اسلام آباد ہائیکورٹ: نواز، مریم اور صفدر کی اپیلوں پر نیب کو نوٹس

0
89

اسلام آباد ہائی کورٹ نےنواز شریف،مریم نواز اورکیپٹن (ر)صفدر کی ایون فیلڈ ریفرنس کے فیصلے کے خلاف اپیلوں پرنیب کو نوٹس جاری کر دیئے گئے۔

اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس محسن اخترکیانی اور جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب پر مشتمل دو رکنی بینچ اپیلوں کی سماعت کررہا ہے، عدالت نے تینوں درخواستوں کی علیحدہ علیحدہ سماعت کی۔عدالت نے مقدمے کا ریکارڈ بھی طلب کر لیا.

نواز شریف کے وکیل خواجہ حارث اور مریم نواز اور کیپٹن صفدر کے وکیل امجد پرویز اپنے معاون وکلاء کے ساتھ روسٹرم پر موجود تھے۔ جسٹس گل حسن اورنگزیب نےخواجہ حارث سے سوال کیا کہ نیب لندن فلیٹس کی قیمت بتانے میں ناکام رہا؟

خواجہ حارث نے جواب دیا کہ جی ہاں ایسا ہی ہے۔اس پر جسٹس کیانی نے کہا کہ سزا معطلی پر بھی نوٹس جاری کردیتے ہیں۔

خواجہ حارث نے کہا کہ مجھے 3 منٹ دیں کیس کے میرٹ کا بتا دیتا ہوں، فیصلے میں لکھا ہے کہ عام طورپر بچے والدین کے زیرکفالت ہوتے ہیں، دوران جرح واجد ضیاء نے تسلیم کیا کہ بچے نوازشریف کے زیرکفالت ہونے کے ثبوت نہیں ملے،بے نامی دارکی تعریف نیب آرڈیننس میں کردی گئی ہے،نواز شریف کویہ نوٹس ہی نہیں دیا گیا کہ کیا بچے اس کے زیرکفالت تھے یا نہیں،ان پرفردجرم عائد کی گئی کہ اثاثے بے نامی دارکے نام تھےکسی گواہ نے نہیں کہا کہ بچے نواز شریف کے بے نامی دار ہیں۔

جسٹس محسن اختر کیانی نے استفسار کیا کہ ٹائٹل دستاویزات ریکارڈ پرآئیں؟

خواجہ حارث نے جواب دیا کہ جی ان دستاویزات میں نوازشریف کا کوئی تعلق ثابت نہیں ہوتا،واجد ضیاء سے پوچھا انہوں نے کہانوازشریف کاکوئی براہ راست تعلق ثابت نہیں ہوا،کمپنیزکے کنٹرول سے متعلق بھی انہوں نے کہا کہ نوازشریف کا تعلق ثابت نہیں ہوتا۔

امجد پرویز نے کہا کہ مریم نوازکو2012میں موزیک فونسیکا کو لکھے گئے دو خطوط کی بنیاد پرسزا دی گئی،موزیک فونسیکا کے ان خطوط کا متن استغاثہ ثابت کرنے میں ناکام رہا،کیلیبری فونٹ سے متعلق صرف رابرٹ ریڈلے کی رپورٹ ہے، ماہر کی رائے ایک کمزور ثبوت ہوتا ہے۔

عدالت نے نوازشریف اور دیگر کی سزاؤں کی معطلی کی اپیلوں کی سماعت جولائی کے آخری ہفتے تک ملتوی کرتے ہوئےتفتیشی افسر نیب اور پراسیکیوٹر نیب کو آئندہ سماعت پر پیش ہونے کا حکم دے دیا۔

SHARE

LEAVE A REPLY