اپوزیشن جماعتوں نے الیکشن کمیشن کے سامنے احتجاج کا فیصلہ کرلیا

0
89

انتخابات 2018 میں مبینہ دھاندلی پر احتجاج اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کو پارلمنٹ میں کڑا وقت دینے کے لیے اپوزیشن جماعتوں نے ’’پاکستان الائنس فار فری اینڈ فیئر الیکشن (پی اے ایف ایف ای)‘ تشکیل دیدی۔

ڈان سے بات چیت کرتے ہوئے ایکشن کمیٹی اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کے سینیٹر مشاہد حسین نے کہا کہ 11 جماعتوں پر مشتمل اپوزیشن الائنس اسلام آباد میں 8 اگست کو الیکشن کمیشن آف پاکستان (ای سی پی) کے باہر احتجاجی مظاہرہ کرے گی اور اگلے ہی روز صوبائی الیکشن کمیشن کے دفاترکے باہر احتجاج ہوگا۔

انہوں نے واضح کیا کہ پی اے ایف ایف ای اپنے نومنتخب امیدواروں کو بھی ای سی پی کے باہر احتجاج کے لیے کال کرے گی۔

اس حوالے سے ان کا مزید کہنا تھا کہ قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوران بھی اور پارلمنٹ کے باہر احتجاج کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

سینیٹر کا کہنا تھا کہ ’پارلمنٹ کے اندر اور باہر سخت احتجاج ہوگا لیکن اس کا دائرہ کار جارحانہ نہیں ہوگا‘۔

مشاہد اللہ نے کہا کہ اپوزیشن جلد ازجلد جماعتیں عوامی اجلاس کا ارادہ رکھتی ہیں تاہم ’دھاندلی پر نیشنل کانفرنس‘ کے انعقاد بھی سوچا جارہا ہے جس میں سول سوسائٹی، وکلاء اور صحافیوں کو مدعو کیا جائے گا۔

دیگر جماعتوں کے علاوہ مسلم لیگ (ن)، پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی)، متحدہ مجلس عمل (ایم ایم اے) اور عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی)، قومی وطن پارٹی، پختونخوا ملی عوامی پارٹی، نیشنل پارٹی، جمعیت علماء اسلام اور جماعت اسلامی، جمعیت علماء پاکستان (نورانی) نے مشترکہ حکمت عملی اپنانے پر اتفاق کیا ہے۔

مشاہد اللہ نے بتایا کہ اجلاس میں شہباز شریف کا نام بطور وزیراعظم زیر بحث آیا تاہم کوئی حتمی فیصلہ نہیں لیا گیا۔

علاوہ ازیں انہوں نےواضح کیا کہ شہباز شریف پارٹی کے کسی سینئر کا نام بھی تجویز کر سکتے ہیں۔

دوسری جانب پی پی پی میں ذرائع نے بتایا کہ قومی اسمبلی میں پارٹی کے اندر سید خورشدشاہ کو اپویشن لیڈر بنانے کےلیے گرین سگنل مل

چکا ہے۔

میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے پی پی پی کی رہنما شریں رحمٰن نے کہا کہ ایجنڈا اور منشور مختلف ہونے کے باوجود تمام جماعتوں نے’دھاندلی شدہ انتخابات‘ کو مسترد کردیا۔

انہوں نے الزام لگایا کہ ایک پارٹی کو ’مداخلت‘ کے ذریعے کامیاب کیا گیا اور وہ ’کٹھ پتلی حکومت کے خلاف لڑیں‘ گے۔

اے این پی کے افتخار حسین نے دعویٰ کیا کہ وہ ’وفاق میں حکومت بنانے کی پوزیشن میں ہیں‘۔

مسلم لیگ (ن) کے احسن اقبال نے واضح کیا کہ یہ ملکی تاریخ میں پہلی مرتبہ ہے کہ تمام بڑی سیاسی جماعتیں ایک پلیٹ فارم پر ہیں جنہوں نے انتخابات کے نتائج کو یکسر مسترد کیا۔

ایم ایم اے جنرل سیکریٹری لیاقت بلوچ کا کہنا تھا کہ تمام جماعتوں نے پارلیمنٹ میں جانے کا فیصلہ کیا اور ’آئین اور جمہوریت کے تحفظ‘ کے لیے مشترکہ کوششیں کی جائیں گی۔

انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن کو تمام اختیارات حاصل تھے لیکن وہ مبینہ طور پر اپنے اختیارات سے دستبردار ہو گیا۔

SHARE

LEAVE A REPLY