طارق بٹ ۔ لیڈ سے سنگل کالم کا سفر

0
78
 اخبارات خواہ علاقائی ہوں یا قومی ایک لگے بندھے ضابطے کے تحت ان کی تزئین و آرائش اور ترتیب کا اہتمام کیا جاتا ہے ۔ خبر ، شخصیت اور اس کے کہے ہوئے الفاظ کو مد نظر رکھتے ہوئے اسے اہمیت دی جاتی ہے اور اسی اہمیت کی بنا پر صفحے اور جگہ کا تعین کیا جاتا ہے ۔ انتہائی اہمیت کی حامل خبر یا شخصیت کا بیان چھ کالم میں لیڈ یا پھر سپر لیڈ کی صورت میں شائع ہوتا ہے کہ ہر قاری کی نظر سب سے پہلے لیڈ یا پھر سپر لیڈ کی طرف ہی جاتی ہے۔ خبر یا بیان کی اہمیت جوں جوں کم ہوتی جاتی ہے اس کی جگہ بھی سکڑتی چلی جاتی ہے وہ اہم شخصیات جو اپنی اہمیت برقرار رکھنے میں کامیاب ہوتی ہیں ہمیشہ صفحہ اول پر لیڈ اور سپر لیڈ میں جگہ پاتی ہیں مگر جوں جوں وہ اپنی اہمیت کھوتی جاتی ہیں صفحہ اول سے پچھلے صفحے اور پھر وہاں سے صفحہ نمبر دو یا تین پر سنگل کالم تک محدود ہو جاتی ہیں ۔ یہ ساری ترتیب قارئین کے گوش گزار کرنے کا مقصود مکمل کالم پڑھ کر خود بخود آپ کے سامنے آ جائے گا ۔

