حقوق العباد اور حج ِ مبرور (49)۔۔۔ شمس جیلانی

0
68

ہم گزشتہ مضمون میں پاکستان کے انتخابات پر بات کر رہے تھے۔ الحمد اللہ اس میں قوم نے اپنی بیدارمغزی کا ثبوت دیا جنہیں، اپنے شاطر ہونے پہ ناز تھا ان میں سے زیادہ تر متکبرین شکست کھا گئے۔اب آجکل دوسرا موضوع ہے حج جوکہ اسلام کا سب سے بڑا رکن ہے۔ جو کبھی بڑا مشکل ہوا کرتا تھا مگر اب اتنا آسان ہو چکا ہے؟ کہ انسان کو کسی مشقت سے گزرنا نہیں پڑتا جتنا مال ہے اتنی ہی آسانیاں ہیں۔ جو اس سے ظاہر ہے کہ ہمارے انگریز ی زدہ لوگ وہاں سے واپس آکر اور منہ ٹیڑھا کر کے یہ کہتے ہوئے عام سنے جاتے ہیں کہ “ اٹ واز دی گڈ فن “یہ جواب ماڈرن مسلمانوں کی روز مرہ کی بات چیت کا ایک حصہ ہے؟ لیکن مجھ جیسے جاہلوں کے لیے یہ ایک المیہ سے کم نہیں ہے کہ حج جوکہ کبھی سب سے بڑی عبادت تھا اب آسانیوں کی وجہ اس کا تقدس کم ہوتا جا رہا ہے؟ اور اگر لیل ونہار یہ ہی رہے تو اسلام میں سب سے بڑی سمجھی جانے والی عبادت جس کا حاصل کبھی “حجِ مبرور“ ہوا کرتا تھا! وہ صرف “ فن“ رہ جا ئے گا۔ وجہ کیا ہے کہ اس عبادت کو بھی حکمرانوں نے کمرشل کردیا ہے؟ اب نوبت یہاں تک پہونچنے والی ہے کہ لوگ سیدھے عرفات میں پہنچ جا یا کریں گے؟ اور وہیں سے واپس بھی آجایا کریں گے۔ کیونکہ وہاں کے مقامی لوگوں نے حضور (ص) کی اس حدیثِ مبارکہ کو سند بنا کر کہ “ حج عرفہ میں قیام کانام ہے“ سیدھے عرفات تک جاکر واپسی کا نام حج رکھدیا ہے؟ ہم اس سے چار عشرے پہلے سے واقف تو تھے کہ وہاں کے مقامی لوگ ایسا کرتے ہیں لیکن کل ہم نے جب پاکستان کے ایک مفتی صاحب کو ایک سوال میں ٹی وی پر یہ کہتے سنا کہ ایسا کرنے سے حج تو ادا ہوجا ئے گا ؟ مگر مستحب نہیں ہوگا۔ جبکہ اسلامی ارا کان میں سے کوئی بھی عمل جوکہ اسوہ حسنہ(ص) کے مطابق نہ ہو تو وہ بدعت کہلاتا ہے؟ تو پھر حج ادا کیسے ہوگا؟ بات ہماری سمجھ میں نہیں آ ئی جبکہ یہ حضور (ص) کے اسوہ حسنہ کے مطابق نہیں ہے؟حضور (ص)نے صرف ایک حج کیا ہے؟اس میں ایسی کوئی مثال نہیں ملتی کہ کوئی بھی براہ راست وقوف عرفہ کے دران وہاں جا کر شامل ہوا ہو؟ جبکہ بہت سے لوگ جن کو پتہ چلتا گیا کہ حضور (ص) اس سال حج کو تشریف لےجارہے ہیں وہ چاہیں تو چل سکتے ہیں؟ تو مقامی یا غیر مقامی حجاج ان (ص) کے ساتھ مکہ معظمہ کے قیام کے دوران آکر شامل ہوئے جن میں حضرت علی کرم اللہ وجہہ بھی تھے جو یمن سے تشریف لائے تھے۔ اور انہوں نے اسی طرح حج کیا جیسے کہ حضور (ص) نے کیا؟ البتہ اس سے پہلے قریش خود کو سپریر سمجھنے کی بنا پر عرفات تک نہیں جا تے تھے جبکہ عام لوگ جاتے تھے؟ اس احساس کی وجہ سے قریش کے خود ساختہ فرق کو حضور (ص) نے خود وہاں قیام کر کے مٹادیا؟ جبکہ اس عمل سے اور اس ارشاد مبارکہ سے یہ مطلب واضح ہوتا ہے کہ حج میں وقوفِ عرفات سب کے لیئے لازمی ہے اور جو وہ پورے ارکانِ حج ادا نہ کرے اور عرفات میں حضور (ص) کی طرح ارکان پورےادا نہ کر ے تو اس کاحج نہیں ہوگا؟ اور وہ ارکان وہ ہیں جوکہ انہوں نے سب کو یہ فرما تے ہوئے مدینہ شریف کی ایک مضافاتی مسجد سے شروع فرما ئے کہ حج کے ارکان جس کو بھی سیکھنا ہیں آج مجھ سے آج سیکھ لو وہی تیرہ سو سال سے رائج تھے جن کی تفصیل بہت طویل ہے۔ وہ حج کی کتابوں یا سیرت کی کتابوں میں پڑھ لیجئے؟ میرا ہمدردانہ مشورہ ہے کہ کوئی بھی شارٹ کٹ اپنا کر اپنے حج کو مشکوک نہ بنائیں؟ یہاں ممکن ہے کہ بہت سے لوگ پوچھیں کہ حج کوحقوق العباد میں آپ نےکیوں شامل کیا ؟اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ مجموعہ ہے دونوں قسم کی عبادات کا۔ اور شروع یہاں سے ہوتا ہے۔ کہ حج پر جانے سے پہلے سب کے حقوق ادا کریں اگر کسی کادل دکھایا ہے تو اس سے معافی مانگیں کیونکہ اپنے حقوق معاف کرنے کا وعدہ تواللہ سبحانہ نے فرمایا ہے مگر مخلوق کے نہیں ؟ ۔پھر دیکھیں کہ مالِ حلال میں سے کتنا بچا؟جس سے آپ حج کر رہے ہیں،اگر تمام اہلِ خانہ بھی ہمراہ ہوں تو اس صورت میں تو کوئی مسئلہ نہیں ہے؟ لیکن اگر ساتھ نہ ہو تو پھر جن کو پیچھے چھوڑا ہے ان کے لیے اتنا چھوڑنا ضروری ہے کہ اتنے عرصہ تک ان کی کفالت ہوسکے جب تک آپ واپس نہ آجائیں؟ پھر صبر کا سب سے بڑاامتحان وہ تھا کے لوگ قافلوں کی شکل میں یا بحری جہاز سے سفر کیا کرتے اور اس طرح صابر بن کر چلتے تھے۔ کہ یہ سب سیکڑوں قالب اورایک جان ہو جاتے تھے۔ تمام عیش و آرام چھٹ جاتا تھا۔ جو اس بات کو یاد دلانے کے لیئے تھا کہ تمہارے ساتھ صرف یہ ہی دو چادریں جا ئیں گی۔ چاہیں سفر میں موت آدبوچے یا حضر میں۔وہاں کسی کی کوئی تخصیص نہیں تھی؟ سب کو وہی کچھ کر نا تھا جو ایک کو کر نا تھا ہر ایک کو دوسرے کو سہولت دینا اسلامی فریضہ تھا ،آج کی طرح ایک دوسرے کودھکے مارنا نہیں۔ یہ حج پھر ایک بین الاقوامی اسلامی کانفرنس کی شکل اختیار کر جاتا تھا۔ اس درمیان کسی کو اپنی ذات پر فخر کر نے کا حق نہیں تھا۔ جبکہ حج اور قربانی سے فارغ ہو کر طواف زیارہ کے لیے حجاج جاتے تھے تو اجازت تھی کہ اپنا علاقائی لباس پہن سکتے ہیں ۔ کل تک جو قوم دو چادروں میں لپٹی ہو ئی تھی۔ اب اسے اس کی پہچان اللہ سبحانہ تعالیٰ نے واپس دیدی تھی۔ان تمام شرئط کو پورے خلوص سےا دا کرنے کے بعد حجِ مبرور کا مستحق بندہ خود کو ثابت کرتا تھا ۔ جس کے لیئے حضور (ص) نے فرمایا کہ وہ ایسا ہوجاتا ہے کہ ابھی ماں کے پیٹ پیدا ہوا ہے اورحج مبرور کی پہچان یہ بتائی ہے کہ اس میں وہ برائیاں نہیں رہتیں جو پہلے تھیں؟ آئیے سب ملکر دعا کریں کہ اللہ سبحانہ تعالیٰ سب کو توفیق عطا فرمائے کہ وہ اپنےحج کو حج ِ مبرور بنائیں؟ (آمین)

SHARE

LEAVE A REPLY