ڈاکٹر عبد الرحمن بارود فلسطین کے جدید اور مقبول شاعر

0
407

عالمی اخبار کی آرکائیو سے

ڈاکٹر عبد الرحمن بارود فلسطین کے جدید اور مقبول شاعر

انٹرویو: ڈاکٹرمحسن محمد صالح
ڈاکٹر عبدالرحمن بارود رحمتہ اللہ علیہ فلسطین کے جدید اور مقبول شعراء میں سے ایک ہیں۔ وہ فلسطین میں اخوان المسلمون کے ایک اہم ترین رہنما اور ان بانیوں میں سے تھے جنہوں نے غزہ کی پٹی کے نوجوانوں کی تربیت کی۔ ان کا شمار الاخوان کے ان منتظمین میں بھی ہوتا ہے جنہوں نے حماس کے آغاز اور ترقی میں بڑا کردار ادا کیا۔ حالیہ دنوں فلسطینی ثقافتی فاؤنڈیشن نے فلسطینی مشہور شعراء کا ایک دیوان شائع کیا جس میں 382 صفحات پر ڈاکٹر بارود کے اشعار بھی شامل کیے ہیں۔

میرا اس مقدس ہستی اور اسکے چاہنے والوں اور اسکے مریدوں کے ساتھ بہت گہرا تعلق رہا ہے۔ میرے خیال میں جدید فلسطینی تاریخ کے ساتھ شغف رکھنے والی اکیڈمیوں اور تحقیق کاروں کو ڈاکٹر بارود کے تجربات سے بہت کم آگاہی ہے۔ چنانچہ میرے خیال میں ڈاکٹر بارود کے ساتھ کیے گئے اس انٹرویو کی اشاعت تاریخی حوالے کے لیے بڑی مفید ثابت ہوسکتی ہے۔ تسلسل میں رکاوٹ کے خطرے کے پیش نظر انٹرویو کی عبارت سے سوالات حذف کردیے گئے ہیں۔

یہ انٹرویو سنہ 1948ء کی جنگ کے بعد کی فلسطین کی حالیہ تاریح کے حوالے سے کیے گئے میرے درجنوں دیگر انٹرویوز میں سے ایک ہے۔ استاد ڈاکٹر عبدالرحمن بارود رحمتہ اللہ علیہ نے 17 اپریل سنہ 2010ء کو وفات پائی. ڈاکٹرمحسن محمد صالح نے یہ انٹرویو 14 ستمبر 1998ء کو لیا.”

ابتدائی تربیت
میں نے سنہ 1937 ء میں بیت دراس گاؤں میں آنکھ کھولی اور سنہ 1948 ء میں اپنے خاندان کے ساتھ غزہ کی پٹی کی طرف ہجرت کی اور سنہ 1951 ء میں پٹی کی واحد اسلامی انجمن سے وابستہ ہو گیا۔ ’’جمعیہ التوحید‘‘ نامی اس تنظیم کی سربراہی ظافر الشوا کر رہے تھے۔ اس انجمن میں طلبہ کا ایک شعبہ بھی تھا جس کے زیر اہتمام ہر جمعرات کو بزم انجمن کا اہتمام ہوتا، یہ بزم بنیادی طور پر دینی موضوعات پر خطابت کے لیے سجائی جاتی تھی۔ تاہم اس بزم میں شرکت کرنے والے طلبہ قرآن مجید کی تلاوت اور اشعار پڑھ کر بھی اس بزم کی رونق دوبالا کرتے تھے۔

میں ھاشمیہ سکول میں زیر تعلیم تھا جو جمعیہ التوحید کے دفتر کے قریب ہی واقع تھا۔ یہ وہ وقت تھا جب میں اپنے اندر اشعار کہنے کی صلاحیت سے آشنا ہوا۔ ہمارے سکول میں بھی ایک ادبی انجمن تھی جوطلبہ کو ٹیلنٹ کے اظہار کا موقع فراہم کرتی تھی۔ یہاں ریاضی کے استاد ھارون ھاشم رشید تھے جو ایک اچھے شاعر بھی تھے، میں نے اشعار کی تصحیح کے لیے ان کی راہنمائی لینا شروع کردی، چند ساتھی طلبہ کو قریب موجود ’’جمعیہ التوحید‘‘ کے بارے میں آگاہی ہوئی۔ انہوں نے مجھے جمعیہ التوحید کی زیر اہتمام چلنے والی طلبہ کی بزم میں شرکت کرنے پرآمادہ کیا اور اس کی اہمیت سے روشناس کرایا۔ میں نے طلبہ انجمن کی کتابوں اور اس کے مجلوں سے استفادہ شروع کیا اور پھر باقاعدہ شعرلکھنا شروع کردیے۔

