ہمیں بہت خوشی اور فخر ہے کہ کہ ہمارے اندر اتنی قومیت جاگی ہے کہ ہم سب نے ہی اپنے ملک اور قوم کے لئے بولنے کی جسارت کی ۔ہمیں یہ بھی امید ہے کہ ہم سب مل کر اپنے ملک کو سنبھال بھی لینگے اور اپنی برائیوں پر قابو بھی پا لینگے ۔ضروری ہے کہ اب صرف اور صرف ملک کے لئے آنے والی نسلوں کے لئے سوچا جائے ۔جو کچھ اچھا ہو اُس میں ساتھ دیا جائے جہاں غلطی ہو سخت تنبیہ کی جائے تاکہ ہم اُن مفادات کو حاصل کر سکیں جو کسی بھی قوم کو اُبھرنے میں مدد دیتے اور مشکلوں سے نکلنے میں معاون ہوتے ہیں ۔اب تک بہت کچھ کھویا سب سے زیادہ اب اپنی اقدار کا پرچار ہونا چاہئے ،وہ اقدار جو کسی بھی معاشرے کا طرہ امتیاز ہوتی ہیں اور اُسکی پہچان بنتی ہیں ۔
اللہ کا شکر کہ انتخاب کا مرحلہ بہ خیر و خوبی مکمل ہوا ۔لیکن حسب ِعادت ہر ہارنے والا شور کر رہا ہے کہ دھاندلی ہوئی ۔جس شور کا سب کو ہی پتہ تھا کہ یہ وا ویلا ہر صورت اُٹھے گا ۔جبکہ حالات اسی قسم کا نتیجہ دکھا رہے تھے ۔ہم نے اپنے جتنے رشتے داروں سے کراچی میں اور مختلف شہروں میں بات کی سب نے ہی بتایا کہ پہلے تو ہمارے ووٹ ہمارے جانے سے پہلے ہی ڈال دئے جاتے تھے ۔لیکن اس دفعہ ہم نے بڑے اطمینان سے ووٹ ڈالے ۔ہمیں خوشی ہوئی ورنہ ہمیں ہر دفعہ یہ ہی سننے کو ملتا تھا کہ ووٹ ڈل چکا تھا جب ہم گئے ،جس کی وجہ سے بہت سے لوگوں نے الیکشن کے دن جانا ہی چھوڑ دیا تھا ۔اس دفعہ لوگوں نے جس جزبے کے ساتھ ووٹ ڈالا وہ بھی سب نے دیکھا ۔ہماری سمجھ میں ایک بات نہیں آئی کچھ لوگ کہتے ہیں کہ یہ پہلے سے انجنئیر ایلکشن تھے اب ہم یہ سوچ رپہے ہیں کہ کیا انجینئر کر کے لوگوں کو گھروں سے نکالا جا سکتا ہے ؟؟؟ کیونکہ ووٹ تو لوگوں نے ڈالے ہیں اور لمبی لمبی لائینیں ہم سب نے بھی ٹی وی اسکرین پر دیکھی ہیں ۔لیکن اگر وہ سچے ہیں تو ضرور وہ ثبوت دکھانے چاہئیں جن سے ثابت ہو کہ ایلیکشن میں کسی بھی قسم کی پہلے یا بعد دھاندلی ہوئی ہے یہ بھی ایک زمے داری ہے ہم سب کی کہ غلط باتوں کی نشاندہی کریں تاکہ زمے داروں سے نمٹا جا سکے اور آنے والے وقت میں یہ باتیں وجئہ تنازعہ نہ بنیں ۔ہم سب نے اپنی خاموشی اور پردہ رکھنے کے انجام دیکھ لئے ہیں ۔جو بھی ملوث ہیں ہمت کر کے سامنے لے آنا چاہئے ۔ایلیکشن کمیشن کو اپنے اوپر لگنے والے الزامات کا تسلی بخش جواب دینا چاہئے ۔کیونکہ یہ الیکشن انہوں نے اور کئیر ٹیکر حکومت نے کرائے ہیں انہیں جواب دہ ہونا چاہئے ۔
