پاکستان کا گستاخانہ خاکوں کا معاملہ اقوام متحدہ اور او آئی سی میں اٹھانے کا اعلان

0
97

پاکستان نے ہالینڈ میں گستاخانہ خاکوں کے مقابلے کا معاملہ اقوام متحدہ (یو این) اور اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) میں اٹھانے کا اعلان کردیا۔

وزیر اعظم عمران خان نے اعلان کرتے ہوئے کہا کہ ہالینڈ میں گستاخانہ خاکوں کے مقابلے کا معاملہ اقوام متحدہ سمیت او آئی سی میں اٹھایا جائے گا۔

سینیٹ میں خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ توہین مذہب جیسے معاملات پر او آئی سی کو اپنا کردار ادا کرنا چاہیے، مسلمانوں کے جذبات مجروح کرنے جیسے واقعات کا رونما ہونا پوری مسلم دنیا کی ناکامی ہے۔

وزیر اعظم نے کہا کہ گستاخانہ خاکوں کے مقابلے سمیت دیگر توہین مذہب اور توہین رسالت کے معاملات پر عالمی سطح پر کوششیں کی جائیں گی، جن میں او آئی سی کو بھی شامل کیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ وہ مغربی ذہنیت سے واقف ہیں، وہ لوگ اظہار رائے کی آزادی کے نام پر مسلمانوں کے جذبات مجروح کرتے ہیں، وہاں کی اکثریت کو یہ علم ہی نہیں ہے کہ مسلمانوں کے دلوں میں حضرت محمد ﷺ کی کتنی محبت اور عقیدت ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ مغربی ممالک میں مسلمانوں کے جذبات کو بھڑکانا اور مجروح کرنا بہت آسان ہے، کیوں کہ وہاں کی انتہائی کم آبادی کو اس بات کا اندازہ ہے کہ مسلمانوں کے دلوں میں حضرت محمد ﷺ کی کتنی عقیدت ہے.

وزیر اعظم کے مطابق ملعون سلمان رشدی کی شیطانی آیات کے بعد آج تک ایسے جتنے بھی واقعات رونما ہوئے ہیں، ان کا مقصد صرف مسلمانوں کے جذبات کو مجروح کرنا ہی ہے.

عمران خان نے کہا کہ حکومت پہلے تو گستاخانہ خاکوں سمیت ایسے ہی دیگر معاملات پر او آئی سی کو متحد کرنے کی کوشش کرے گی, ایسے معاملات پر او آئی سی کو بہت پہلے ایک واضح اور مضبوط حکمت عملی بنا لینی چاہیے تھی.

وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ یورپ کے 4 ممالک میں ہولو کاسٹ پر بحث کرنے یا اس حوالے سے نازیبا بات کرنے کے خلاف بھی جیل کی سزا دی جاتی ہے، کیوں کہ ان کے خیال میں ہولو کاسٹ کے حوالے سے نازیبا بات کرنے سے یہودیوں کے جذبات مجروح ہوتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اگر 4 یورپی ممالک میں کوئی شخص یہ کہے کہ ہولو کاسٹ میں 60 لاکھ نہیں بلکہ 40 لاکھ یہودی قتل ہوئے تھے تو اس بات پر بھی اسے جیل کی سزا دی جاتی ہے اور اس وقت اظہار رائے کی آزادی کی بات ہی نہیں کی جاتی.

عمران خان نے کہا کہ جس طرح ہولو کاسٹ کے خلاف بات کرنے سے یہودیوں کے جذبات مجروح ہوتے ہیں، اسی طرح توہین مذہب اور توہین رسالت سے سوا ارب سے زائد مسلمانوں کے جذبات مجروح ہوتے ہیں۔

اس موقع پر وزیراعظم نے اپنے خطاب میں احتساب کا نیا کلچر متعارف کرانے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ وہ خود کو احتساب کے لیے قومی اسمبلی سمیت سینیٹ میں بھی پیش کرتے رہیں گے اور وہ ہر 2 ہفتے بعد سینیٹرز کے سوالوں کے جوابات دینے کے لیے یہاں موجود ہوں گے.

ان کا کہنا تھا کہ ملک کا قرض 28 ہزار ارب تک پہنچ چکا ہے اور عوام ٹیکس دینے سے زیادہ چندہ دینے کو ترجیح دیتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ حکومت کا خرچہ کم کرکے ملک کو معاشی طور پر کھڑا کیا جائے گا۔

وزیر اعظم عمران خان نے خطاب میں مزید کہا کہ عوام کو ملکی بہتری کے لیے زیادہ سے زیادہ ٹیکس دینا پڑے گا اور عوام اس وقت ہی ٹیکس ادا کریں گے جب انہیں احساس ہوگا کہ حکومت ان کا پیسہ ان پر ہی خرچ کرے گی.