الاخوان المسلمون پر پابندی
1951 ء میں جب مصر میں وزارت پولیس قائم کی گئی تو جماعت الاخوان المسلمون کو سرکاری طور پر اپنی سرگرمیاں شروع کرنے کا عندیہ ملا اور اگلی صبح باقاعدہ اجازت دے دگی گئی، لوگ آپس میں ایک دوسرے کو مبارک باد دے رہے تھے، الجمعیہ التوحید کے کارکنوں نے کمرے میں سے ایک بینر نکالا، اسے صاف کر کے لٹکا دیا، اس پر لکھا ہوا تھا، ’’ الاخوان المسلمون‘‘ اس دن سے انجمن کے دفتر میں دو بینر لٹکا دیے گئے تھے ایک ’’ جمعیہ التوحید‘‘ اور دوسرا ’’ الاخوان المسلمون‘‘ کا۔

غزہ کی پٹی میں اخوان المسلمون کا آغاز
غزہ کے رہائشیوں نے شجاعیہ اور رمال کے علاقوں میں الاخوان کی بنیاد رکھی اور وسطی غزہ کی الدرج کالونی میں غزہ کی پٹی کی الاخوان کی قیادت کے لیے مرکزی انتظامی دفتر قائم کردیا گیا، الاخوان کے دیگر دفاتر خان یونس، رفح، دیر البلح، نصیرات، مغازی اور بریج میں قائم کیے گئے۔ الاخوان تنظیم کا ایک ممبرسازی کا دفتر بھی تھا جس میں لوگوں کے نام رجسٹر کیے جاتے تھے، یہ ایک کلب ممبر شپ کی طرح کی ممبر شپ تھی جس میں لوگوں کو ممبر شپ چھوڑنے کی سہولت بھی حاصل تھی۔ الاخوان ’’عرس‘‘ کے علاقے کے تک پھیل گئی تھی۔ ان دنوں الاخوان ایک ایسی تنظیم کی حالت پیش کررہی تھی جو خود بخود بڑھتی جارہی ہے۔ اس وقت لوگوں کو تیار کرنا اور ان کی تربیت کرنے کا خیال بہت کم تھا۔ الاخوان کے پاس علمی رسوخ کے حامل پختہ کار لوگوں کی کمی تھی، تنظیم کی اجتماعی سرگرمیوں میں ایسی شخصیات کی تیاری کے امکانات بھی نہ ہونے کے برابر تھے۔ تربیت کرنے والی ایسی قیادت جو تنظیمی کاموں کو احسن انداز میں چلا سکے انتہائی کم تھی۔ قیادت کی اس کمی کو مصر میں الاخوان کی قیادت کے ذریعے پورا کیا گیا چنانچہ مصر کی جانب سے غزہ کی پٹی کے لیے ایک مشن بھیجا گیا جس کا کام یہاں کے کارکنوں کی تربیت کرنا تھا، اس مشن میں شیخ محمد الغزالی، شیخ علی جعفراور شیخ محمد اباصیری جیسے لوگ شامل تھے۔ اباصیری نے پٹی میں ایک طویل عرصہ قیام کیا۔ غزالی اور اباصیری الاخوان کے ان علماء رہنماؤں میں سے تھے جو عوام میں بھرپور تاثیر رکھتے تھے۔ ان علماء کا الاخوان کے فلسطینی کارکنوں اور عامہ المسلمین پر پورا اثر ورسوخ قائم تھا۔