مخالفت ضرور ہونی چاہئے مگر جائز ۔ہماری تو ایک ہی سوچ ہے کہ اب سب کچھ بھول کر سارے منتخب اور غیر منتخب لوگوں کو صرف اور صرف پاکستان کا مفاد سامنے رکھنا چاہئے بہت نوچ کھسوٹ لیا پاکستان کو۔ بس اب اس پر رحم کرو اور کام کرو اچھے کام تاکہ لوگوں کی بہتری ہو ۔ایک اچھی ٹیم سامنے آئی ہے اسکی مدد بھی کرنی چاہئے اور حوصلہ افزائی بھی کیونکہ حالات بہت مشکل اور سنجیدہ ہیں ۔ہمیں اپنے مسائل کو حل کرنے کی طرف قدم بڑھانے چاہئیں ۔اب تک سب اپنے اپنے لئے لڑتے رہے اب پاکستان کے لئے لڑو اُن محازوں پر جن کا ہمیں سامنا ہے ۔ حالات پُل صراط کی طرح ہیں تمام ہی جیتنے والوں اور ہارنے والوں کو ایک دوسرے کے احترام اور عزت کے ساتھ اب اس ماحول کو بھی بدل لینا چاہئے ،بہت کر لی سیاست بہت کرلی مخالفت اب سب مل کر ایک ہوکر اچھائیوں کا ساتھ دو اور برائیوں کو روکنے کی کوشش کرو ۔اسی میں ہم سب کی بھلائی ہے ۔
ہمیں الزامات کی سیاست بھی ختم کرنی ہوگی ۔لیکن اگر کسی کے خلاف ثبوت ہیں تو اُس پر عدلیہ کو بھی نوٹِس لینا چاہئے اور حکومت کو بھی لیکن انتقامی کارروائی کہیں بھی نہیں ہونی چاہئے ۔ابھی حکومت نہیں بنی لیکن جس قسم کی تجزیہ نگاریاں سُننے کومل رہی ہیں ہمیں انہیں سُن کر بھی دکھ ہوتا ہے ہمارے تجزیہ نگاروں کو بھی سچ بات کرنی چاہئے کہیں وہ بالکل حق میں ہو جاتے ہیں کہیں وہ بخئے اس قدر اُدھیڑنے لگتے ہیں کہ سمجھ نہیں اآتا کہ ان کا تجزیہ کس کے فائدے میں ہے اور کسے نقصان پہنچائے گا ۔کچھ تجزیہ نگار پارٹی لیڈر سے اس وجہ سے ناراض رہتے ہیں کہ اُس نے انکی بات پر توجہ نہیں دی ِ؟؟ ہماری سمجھ میں یہ نہیں اآتا کہ جو پارٹی چلا رہا ہے وہ اپنی پارٹی کو زیادہ سمجھتا ہے یا باہر بیٹھے لوگ ۔لیکن وہ اس قدر سختی سے اپنا موقف بیان کرتے ہیں کہ ہم سوچنے پر مجبور ہو جاتے ہیں کہ ایجنڈا کیا ہے ؟؟
تمام مولانا حضرات اپنے مشن پر ہیں ہمیں تو اپنی اتنی عمر میں کبھی یاد نہیں کہ انہیں تین چار سے زیادہ سیٹیں ملی ہوں اور اب کہہ رہے ہیں کہ دیکھینگے کیسے یہ لوگ پارلیمنٹ میں جاتے ہیں تو مولانا صاحبان آپ سب یہ ہی تو کرتے آئے ہیں پاکستان کے ساتھ ۔آپ کو لوگوں نے مسترد کیا ہے ؟؟؟؟ اب اگر آپ ھنگامے اور احتجاج کی سیاست کو اپنائینگے تو یقین جانیں رہی سہی سیٹیں بھی اگلی دفعہ نہیں ملینگی ۔ہمیں تو ایک کشمیری کی بات سن کر حیرت ہوئی جب اُس نے کہا کہ اب ہوگی کشمیر کے لئے کچھ بات انہوں نے تو دس سال تک صرف دورے ہی کئے کس لئے ہمیں پتہ نہیں ِ؟ہم کیونکہ اس بارے میں کچھ نہیں جانتے اس لئے خاموش رہے ۔
