اس شہر سے جاتے ہوئے یہ معجزہ دیکھا۔شاہین اشرف علی

0
147

پاؤں میں سفر کا جو بھنور کٹنے لگا ہے
محسوس یوں ہوتا ہے کہ سر کٹنے لگا ہے

برسوں سے مسافت کی عبا اوڑھے ہوئے ہوں
پرواز کی ہو خیر کہ پر کٹنے لگا ہے

جاتے ہوئے ملنا ہے گلے سوکھے شجر سے
دیوار کے اب ساتھ یہ در کٹنے لگا ہے

اس شہر سے جاتے ہوئے یہ معجزہ دیکھا
آغاز سفر میں ہی سفر کٹنے لگا ہے

رخصت کا ہے لمحہ ہوا پیوست نظر میں
سایہ کیئے سر پر تھا شجر کٹنے لگا ہے

شاہین قلم ہاتھ میں پکڑا نہیں جاتا
شاید کہ مرا دست ہنر کٹنے لگا ہے

شاہین اشرف علی۔کویت

SHARE

LEAVE A REPLY