الاخوان کے علاوہ فلسطین میں کمیونسٹ بھی سرگرم تھے۔ کمیونسٹ اگرچہ اقلیت میں تھے مگر یہ بہت منظم تھے انہوں نے علاقے میں بڑی طاقت ور مہم چلا رکھی تھی تاہم ان کا اخلاقی رویہ لوگوں میں مقبول نہ ہوسکا ۔ لوگ ان کی نماز کو یہودیوں کے مشابہ قرار دیتے تھے۔ یہ ہی وجہ کمیونسٹوں کے بڑے پیمانے پر پذیرائی کے راستے کی سب سے بڑی رکاوٹ تھی۔

الاخوان پر سے پابندی کے خاتمے کے کچھ عرصے میں ہی جمعیہ التوحید اور الاخوان المسلمون الگ ہوگئیں، الشوا التوحید کےسربراہ رہے انہوں نے الاخوان کو چھوڑ دیا، مصر سے تعلق رکھنے والے غزہ کی بلدیہ کے صدر شیخ عمر صوان نے غزہ میں الاخوان کے صدر کی نشست سنبھالی، اس وقت الاخوان کی مقبول قیادت شیخ ھاشم الخازندار، الحاج زکی السوسی، الحاج زکی الحداد، الحاج صادق المزینی اور الحاج عودہ الثوابتۃ پر مشتمل تھی۔

الاخوان کی طلبہ کا بھی ایک ونگ تھا جس کی اپنی انتظامی باڈی تھی، میں نے ریاض الزعنون، محمد صیام، علی الزمیلی اور عبدالقادر ابو جبارہ کے ہمراہ اس کی رکنیت حاصل کی۔ الاخوان کے کارکنوں کے درمیان گہری اخوت، سچائی اور ایک دوسرے کی مدد کرنے کا جذبہ بدرجہ اتم موجود تھا، اپنی تنظیمی سرگرمیوں کے دوران ہر کوئی دوسرے کو اپنے ساتھ کھانے میں شریک کرتا تھا، صرف دو روٹیاں اور تھوڑا بہت سالن لانے والا شخص بھی دوسروں کو بخوشی کھانا کھلانے پر راضی ہوتا تھا، یہاں پر کھانے کی ایک کمیٹی بنی ہوئی تھی جو ہر ایک سے اس کا انفرادی کھانا جمع کرتی اور پھر اسے سب پر برابر تقسیم کردیتی تھی، یہ بڑی حیران کن چیز تھی، میں اس عمل کی بہت تعریف کرتا تھا۔ سکاؤٹنگ کے انتہائی پرجوش ٹور کیے جاتے تھے۔ جس میں حملہ کرنے، دفاع کرنے اور قید کرنے کے کھیل بھی ہوتے تھے۔ الاخوان کے لیے جہاد کرنے کی دعوت و تحریک چلتی رہی، اسرائیلیوں کے مقامات کی تلاش کا کام بھی جاری رہتا تھا۔

الاخوان المسلمون کی باقاعدہ عملی سرگرمیوں کی اجازت سے قبل الرمال میں جمعیہ التوحید کےعلاوہ بھی ایک گروپ کام کررہا تھا یہ گروپ منفرد طور پر بڑا فعال تھا، اس میں تقریبا 12 افراد تھے۔ ان کی سربراہی جمیل العشی کررہے تھے جو مصر میں قانون کی تعلیم حاصل کررہے تھے، دوسرے رہنما مطیع بغدادی بھی ازھر یونیورسٹی میں پڑھتے تھے۔ ان کا الاخوان کے ساتھ گہرا تعلق تھا، جیسے ہی الاخوان پر سے پابندی ہٹائی گئی یہ لوگ فورا الاخوان میں شامل ہوگئے۔

الاخوان کو 1954 ء میں جمال عبدالناصر کی جانب سے بڑا دھچکا لگا بہت سے کارکنوں نے خوف میں آکر جماعت سے علیحدگی اختیار کرلی۔ اسی طرح ناصری سیکیولرزم نے بھی زورپکڑنا شروع کیا، دوسری طرف کمیونسٹ، قوم پرست اور بدھ مت بھی بڑی تیزی سے پھیلنے لگے تھے۔ الاخوان کی کمزوری کا عالم یہ تھا کہ عمر صفوان نے خود ہی عبد الناصر کو الاخوان ختم کرنے کی تائید کا خط ارسال کردیا۔