مولانا کے ایک ساتھی نے ایک پروگرام میں فرمایا کہ یہ حکومت بنائینگے تو بے شرمی بڑھے گی ۔عورت باہر نکلے گی مفہوم کچھ ایسا ہی تھا ۔ہمیں حیرت ہوئی کیا اب عورت باہر نہیں نکلتی کیا آج عورتیں گھروں میں بند ہیں جیسا کہ آپ چاہتے ہیں ۔ مولانا صاحب اگر عورتوں نے پاکستان کی آزادی کی تحریک میں قائد کا ساتھ نہ دیا ہوتا تو آج آپ ایک آزاد ملک میں سانس نہ لے رہے ہوتے آپ کو کسی بھی بات کی آزادی نہ ہوتی ۔عورت کو آپ کہیں سے بھی نہیں نکال سکتے وہ حکومت ہو یا ادارے ۔آپ تو یہ بھی نہیں چاہتے کہ عورت اپنا حقِ رائے دہی استعمال کرے ۔اب یہ سب کچھ ہورہا ہے جو آپ کے لئے سوہانِ روح ہے ۔کیا آپ بتا سکتے ہیں کس جگہ کون سی خاتوں بے شرمی سے ووٹ ڈال رہی تھی یا کسی غیر اخلاقی حرکت کا مرتکب ہو رہی تھی ۔ساری ہی انتہائی محترم خواتین ہیں جن کے بغیر آپ ایک قدم نہیں بڑھا سکتے ۔لیکن جلسے میں خواتین ہوں تب آپ عورتوں کے لئے اُلٹی سیدھی باتیں کرنے لگتے ہیں اور اب آپ فرما رہے ہیں کہ ہم اسمبلی میں انہیں جانے نہیں دینگے ۔مولانا نے ایک اور بہت مزے دار بات کی کہ ہم حلف نہیں اُٹھائینگے ہم سوچ رہئے ہیں کہ کیا ہارنے والے بھی حلف اُٹھاتے ہیں ؟؟؟÷
ہم یہ بھی یقین سے کہہ سکتے ہیں کہ اگر ایلکیشن کمیشن دوبارہ ایلیکشن کا اعلان کر دے گا تو سب سے پہلے یہ ہی مخالفت کرینگے کیونکہ شاید ایم، ایم، اے کو جو سیٹیں مل گئی ہیں اُن سے بھی ہاتھ دھونے پڑ جائینگے ۔اب تبدیلی آرہی ہے کسی ایک کی وجہ سے نہیں سب کی وجہ سے اُن سب کی وجہ سے جو پسے ہوئے تھے جو اپنے حقوق کے لئے دامن پھیلائے ہوئے تھے جنہوں نے سب کو آزما لیا ۔اس لئے آنے والوں کی راہیں بہت کٹھن اور دشوار ہیں ہماری دعا ہے کہ وہ کامیاب ہوں اُن تمام ارادوں میں جو انہوں نے باندھے ہیں ۔انہیں سخت مخالفت اور تنقید کا نشانہ بنایا جائیگا لیکن ثابت قدمی آسانیاں پیدا کر دے گی ۔ہماری استدعا ہے کہ بلا وجہ محاز آرائی سے گریز کیا جائے سب کو ساتھ لے کر چلا جائے کہ یہ ملک ہم سب کا ہے ہمیں سب کو ہی اس کے لئے سوچنا ہے اپنی زات سے ہٹ کر اپنے مفادات سے ہٹ کر ، اپنے کام پر توجہ دی جائے تاکہ کچھ آنسو پوچھے جا سکیں ۔سو فیصد رزلٹ کوئی بھی نہیں دے سکتا لیکن اُس کی طرف بڑھنے کا راستہ ضرور دکھا سکتا ہے اپنے عمل سے ۔
ہماری دعا ہے کہ تمام تر مشکلوں اور رکاوٹوں کے باوجود یہ حکومت بنے اور پاکستان کو پاکستان بنا کر دکھائے نہ پیرس نہ نیویارک ۔
میاں صاحب اسپتال چلے گئے ،اللہ صحت دے ۔آمین سُنتے ہیں یہ سب ایک تدبیر کے مطابق ہو رہا ہے ہمیں نہیں پتہ لیکن اتنا جانتے ہیں کہ جب کرپشن پکڑی جائے تو سب تدبیریں اُلٹی ہو جاتی ہیں ۔جب کروڑوں کے حق پر ڈاکمہ پڑے تو ساتھی کوئی نہیں ہوتا سوائے شامل رہنے والوں کے ۔سچ کھلتا ضرور ہے جلد یا بہ دیر ۔
اللہ نئے لوگوں کو ثابت قدم رکھے ،اُن کی مدد فرمائے اور سرخرو کرے آمین

SHARE

LEAVE A REPLY