ان کا کہنا تھا کہ حکومت عوام کا پیسہ عوام پر ہی خرچ کرے گی اور اس حوالے سے ایک منظم منصوبہ تیار کیا جا رہا ہے، جو آئندہ ایک ہفتے تک پارلیمنٹ کے سامنے پیش کیا جائے گا.

گستاخانہ خاکوں کے خلاف قرار داد منظور
سینیٹ کے اجلاس میں گستاخانہ خاکوں کے خلاف مذمتی قرارداد بھی منظور کی گئی، قرارداد قائد ایوان شبلی فراز نے پیش کی۔

قرارداد کے متن میں کہا گیا کہ نبی اکرم ﷺ سے محبت اور عقیدت مسلمانوں کے ایمان کا حصہ ہے اور مسلمان اپنے نبی ﷺ کے شان کے خلاف گستاخی برداشت نہیں کرتے.

قرارداد میں حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ ہالینڈ میں گستاخانہ خاکوں کے مسئلے پر سفارتی سطح پر اقدامات اٹھائے.

قرارداد کے ذریعے حکومت سے یہ بھی مطالبہ کیا گیا کہ وہ اس معاملے پر ہالینڈ کی حکومت کے سامنے احتجاج کرے.

خیال رہے کہ گستاخانہ خاکوں کے معاملے پر رواں ماہ 19 اگست کو پنجاب اسمبلی میں مذمتی قرار داد منظور کی گئی تھی۔

پنجاب اسمبلی میں منظور کی گئی قرارداد میں وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا گیا تھا کہ حکومت ہالینڈ سے احتجاجاً اپنے سفارتی تعلقات منقطع کرے۔

قرارداد میں کہا گیا تھا کہ اللہ تعالی نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دونوں جہانوں کے لیے پیدا فرمایا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت پر کلمات کی روشنائیاں ختم ہو گئیں لیکن تعریف ختم نہیں ہوسکتی۔

قرار داد کے متن میں مزید کہا گیا تھا کہ دنیا بھر کے کفار اسلام سے خوفزدہ ہیں اور وہ اسی وجہ سے خاتم النبین حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخیاں کررہے ہیں۔

گستاخانہ خاکوں کا معاملہ
ہالینڈ کی اسلام مخالف جماعت فریڈم پارٹی آف ڈچ کے رہنما گیرٹ ولڈرز نے پارلیمنٹ کے دوران رواں برس جون میں مسلمانوں کے جذبات کو مجروح کرتے ہوئے پیغمبراسلام ﷺ کے کارٹون بنانے کے مقابلے کا اعلان کیا تھا، جس کے خلاف پاکستان سمیت دنیا بھر میں مظاہرے شروع ہوگئے تھے۔

گستاخانہ خاکوں کا مقابلہ 20 اگست 2018 کو ہونا تھا، اس دن دنیا بھر میں مسلمانوں نے شدید احتجاج کیا، جس کے بعد ہالینڈ کی حکومت نے خود کو اس مقابلے سے الگ کرنے کا اعلان کیا تھا۔

ہالینڈ کی حکومت نے اس مقابلے لا تعلقی کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ گیرٹ ولڈرز حکومت کا نمائندہ نہیں۔

خبر رساں ادارے اے پی کے مطابق ہالینڈ کے وزیر اعظم مارک روٹے نے 24 اگست کو ہفتہ وار پریس کانفرنس کے دوران کہا تھا کہ ‘گیرٹ ولڈرز حکومت کے رکن نہیں اور نہ ہی یہ مقابلہ حکومت کا فیصلہ ہے۔’

مارک روٹے نے گیرٹ ولڈرز کی جانب سے اس متنازع مقابلے کے انعقاد پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ ‘گیرٹ ولڈرز کا مقصد اسلام سے متعلق بحث کا آغاز نہیں بلکہ جذبات کو بھڑکانا ہے۔’

تاہم ان کا کہنا تھا کہ ‘ہالینڈ میں لوگوں کو آزادی اظہار کی دیگر ممالک سے کئی گنا زیادہ آزادی ہے اور گیرٹ ولڈرز بھی ایسا کرنے کے لیے آزاد ہیں، لیکن کابینہ یہ واضح کرنا چاہتی ہے کہ یہ اس کا اقدام نہیں ہے۔’

SHARE

LEAVE A REPLY