
تمھارے ساتھ مری بات آخری ہی نہ ہو

جو انگ انگ سے جذبوں کا زور ابھرا ہے
تمھارے پیار کی بہتات آخری ہی نہ ہو

یہ سوچ کر ہی قدم ڈگمگائے جاتے ہیں
تمھاری آنکھ کی برسات آخری ہی نہ ہو

مجھے یہ ڈر ہے کہیں میرے نام سے پہلے
ترے لبوں پہ مناجات آخری ہی نہ ہو

عطا ہوئی ہے مجھے فصلِ گل کی رعنائی
یہ تیرے لطف کی سوغات آخری ہی نہ ہو

ملے ہیں ہم تو نہیں اور کوئی بھی خواہش
میں سوچتا ہوں کہ یہ رات آخری ہی نہ ہو

ابھی تو مجھ کو کو کئی بار جنگ کرنا ہے
مرے حریف تری مات آخری ہی نہ ہو
(نقاش عابدی)

SHARE

LEAVE A REPLY