الحاج زکی الحداد کی عمر پچاس کے لگ بھگ تھی وہ ایک ایک کمزور شخص تھے۔ وہ ہمیشہ ایک ہی سوٹ زیب تن کیے رکھتے وہ ایک بڑے پراثر خطیب تھے لیکن وہ نحو میں کمزور تھے۔ وہ یہ ظاہر کرتے تھے کہ ان کا قسام سے تعلق ہے۔

مصری یونیورسٹیوں میں پڑھنے اور الاخوان میں شامل ہونے والے فلسطینی نوجوان گرمیوں میں غزہ کی پٹی لوٹتے تو بڑا موثر کردار ادا کرتے تھے۔ گرمیوں میں پٹی میں الاخوان کی سرگرمیاں عروج پر پہنچ جاتی تھیں۔ ان افراد میں ھانی بسیسو، حسن عبد الحمید، عمر ابو جبارہ، سلیمان الاغا اور زھیر العلمی سرفہرست تھے۔

الاخوان کے انتظامی اور عسکری معاملات
الاخوان نے اپنا ایک زیر زمین عسکری ونگ بھی تشکیل دیا جس کا علم مصری قیادت کوتھا مگر غزہ کی پٹی میں موجود روایتی رہنماؤں کو اس بارے میں کچھ نہ بتایا گیا تھا، روایتی قیادت کوبہت بعد میں اس کا احساس ہوا جس سے انہیں انتہائی تکلیف بھی ہوئی، اس عسکری گروپ میں خلیل الوزیر، محمد الافرنجی وغیرہ شامل تھے، ان کا کام جہادی عسکری کارروائیاں کرنا تھا، ان کی سرگرمیوں میں تربیت، مائنز بچھانے والے افراد کی تشکیل اور اسرائیلیوں کے خلاف بمباری کرنا شامل تھا، ان سب کارروائیوں میں اس گروہ کو مصری افسران کا تعاون بھی حاصل تھا، ان افسران نے الاخوان کے کارکنوں کو فدائی تربیت کے ساتھ اسلحہ اور بم چلانا بھی سکھائے، ان افسران میں سرفہرست عبد المنعم عبد الرؤوف تھے۔ انہوں نے الاخوان کے بعض کارکنوں کو خفیہ طور پر مصری آرمی کی کیمپوں میں طیارہ شکن گن چلانا سکھائی، 1953 ء تا 1954 ء میں نے بھی تھوڑا بہت ان سرگرمیوں میں حصہ لیا، یہ عمل عبدالناصر کی جانب سے الاخوان کے خلاف کارروائی تک کئی سال چلتا رہا۔

الاخوان پر حملہ
1954 ء میں الاخوان پر حملہ کیا گیا اور غزہ کی پٹی کے کئی نوجوانوں کو گرفتار کرلیا گیا، ان نوجوانوں میں حسن عبد الحمید، عمر ابو جبارہ، عبد الحمید النجار اور سمنی بھی شامل تھے۔ یہ سب مصری یونیورسٹیوں میں پڑھتے تھے۔ ان کو پانچ سال قید کی سزا سنائی گئی۔

الاخوان پرلگائی جانے والی پابندی اور اس کے خلاف کیے جانے والے آپریشن کے بعد اس کے ساتھ منسلک رہنے والوں کی اکثریت طلبہ کی تھی، الاخوان سے وابستہ غیر طلبہ کارکنوں کی تعداد انتہائی کم رہ گئی تھی۔ غزہ اور اس کے نواح (جبالیا کیمپ اور ساحلی علاقے) میں صرف 60 طلبہ اور 20 دیگر افراد الاخوان کی رکنیت کے حامل تھے۔ اس دوران جید مسلمانوں کے ایک گروہ نے تنظیم کے انتظامات کو خفیہ طور پر سنبھالے رکھا۔ آہستہ آہستہ مصر کی یونیورسٹیوں میں تعلیم حاصل کرنے کے لیے جانے والے بہت سے طلبہ یہاں پر موجود الاخوان سے منسلک طلبہ کی ترغیب کے نتیجے میں الاخوان میں شمولیت اختیار کرنے لگے، اس طرح قاھرہ میں الاخوان سے محبت کرنے والوں کی ایک بڑی تعداد جمع ہوگئی تھی۔ 1955 تا 1962 الاخوان کی بڑی قیادت غزہ کی پٹی میں موجود رہی جن میں اسماعیل الخالدی، محمد ابودیہ، عبداللہ ابو عزہ، عبد الفتاح دخان، حماد الحسنات، محمد طہ اور محمد حنیدق جیسے لوگ شامل ہیں۔

