جرمنی میں مقیم مختار اکبر بٹر نے ہم وطنوں کو لوٹنا شروع کر دیا

0
545

فرینکفرٹ،جرمنی(نمائندہ خصوصی):جرمن پولیس نے لوگوں سے دھوکہ دہی اور مختلف حیلے بہانوں سے رقم لیکر فرار ہونے والے پاکستانی کے خلاف مقدمہ درج کرکے تلاش شروع کردی ہے۔تفصیلات کے مطابق جرمنی کے شہر فرینکفرٹ میں مقیم مختا راکبر بٹر نامی پاکستانی شخص نے اپنی ہی کمیونٹی کے افراد کو جھوٹی دکھ بھری کہانیاں سنا کر لوٹنا شروع کردیا۔ پیپلز کالونی گوجرانوالہ سے تعلق رکھنے والا سے تعلق رکھنے والاچوہدری مختار اکبر بٹر عرف عالف بٹر ولد چوہدری اکبر بٹر کافی عرصے سے جرمنی میں مقیم ہے انکا تحصیل فیروزوالہ، ضلع شیخوپورہ میں کوئی سیاسی ڈیرہ بھی ہے جس کا رعب یہ پاکستانیوں پر ڈالتا ہے۔یہ جرمنی میں مقیم پاکستانیوں کو کبھی ذاتی مسائل، کاروبار میں نقصان اور کبھی ازواجی معاملات کے جھوٹے قصے سنا کرادھار پیسے لیتا ہے اور پیسوں کی واپسی کے تقاضے پر لوگوں کوجان سے مارنے کی دھمکیاں دیکر خوف زدہ کرتاہے۔ہمارے نمائندئے کے مطابق مختاراکبر بٹر نامی شخص کو جب کمیونٹی کے لوگوں نے ادھار دینا بند کر دیا تو اس نے لندن میں مقیم ایک سادہ لوح پاکستانی سہیل احمد لون کو فون کیا اور انہیں بتایا کہ اسے کاروبار میں کچھ مسائل کا سامنا ہے اور اگر وہ انہیں ساڑھے تین ہزار پونڈ ویسٹرن یونین کے ذریعے بھیج دے تو رقم سمیت اس خرچ ہونے والی فیس بھی دس منٹ بعد واپس بھیج دے گا کیونکہ اس نے انکم ٹیکس آفس کو ایک رسید دکھانی ہے جس میں وہ یہ دکھا سکے کہ اسے انگلینڈ سے پیسے آئے ہیں۔مختار بٹر نے یہ بتایا تھا کہ اس نے اپنے بھانجے کو انگلینڈ رقم بھیجی تھی جس کی پوچھ گچھ انکم ٹیکس آفس نے شروع کردی ۔بھانجا رقم لیکر پاکستان چلا گیا ہے اور اب اس کا کاروبار بند پڑا ہے اور اکاؤنٹ بھی انکم ٹیکس والوں نے فریز کر دیا ہے۔اگر کوئی اسے انگلینڈ سے رقم بھیج دے تو یہ انکم ٹیکس آفس کو یہ بتا سکتا ہے کہ رقم اسے واپس آگئی ہے ، اسکا بند کاروبار پھر سے چل سکتا ہے۔مختار اکبر بٹر نے قرآن کی قسم اٹھا کر کہا کہ اگر سہیل لون اسے رقم بھیج دے تو زندگی بھر احسان مند رہے گا اور دس منٹ میں واپس کردے گا۔جس پر سہیل احمد لون نے مختار بٹر نامی شخص کو مطلوبہ رقم بذریعہ یسٹرن یونین بھجوا دی۔دس منٹ کی بجائے چھ ہفتے گزر گئے ۔جب سہیل لون نے مختار بٹر سے رقم کا مطالبہ کیا تو وہ آج کل کا بہانہ کرکے انہیں ٹرخاتا رہا۔