نہایت اسکی حسین ابتدا ہے اسماعیل۔نصرت نسیم

0
258

توہم بات کر رہے تھے کہ کیوں نا عشرہ زالحج کو عشرہ عشق کے طور پر منائیں کہ اس کے تمام کردار اللہ سبحان و تعالٰی کے عشق میں سر تا پا ڈوبے ہوئے ابراہیم علیہ السلام اللہ سبحان و تعالٰی کے عشق میں کڑی ہے کڑی آزمائش سے سرخرو ہو کر نکلے توبی بی حاجرہ بھی تسلیم ورضا کاپیکر
ابراہیم علیہ السلام آپ کو اور اسماعیل علیہ السلام کو بےآب وگیاہ وادی میں چھوڑ کر جانے لگے تو بی بی پیچھے پیچھے دوڑتی گئیں سوال کرتی ہوئی کہ وہ انہیں اس ویرانے میں کیوں چھوڑے جا رہے ہیں؟ دو تین میل دور تک دوڑنے کے بعد خود ہی جواب دیا کہ کیا یہ اللہ کا حکم ہے اوراثبات میں جواب پا کر وہ تسلیم ورضا کاپیکر بڑے صبر و استقامت سے بولیں اچھا اگر یہ اللہ کا حکم اور آزمائش ہے تو ٹھیک ہے یہ کہہ کر واپس اسی بنجر واری میں واپس آئیں
اللہ اللہ کالے کوہسار، ویرانہ اورمعصوم بچے کاساتھ اور بی بی کاان پہاڑوں سےبلند حوصلہ و عزم زراچشم تصور سے دیکھئے تو روح کانپ اٹھے
چند دن میں ساتھ لایا ہواپانی ختم ہو گیا بچہ پیاس سے بے چین بچے کی بے چینی و بے قرارری ماں کےلیے نا قابل برداشت سوپانی کی تلاش میں نکل کھڑی ہوئیں اورصفاومروہ کےدرمیان پانی کی تلاش میں نکل کھڑی ہوئیں ساتھ ساتھ بچے پربھی نگاہ ک کہیں کوی جنگلی جانور آتھاکر کے کے جاے ایک خاص مقام پر بچہ نگاہوں سے آو جھل ہوجاتاتوآپ دوڑ لگا دیتی عورت کو کمتر سمجھنے والو ‘دیکھو رب العزت کیسا مہرباں وقدر دان ک عورت کی عظمت اسکے کردار، مامتا اورماں کےسچےوکھرے جذبات کی یوں قدردانی کی کہ قیامت تک مرد و زن بی بی حاجرہ کے اتباع میں سعی کرتے رہیں گے نہ صرف یہ بلکہ جہاں انہوں نے دوڑلگای وہاں سے مرد دوڑتے ہوئے گزرتے ہیں ایک ایک ادا کویادگاربنادیا سبحان اللہ سبحان اللہ
نہ صرف یہ بلکہ مامتا کی بے قراری وبے چینی اور بچےکی پیاس ،رحمت خداوندی کو جوش واپس پلٹ کر آئیں تو صحرا میں چشمہ،زم زم کہہ کر پانی کو ادھرہی روک دیا
اللہ اکبر منہ سے الفاظ نکلے اورقبول ہراداکوقیامت تک یادگار

یہ شہادت گہ ءالفت میں قدم رکھنا ہے
لوگ آسان سمجھتے ہیں مسلماں ہونا
اسلام مکمل طور پر خود سپردگی کا نام،تسلیم ورضا، اور وادئ عشق میں قدم رکھنا ہے جس کی بہت بڑی مثال ابراہیم خلیل اللہ اور اسماعیل زبیح اللہ کی پاکیزہ زندگیاں ہیں
ابراہیم علیہ السلام نے خواب دیکھا کہ اسماعیل کوقربان کر رہے ہیں اسماعیل علیہ السلام کو خواب سنایا توبچے نےبلاتامل سے کہا آپ خواب کو حقیقت بنا دیں آپ مجھے صابرین میں سے پائیں گے سبحان اللہ کیا جواب ہے
سکھائے کس نے اسماعیل کوآداب فرزندی
اورپھر چشم فلک نے دیکھا کہ کس شان سے خود کو قربانی کے لیے پیش کیا کہ خود والد گرامی کو مشورہ دے رہے ہیں کہ آنکھوں پر پٹی باندھ لیں،ان کا چہرہ زمین کی طرف کر لیں کہیں ایسا نہ ہو کہ بیٹے کی محبت غالب آجائے
باپ بیٹے نے اللہ سبحان و تعالٰی سے عشق کا وہ سچا، کھرا اور پر خلوص عملی مظاہرہ کیا کہ رحمت خدا واندی جوش میں آئی کہ آنکھوں سے پٹی اتاری تو اسماعیل کی جگہ مینڈھا پڑا تھا سبحان اللہ
اللہ کتنا مہربان اور قدردان
حج کے تمام ارکان، بی بی حاجرہ ابراہیم علیہ السلام اور اسماعیل علیہ السلام کے اعمال و افعال پر مشتمل قیامت تک دنیا ان کے نقش قدم کی پیروی کرکے انہیں خراج تحسین پیش کرتی رہے گی
ننھے اسماعیل نے پیاس سے ایڑیاں رگڑیں تو اسی جگہ ایسے میٹھے پانی کا چشمہ کہ شفا ہی شفا آب زمزم قیامت تک لوگوں کے لیے شفا اورعلم
حضرت ابراہیم کے دوبیٹے اسحاق اور اسماعیل  تمام پیغمبر حضرت اسحاق کی اولاد میں سے
جبکہ حضرت اسماعیل علیہ السلام کی اولاد میں سے صرف ایک پیغمبر  ،پیغمبر اسلام محبوب رب کائنات اور وجہ تخلیق کائنات آے
خاتم النبیین جامع صفات وجامع کمالات ہستی رب العزت خود جس کا ثنا خواں گویا آب زم زم کی طرح خاتم النبیین کی رسالت کا فیض بھی تا قیامت جاری وساری رہے گااور انسانیت کی پیاس بجھاتا رہے گا
میرے پیارے نبی کریم پربےشمار درود و سلام ،جن کے جد امجد خلیل اللہ وزبیح اللہ جیسی جلیل القدر ہستیاں ہیں تودوسری طرف ان کے لاڈلے نواسے نے سچ اور نانا کےدین کی خاطر جان دے کر عشق کی ایک نئی داستان رقم کی
وہاں تو ابراہیم علیہ السلام کو بچا لیا گیا یہاں نواسا رسول وخانوادہ رسول نے شجاعت وبہادری اور عشق خدا وعشق رسول کی ایک نئی داستان اپنے خون سے رقم کی ایک ایسی
داستان جسکی کوئی مثال تاریخ عالم میں نہیں گویا
نہایت اس کی حسین ابتدا ہے اسماعیل
عاشقان خدا اورعاشق رسول ہردورمیں اپنی محبت اورعشق کی داستان اپنے لہوسے لکھتے رہیں گے اور پھر بھی یہ کہیں گئی
جان دی دی ہوئی اسی کی تھی
حق تو یہ ہے کہ حق ادا نہ ہوا

نصرت نسیم

SHARE

LEAVE A REPLY