سعودی عرب نے ایسے آن لائن طنز کو قابل سزا بنا دیا ہے، جس کے باعث ’پبلک آرڈر‘ کی خرابی کا اندیشہ ہو۔ بتایا گیا ہے کہ سماجی اخلاقیات یا مذہبی اقدار کی سوشل میڈیا پر ’ہتک‘ کے جرم میں پانچ سال تک کی سزا سنائی جا سکے گی اور ساتھ ہی آٹھ لاکھ ڈالر کا جرمانہ بھی کیا جا سکے گا۔ سعودی عرب میں سائبر کرائمز کے تحت کی جانے والی قانون سازیوں پر بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیمیں شدید تحفظات کا اظہار کرتی رہی ہیں۔ ان کے مطابق اس طریقے سے حکومت شخصی اور سول آزادیوں پر قدغنیں لگانے کے قابل ہو سکتی ہے۔

SHARE

LEAVE A REPLY