الاخوان کی سرگرمیاں مصری یونیورسٹیوں میں
عبد الناصر کی جانب سے الاخوان کے خلاف کیے گئے کریک ڈاؤن سے قبل فلسطین کے اخوانی مسلمان بڑی آزادی سے مصری یونیورسٹیوں کا دورہ کرتے تھے۔ مصری یونیورسٹیوں میں موجود ان فلسطینیوں نے فلسطینی طلبہ کی رابطہ تنظیم بھی بنا رکھی تھی۔ اس طلبہ رابطہ تنظیم کے بانیوں میں ھانی بسیسو، سلیم الزعنون، ماجد المزینی، صلاح خلف اور یاسر عرفات کے نام سرفہرست ہیں۔ الازھر یونیورسٹی میں الاخوان کے کارکن طلبہ کی تعداد بہت زیادہ تھی، طلبہ رابطہ تنظیم کے انتخابات میں الاخوان کے نمائندے کامیابی حاصل کرنے لگے تھے۔

طلبہ رابطہ تنظیم میں الاخوان کے اثرات عبد الناصر کے الاخوان پر حملے کے بعد موجود رہے۔ میں سنہ 1955/1957 ء میں تعلیم حاصل کرنے کے لیے ازھر یونیورسٹی گیا، اگلے سال 1956/1957ء میں الاخوان نے حقیقی شہرت کے حصول کے لیے مجھے طلبہ رابطہ تنظیم کا امیدوار کھڑا کردیا۔ میں اپنی اسلامی وابستگی کے حوالے سے بہت معروف تھا، اسی وجہ سے یہ توقع نہیں تھی کہ مجھے منتخب کیا جاتا میری تائید کرنے والے صرف الاخوان کے لوگ ہی تھے۔ اس کڑے وقت میں بھی میں نے 400 ووٹ حاصل کیے۔ جبکہ رابطہ تنظیم کے کل ارکان صرف 1500 تھے ( ان میں سے صرف ایک ہزار افراد نے انتخابات میں شرکت کی تھی)

فتح تحریک کا آغاز
فتح تحریک کی داغ بیل اس وقت ہی ڈال دی گئی تھی جب عبد الناصر نے اخوان المسلمون پر پابندی لگائی تھی۔ فلسطینی اخوانیوں نے یہ سمجھ لیا کہ الاخوان کا راستہ بہت طویل ہے۔ چنانچہ انہوں نے اپنی سرگرمیوں اورتوجہ کا محور فلسطین کو بنانا شروع کردیا اور ملکی خطوط پر اپنی تحریک استوار کی۔ یہ سب کچھ عبد الناصر کی حکومت سے دوررہ کرکیا جارہا تھا۔ اس طرح فتح کی تحریک بڑے خفیہ انداز میں شروع ہوئی۔ ظاہری طور پرالاخوان کے لوگ اپنے بھائیوں میں اخوانی شمار ہوتے تھے، صرف اعتماد والے خاص طور پرالاخوان کے لیے جہادی کارراوائیاں کرنے والے لوگوں کو ان کی حقیقت کے بارے میں علم ہوتا تھا۔ اخوان کے کارکنوں کو چن چن کر فتح میں شامل کیا جانے لگا، فتح کا قیام دراصل فلسطینی مسلمانوں کی الاخوان کی قیادت کی جانب سے جہادی تنظیم بنانے کی ایک کوشش تھی مگر اس وقت کے نامساعد حالات میں اس کا اعلان نہیں کیا جا سکتا تھا۔