جب مختار بٹر سے رقم کی ادائیگی کے سلسلے میں زور دیا گیا تو اس نے سہیل لون کو فون پر دھمکی دی کہ وہ انکے خاندان کے بارے جانتا ہے اور وہ انہیں قتل کرا دے گا۔جس پر سہیل لون خود جرمنی تشریف لے گئے اور وہاں جاکر فون پر اس سے رقم کی ادائیگی کا کہا۔مختار بٹر نے انہیں کہا کہ وہ فرینکفرٹ آجائیں اور رقم لے لیں جس پر سہیل لون نے وہاں جاکر بتایا کہ وہ آچکے ہیں تو مختار بٹر نہ آیا اور فون پر پھر دھمکیاں دیں۔جس پر سہیل لون نے اس کے خلاف قانونی چارہ جوئی کیلئے ایک وکیل کی خدمات حاصل کیں اور پولیس میں مقدمہ بھی درج کرادیا ۔پولیس نے جب اس شخص کے کوائف کی جانچ پڑتال کی تو معلوم ہوا کہ یہ عادی فراڈیا ہے اور پاکستانی کمیونٹی کے کئی افراد کو پہلے ہی لوٹ چکا ہے۔پولیس نے مقدمہ درج کرکے جب اسکی گرفتاری کیلئے اس کے گھر پر چھاپہ مارا تو وہ اس سے قبل ہی وہاں سے فرار ہوگیا۔پولیس مختار بٹر کو تلاش کر رہی ہے۔پاکستانی کمیونٹی کا کہنا ہے مختار بٹر کے اس فراڈ میں اسکا باپ چوہدری اکبر بٹر برابر کا شریک ہے ۔ لوگوں کا کہنا ہے مختار بٹر نہ صرف فراڈ کرتا ہے بلکہ پاکستان سے لوگو ں کو غیر قانونی طور پر جرمنی لانے کے دھندے میں بھی شریک ہے اور پاکستان سے کافی لوگوں کو جرمنی بلانے کے نام پر لاکھوں روپے کا فراڈ کر چکا ہے۔سوشل میڈیا پر جب مختار اکبر بٹر کے فراڈ کا قصہ وائرل ہواتو جرمنی کے شہر میونخ کے رہائشی جمال کاکڑ نے بتایا کہ اس کے ساتھ بھی مختار اکبر بٹر فراڈ کر چکا ہے اس نے اس کع ایک ہزار یورع کے علاوہ جدید آئی فون اور Samsung Galaxyپاکستان اپنی فیملی کو دینے کے لیے امانتاً دئے مگر مختار اکبڑ بٹر کی نیت بدل گئی اور اس نے سامان اور پیسے جمال کاکڑ کی فیملی کو دینے کی بجائے خود ہی ڈکار لیے۔ جمال کاکڑ نے قانونی کارروائی کی ہے اور میونخ عدالت میں اس کا کیس چل رہا ہے۔ گوجرانوالہ سے آمنہ شاہین نامی ایک بیوہ خاتون سے بھی اس نے یہ کہہ کر پیسے ہتھیا لیے کہ یہ اسکے بیٹے کو جرمنی لے جائے گا۔ بیچاری بیوہ عورت نے اپنا زیور بیچ کر ساری جمع پونجی اس فراڈئے کو دے دی مگر دو برس گزر جانے کے بعد بھی یہ فراڈیا اسکے لاکھوں روپے واپس نہیں کررہا اور اسکے بچے کو مارنے کی دھمکیاں دیتا ہے۔ میڈیا اور سوشل میڈیا پر خبر آنے سے مختار اکبڑ بٹر سہیل لوناور جمال کاکڑ دھمکیا ں دے رہا ہے۔مختار اکبر بٹر اس وقت چھپا ہوا ہے اور شاید کسی نئے شکار کی تلاش میں ہے

SHARE

LEAVE A REPLY