عام انتخابات 2018 میں 79 فیصد امیدواروں کو دوبارہ گنتی کا قانونی حق نہ مل سکا، قومی و صوبائی اسمبلیوں کے 248 حلقوں میں جیت کا مارجن 5 فیصد سے کم تھا۔

قانون کے تحت جیت کا مارجن پول ووٹوں سے 5 فیصد سے کم ہونے پر دوبارہ گنتی امیدوار کا حق ہے، الیکشن کمیشن اور ریٹرننگ افسران نے صرف 21 فیصد امیدواروں کو دوبارہ گنتنی کا قانونی حق دیا۔

قومی اسمبلی کے 79 میں سے 21 حلقوں میں جبکہ صوبائی اسمبلیوں کے 169 میں سے صرف 33 حلقوں میں دوبارہ گنتی کا حق دیا گیا۔ پنجاب میں 137، خیبرپختونخوا میں 47 ، سندھ میں 42 حلقوں میں جیت کا مارجن 5 فیصد سے کم تھا۔ عام انتخابات کے دوران بلوچستان کے 22 حلقوں میں جیت کا مارجن پول ووٹوں سے 5 فیصد سے کم تھا۔

خیال رہے فافن کی نئی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے قومی اسمبلی اور صوبائی اسمبلیوں کے 169 حلقوں میں مسترد ووٹ جیت کے مارجن سے زیادہ نکلے، 62 حلقوں میں پی ٹی آئی امیدواروں کو فائدہ ہوا۔ قومی اسمبلی کے 49 حلقوں میں مسترد ووٹ جیت کے مارجن سے زیادہ ہیں، صوبائی اسمبلیوں کے 120 حلقوں میں بھی صورتحال ایسی ہی ہے جہاں مسترد شدہ ووٹ جیت کے مارجن سے زیادہ ہے۔

قومی اسمبلی کے 49 حلقوں میں سے 21 میں پی ٹی آئی جبکہ 11 حلقوں میں ن لیگ کے امیدوار جیتے، اسی طرح 6 حلقوں میں پی پی، تین حلقوں میں بلوچستان عوامی پارٹی اور 2 حلقوں میں جی ڈی اے کامیاب ہوئی۔ رپورٹ میں یہ بھی انکشاف کیا گیا کہ صوبائی اسمبلیوں کے 120 حلقوں میں سے 41 پر تحریک انصاف کامیاب ہوئی۔ 29 حلقوں پر ن لیگ، 13حلقوں پر پی پی، 11 پر مجلس عمل اور 6 پر جی ڈی اے فتح یاب ہوئی۔ 6 حلقوں میں بلوچستان عوامی پارٹی، 9 میں آزاد جبکہ 2 حلقوں میں ایم کیو ایم کا امیدوار کامیاب ہوا۔

SHARE

LEAVE A REPLY