میرے خیال میں اس زمانے میں الاخوان میں فتح کو اپنے اندر ضم کرنے کی صلاحیت نہیں تھی یہ چیز الاخوان کی استطاعت سے باہر تھی۔ عبد الناصر کی مدد ( 1967 ء کی جنگ کے اختتام پر) اور الاخوان کی مخالفت کرنے والی کئی دیگر تنظیموں کے مدد نہ ہوتی فتح اپنے پیروں پر کھڑی نہ ہوسکتی۔ دراصل الاخوان کے پاس ایسی مضبوط قیادت بھی نہیں تھی جو فتح کے حامیوں کو اپنے منصوبوں کے خلا کو پر کرنے پر آمادہ کرتی، اسی طرح الا خوان کی قیادت الاخوان چھوڑ کر فتح میں داخل ہونے والے اپنے کارکنوں کی نظروں میں اخوانی منصوبوں کے اس خلا کرنے پر قادر نہیں تھی یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ الاخوان سے نکل کر فتح میں شامل ہونے والے نوجوانوں کا میلان دین سے زیادہ اپنے ملک اور وطن کی طرف زیادہ تھا، جیسے ہی الاخوان کو جارحیت کا نشانہ بنایا گیا یہ ملکی جھکاؤ فتح کی صورت میں کھل کر سامنے آگیا۔

مصر میں اخوان المسلمون کی خفیہ سرگرمیاں جاری رہیں، اخوانی سرگرمیوں کی روح رواں ان دنوں عدنان نحوی تھے۔ ان کا گھر اخوانی سرگرمیوں کا مرکز تھا، اخوان المسلمون کے دیگر منتظمین میں احقر( عبدالرحمن بارود)، محمد صیام، ریاض الزعنون شامل تھے، تعلیم مکمل کر کے نکلنے والے یونیورسٹی کے طلبہ کو غزہ کی پٹی، کویت، سعودیہ اور قطر وغیرہ میں تنظیمی کاموں کے لیے مبعوث کردیا جاتا تھا۔

فلسطینیوں کی الاخوان کا آغاز
غزہ کی پٹی میں فلسطینیوں نے اپنی الاخوان منظم کرلی اور اس کو پھیلانا شروع کیا، فلسطینی رہنماؤں نے خان یونس کے غربی علاقے سوافی میں اجتماع منعقد کیا، اور فلسطینی الاخوان کی بنیاد رکھی، میرے خیال میں یہ کوئی 1962 ء یا 1963 ء کی بات ہے۔ اس دوران ھانی بسیسو عراق میں کام کررہے تھے انہیں تنظیم کی قیادت کے لیے بلایا گیا وہ اعلی تعلیم کے حصول کی آڑ لے کر مصر میں آئے اور اس تنظیم کی قیادت سنبھالی، وہ فلسطینی الاخوان کے پہلے زمام کار بنے۔

ھانی بسیسو ایک پست قامت، کمزور اور سفید رنگت شخص تھے۔ بسیسو کا خاندان معروف خاندان تھا، ان کی مالی حالت بھی دوسروں کے مقابلے میں کافی بہتر تھی۔ ان کا گھر شجاعیہ میں تھا، ھانی اس اولین لوگوں میں سے تھے جو نکبہ کے بعد تعلیم حاصل کرنے مصر کی یونیورسٹی گئے تھے۔ انہوں نے مصر میں ہی الاخوان میں شمولیت اختیار کی اور انہوں نے لاء میں اسپیشلائزیشن کی۔ ھانی کم گو، دانشور، منظم، پختہ ارادوں کے سادہ اور فقیرانہ مزاج رکھنے والے ایک عاجز شخص تھے۔ سخاوت ان میں کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی تھی۔

سنہ 1954 ء سے قبل ھانی نے 12 نوجوانوں کی تربیت کی، اور انہیں الاخوان کی قیادت کے لیے تیار کیا، انہیں بارہ افراد میں میں بھی شامل تھا، ایک مرتبہ انہوں نے ہمیں مسجد میں دعوت کی ذمہ داری سونپی، ہمارے علاقے میں کوئی مسجد نہیں تھی چنانچہ میں نے الرمال کے علاقے کی مسجد میں جاکر تنظیم کی دعوت کا کام کیا،