نواز شریف جب بھی اقتدار میں آئے ان کے قریبی رفقاء میں سے چودھری نثار علی خان نے ہمیشہ لیڈ کیا خواہ ان کے پاس کسی وزارت کا قلم دان رہا ہو یا نہ ہو ۔ خصوصا راولپنڈی ڈویژن کی تمام انتظامیہ آپ کی منظور نظر ہوتی حتی کہ پٹواری تک آپ کی منظوری سے تعینات کئے جاتے اور تو اور اگر کسی محکمہ میں درجہ چہارم کی کوئی پوسٹ خالی ہوتی تو وہاں بھی بھرتی چودھری صاحب کے معاونین کی منظوری کے بغیر ممکن نہ ہوتی ۔ یہ سب ممکن بنانے کے لئے نہ تو نواز شریف کی جانب سے کوئی نوٹیفکیشن جاری ہوتا اور نہ ہی چودھری نثار علی خان کی جانب سے طریقہ کار بہت سادہ اور آسان سا تھا کہ نواز شریف کے ساتھ چودھری صاحب کی قربت کا انتظامیہ کو یوں معلوم ہو جاتا کہ نواز شریف جب بھی سفر پر نکلتے اور کسی بھی وزارت کا دورہ کرتے تو ان کی گاڑی چودھری صاحب ڈرائیو کر رہے ہوتے وزارت کے ہر فرد کو پتا چل جاتا دونوں میں بہت قربت ہے بالکل یہی طریقہ کار موصوف چودھری صاحب نے اختیار کئے رکھا کہ انہیں جب بھی اپنے حلقہ انتخاب کا دورہ کرنا ہوتا تو تمام محکمہ جات کے سربراہان کی وہاں موجودگی یقینی بنائی جاتی اس موقع پر چودھری صاحب کی گاڑی سے جو جو ان کا منظور نظر اترتا وہ انتظامیہ کی نظروں میں آ جاتا یوں تمام کے تمام انتظامی معاملات اس منظور نظر کے کنٹرول میں آ جاتے بغیر کسی نوٹیفکیشن کے۔
چہرہ دکھائی کا یہ کھیل کچھ اس انداز میں چلا کہ جیسے نواز شریف نے اپنے ہر دور حکمرانی میں کبھی بھی اپنی جماعت کے ممبران اسمبلی کو کوئی اہمیت نہ دی بلکہ سالوں گزر جاتے اراکین اسمبلی اپنے پارٹی قائد سے ملاقات کی درخواستیں گزار گزار کے تھک جاتے پر قائد کو چند لمحات کی فرصت میسر نہ آتی کہ جن کے ووٹوں سے وہ وزارت عظمی کے منصب جلیلہ پر متمکن ہوئے ان کا دکھڑا سن پاتے ۔ بالکل یہی وتیرہ چودھری نثار علی خان نے اپنائے رکھا کہ ان کے حلقہ انتخاب کے وہ ووٹر جنہوں نے 2002 سے 2013 مسلسل ان کے ساتھ اپنی والہانہ محبت کا ثبوت ووٹوں کی صورت میں ان پر نچھاور کیا وہ بے چارے اپنے محبوب قائد کے دیدار کو ترستے رہے اگر برسوں بعد کسی کھلی کچہری میں ملاقات ہوئی بھی تو بس اتنی کہ کوئی صاحب جرات اپنا مسئلہ بیان کرنے کے لئے اپنی تمام تر جسمانی قوت کو یکجا کر کے کھڑا ہوا اور پہلا ہی لفظ منہ سے نکال پایا تو جواب ملا تسی بہہ ونجو (آپ بیٹھ جائیں) اور یوں بٹھائے جانے والے اس بار چودھری نثار علی خان کے گٹوں گوڈوں میں بیٹھ گئے کہ دو قومی اور ایک صوبائی اسمبلی کی نشست پر ایک دبنگ لیڈر نشانہ عبرت بن گیا۔
قومی اور بین الاقوامی سطح پر جانے مانے سیاست دان چودھری نثار علی خان اپنی اصل طاقت یعنی عوام سے مسلسل دوری کے باعث جس قابل ذکر انجام سے دوچار ہوئے وہ دوسروں کے لئے مثال ہے وہ اس خوش فہمی میں مبتلا رہے کہ ان کے معاونین خصوصی عوام سے رابطہ رکھے ہوئے ہیں اور ان کے مسائل سے انہیں آگاہ کرتے رہتے ہیں جن کو حل کرنے کی وہ بساط بھر کوشش بھی کرتے رہے مگر براہ راست عوامی رابطہ نہ ہونے کا اتنا عظیم نقصان کبھی ان کے تصور میں بھی نہ آیا تھا ان کے معاونین نے انہیں گلی نالی کی سیاست میں پھنسائے رکھا جبکہ ووٹر کی سوچ اس سے بہت آگے نکل چکی تھی وہ گلی نالی کے ساتھ ساتھ صحت اور تعلیم کی سہولیات کی اشد ضرورت محسوس کر رہے تھے اور اس ضرورت کو چودھری صاحب نے گزشتہ تقریبا 16 سال قطعا محسوس نہ کیا ورنہ حلقے میں ایک آدھ اچھا اسپتال اور یونیورسٹی کا قیام تو ان کے بائیں ہاتھ کا کھیل تھا کہ وہ مرکز یا پنجاب حکومت کو جو بھی منصوبہ بھیجتے اس کی منظوری میں کوئی رکاوٹ آنے کا سوال ہی پیدا نہ ہوتا ۔
بہر حال ہونی ہو کے رہی اور ایک اچھے اور قابل سیاست دان سے پاکستان اور خطہ پوٹھوہار محروم ہو گیا زیادہ تکلیف دہ امر یہ ہے کہ وہ چودھری نثار علی خان جو علاقائی اور قومی اخبارات میں لیڈ یا پھر سپر لیڈ ہوا کرتے تھے آج بلندی سے پستی کی جانب سفر کرتے ہوئے اخبارات کے پچھلے صفحے سے ہوتے ہوئے صفحہ نمبر دو یا تین پر سنگل کالم میں جگہ بنا پا رہے ہیں ایسی بلندی اور ایسی پستی کی مثال مجھے اپنے وطن عزیز کی سیاسی تاریخ میں غلام مصطفی کھر کے علاوہ کوئی اور شخصیت دکھائی نہیں دیتی ۔ موجودہ صورت حال میں محترم چودھری صاحب کو انتہائی ٹھنڈے دل سے تمام تر حالات کا از سر نو جائزہ لے کر یہ فیصلہ کرنا ہے کہ انہوں نے سنگل کالم پہ رہنا ہے یا لیڈ اور سپر لیڈ پہ واپس آنا ہے ۔۔۔
SHARE

LEAVE A REPLY