پاک فوج نے اسلام آباد، لاہور، کوئٹہ، کراچی اور پشاور میں توپوں کی سلامی دے کر دن کا آغاز کیا۔

0
47

قوم مادر وطن کا 72 واں یوم آزاد ملی جوش اور جذبے سے منا رہے ہیں۔

پاکستان کے طول و عرض میں دن کا آغاز نمازِ فجر کے بعد ملکی ترقی و استحکام کے لیے خصوصی دعاؤں کے ساتھ ہوا جس کے بعد پاک فوج کے دستوں نے اسلام آباد، لاہور، کوئٹہ، کراچی اور پشاور میں توپوں کی سلامی دی۔

دن کے آغاز پر وفاقی دارالحکومت میں 31 توپوں جبکہ صوبائی دارالحکومتوں میں 21، 21 توپوں کی سلامی دی گئی۔

صدر مملکت اور نگراں وزیراعظم کا پیغام
یوم آزادی کے موقع پر صدر مملکت ممنون حسین اور نگران وزیراعظم جسٹس (ر) ناصر الملک نے ہم وطنوں کو دلی مبارکباد پیش کی۔

ریڈیو پاکستان پر شائع علیحدہ علیحدہ پیغامات میں دونوں رہنماؤں نے کہا کہ یومِ آزادی عہد تجدید کا موقع فراہم کرتا ہے، ہمیں اپنے ملک کی ترقی، خوشحالی اور استحاکم کے لیے پُرعزم ہونے کی یاد دلاتا ہے۔

صدرِ مملکت ممنون حسین نے کہا کہ پاکستان اللہ کی دین ہے اور براعظم میں مسلمانوں کے لیے جنت سے کم نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کو معاشی مسائل کے ساتھ ساتھ دیگر اہم مسائل کا بھی سامنا ہے لیکن بانی پاکستان قائد اعظم کی تعلیمات پر عمل کرکے ہم تمام پریشانیوں سے نجات حاصل کر سکتے ہیں۔

نگراں وزیراعظم کا کہنا تھا کہ یومِ پاکستان ہمارے آبا و اجداد کی جمہوری جدوجہد کی یاد دلاتا ہے، جن کی خواہش تھی کہ ایک ایسا وطن ہو جہاں مذہبی، سماجی اور ثقافتی اقدار کے مطابق شہری اپنی زندگی گزارئیں۔

اسلام آباد میں واقع جناح کنونشن سینٹر میں پرچم کشائی کی تقریب منعقد ہوئی جس میں صدر ممنون حسین اور نگراں وزیراعظم ناصر الملک نے شرکت کی۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صدرِ مملکت ممنون حسین نے کہا کہ ‘قیام پاکستان کا مقصد انسان کو انسانوں کی غلامی سے نکلا جائے تاکہ بندہ گان خدا اپنے تصوارت کے مطابق آزادی کے ساتھ زندگی بسر کرسکیں اور استحصال کی ہر صورت کا خاتمہ کرکے عوام کو ہر وہ سہولت فراہم کرے جو ان کا پیدائشی اور بنیادی حقوق ہے‘۔

انہوں نے کہا کہ گزشتہ پوری صدی کے دوران بہت سے نشیب و فراز کے باوجود پاکستان نے اس جانب بہت پیش رفت کی ہے لیکن ہمیں ایمانداری کے ساتھ یہ اعتراف کرنا چاہیے کہ ہم ابھی مکمل طور پر اپنی منزل تک نہیں پہنچ سکے اس اعتراف کے ساتھ ان وجوہات اور رکاوٹوں پر غور کرنا چاہیے جس کی وجہ سے مسائل پیدا ہوئے‘۔

صدرِ مملکت کا کہنا تھا کہ ’میری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ملک و ملت کی بہتری اور ترقی کے جذبے اور نیک نیتی کے ساتھ کاروبار مملکت سنبھالنے والوں کی رہنمائی فرمائے اور جذبہ عمل بڑھا دے‘۔

ممنون حسین نے نے کہا کہ میرے عزیز اہل وطن پاکستان بنانے والے بزرگوں اور آج کی نسل کے درمیان گردش ایام کے نتیجے میں پیدا ہونے والے حالات کا فاصلہ حائل ہے لیکن اس کے باوجود یہ امر اطمینان بخش ہے کہ نئی نسل کی وطن عزیز کے ساتھ محبت اس کی تعمیر و ترقی کے لیے خواہش زندہ ہے‘۔

ممنون حسین نے واضح کیا کہ ’قومی ایام اسی لیے منائے جاتے ہیں کہ افراد، افراد معاشرہ اور آنے والی نسلوں کو قومی مقاصد اور ان کے حصول کے لیے کی جانے والی جدوجہد سے آگاہ کیا جا سکے‘۔

ان کا کہنا تھا کہ ’ایسے مواقع پر پرچم کشائی سمیت دیگر تمام رسوم معمول کی کارروائی بن کر رہ جاتی ہیں اگر ان ایام ہائے مسرت پس پشت فکر و فلسفہ نگاہوں سے اوجھل ہوجائیں، تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ خوشی کے مواقع پر خوشیاں نہ منائی جائیں‘۔

صدرِ مملکت کا مزید کہنا تھا کہ جشنِ آزادی اور اس جیسے دیگر تہواروں پر نوجوان کی رنگ و رنگ سرگرمیاں اور زندہ دلی کے مناظر دیکھنے کو نہ ملے تو ہمارے دیس کے بام و در بے رونق ہوجائیں اور آزادی کی خوشیاں ماند پڑھ جائیں۔

انہوں نے اپنے خطاب میں زور دیا کہ ہمیں اپنے بچوں کو ذہین نشین کروانا ضروری ہے کہ ’پاکستان کیوں اللہ کی ایک غیر معمولی نعمت ہے‘۔

تقریب میں تینوں مسلح افواج کے سربراہوں، غیرملکی سفیروں اور اہم شخصیات نے بھی شرکت کی، جبکہ اس موقع پر قومی ترانہ بھی پڑھا گیا۔

پرچم کشائی کی تقریب میں اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق اور چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی نے بھی شرکت کی۔

SHARE

LEAVE A REPLY