ھانی بسیسو کے ساتھ جیل کی رفاقت
سنہ 1965 ء میں سید قطب اور الاخوان کے کارکنوں کی ایک بڑی تعداد کو گرفتار کرلیا گیا ان پر حکومتی نظام کے خلاف سازش کرنے کا الزام لگایا گیا تھا، گرفتار ہونے والوں میں فلسطین کی الاخوان کے بھی بہت سے کارکن شامل تھے۔ مصر میں فلسطینی الاخوان کے تقریبا 20 لوگ گرفتار کیے گئے جن میں ھانی بسیسو، احقر (عبد الرحمن البارود)، ریاض الزعنون، ابراہیم الیازوروی، اسماعیل الخالدی اور زھیر الزھری شامل ہیں۔ حقیقت یہ تھی کہ ان میں سے کسی نے بھی تنظیم الاخوان میں رہ کر کسی طرح سازش میں حصہ نہیں لیا تھا، ان کا کردار زیادہ سے زیادہ یہ تھا کہ ان کی الاخوان کے لوگوں سے دوستیاں تھی یا انہوں نے الاخوان کے بڑی شخصیات سے ملاقاتیں کر رکھی تھیں۔ علی عشماوی کے مطابق کہ انہوں نے فلسطینی الاخوان کی قیادت سے ملاقات کر کے پیغام دیا تھا کہ حالات انتہائی کشیدہ ہیں اور عنقریب گرفتاریوں کی مہم شروع ہونے والی ہے۔ ان کی گرفتاریاں اس لیے ممکن ہوئیں کیونکہ ان تک بروقت اطلاع نہ پہنچ سکی تھی۔ ان گرفتار ہونے والوں میں صادق المزینی بھی تھے جن پران شخصیات کو تحائف دینے کا الزام تھا۔ اس طرح گرفتار ہونے والوں میں آل کردیہ کے دو افراد بھی شامل تھے جو الاخوان کے کارکن بھی نہیں تھے۔ ان کا جرم یہ تھا کہ انہوں نے صادق مزینی کے ساتھ تحائف کے تبادلے میں شرکت کی تھی۔ غزہ کی پٹی سے ساٹھ دیگر افراد بھی گرفتاری کا نشانہ بنے۔

ہمیں ایک فوجی جیل میں رکھا گیا جہاں ہم پر دردناک عذاب کا ہرہتھکنڈہ آزمایا گیا، پھر ہمیں مصر کے بالائی علاقے میں قنا کی جیل میں بھیج دیا گیا، یہاں ہمیں استاذ حامد ابوالنصر سے ملاقات کا شرف حاصل ہوا، اسی طرح الاخوان کے دیگر کئی قابل ذکر افراد کے ساتھ معیت نصیب ہوئی، ان افراد میں احمد شریت، کمال السنانیری، احمد حسنین، سعد سرور اور صلاح شادی شامل ہیں، اس کے بعد ہمیں قاھرہ منتقل کردیا گیا جہاں لیمان طرہ کی جیل میں ہم نے تقریبا ایک سال گزارا، بلاشبہ الاخوان کا انتظامی ڈھانچہ ہل کر رہ گیا تھا، الاخوان کے کئی لوگ کھو گئے تھے۔ دو سال تک اسی پریشانی میں گزرے۔ پھر حالات کچھ درست ہونا شروع ہوئے۔

میں نے جیل میں سات سال گزارے۔ میری شادی بھی جیل میں ہی ہوئی۔ منذر خالدی میرے شادی کے وکیل تھے۔ انہوں نے ہی ہمارا ہماری شادی کروائی، الاخوان کے کارکنوں نے جیل میں ہی ہماری شادی کی خوشی میں ایک تقریب کا اہتمام کیا ، شادی کا شرعی عقد شیخ احمد شریت نے استاذ محمد حامد ابو النصر (جو بعد میں الاخوان المسلمون کے ممتاز رہنما بنے) کی موجودگی میں سرانجام دیا، یہ سب کچھ قنا کی جیل میں ہوا تھا۔

نوٹ:
استاذ عبدالرحمن بارود کو سنہ 1972 ء میں جیل سے رہائی ملی، اسی سال انہوں نے ادب عربی میں اپنے پی ایچ ڈی کے مقالے پر بحث کی اور ایسا عمدہ مقالہ لکھنے پر انہیں پورے امتیاز اور اعزاز کے ساتھ پی ایچ ڈی کی ڈگری سے نوازا گیا، انہوں نے 1972 ء تا 2002 ء جدہ کی کنگ عبد العزیز یونیورسٹی میں بطور استاد خدمات سرانجام دیں۔

SHARE

LEAVE A REPLY