یومِ دفاعِ پاکستان کا پسِ منظر۔۔شمس جیلانی

0
139

اس سال ایسا لگ رہا کہ سنء1966 واپس آگیا ہے کیونکہ اس مرتبہ پھر یومِ دفاع پاکستان اسی جوش وخروش سے منا نے کی تیاریاں ہورہی ہیں! میں نے یہاں پھر کا لفظ اس لیئے استعمال کیا ہے کہ ہماری تاریخ یہ ہے کہ ، یہ ہی دن ہم کبھی بہت زور شور سے مناتے ہیں اور کبھی ناغہ بھی کرلیتے ہیں۔ یہ سب کچھ موقع اور محل پر منحصر ہے کہ اس سال حکمرانوں کی ضروریات کیا ہیں ؟ اگرا ن کا اقتدار یا کاروبار خطرے میں ہے تو ملک بھی خطرے میں ہے ؟اس لیے اس دن کو منانا ضروری سمجھتے تھے۔اگر دوستی کی پینگیں پڑوسی ملک کے ساتھ بڑھ رہی ہیں ۔ تو ملتوی بھی کر دیتے تھے کہ پڑوسی برا نہ مانے اورا ن کے کاروبار پر برا ثر نہ پڑے ؟ مختصر اً یہ کہ ہماری زندگیوں میں ہمیشہ ‘‘نظریہ ضرورت ‘‘ کار فرما رہتا ہے اس لیے ترجیحات بدلتی رہتی ہیں؟ جب بہت ہی مشکل وقت آجا ئے, تو اللہ کو یاد کرنا شروع کردیتے ہیں ۔ اور جب وہ مشکلات دور کردے، تو ہم اسے اور اس سے کیے ہوئے وعدوں کوبھی بھول جاتے ہیں؟ ایسا وقت آج سے تریپن سال پہلے یعنی 6ستمبر 1965میں بھی آیا تھا اور اس کے نتیجہ میں ء۶ 1966میں پہلی دفعہ یومِ دفاعِ پاکستان اسی جوش و خروش کے ساتھ پوری قوم نے متحد ہوکر منایا تھا۔ جو لوگ اس وقت پیدا نہیں ہوئے تھے وہ پوچھیں گے وہ واقعہ تھا کیا؟ جواب یہ ہے کہ وہ ایک عذاب تھا جو ہم پر نازل ہوتے ہوتے رہ گیا تھا،؟اور وہ ہمیں یہ یاد دلانے کے لیے تھاکہ ہم نے اور ہمارے بزرگوں نے کچھ وعدے اللہ سبحانہ تعالیٰ سے کیے تھے جو ہم نے پورے نہیں کیے؟ وہ وعدے کیا تھے؟ وہ یہ تھے کہ ‘‘ ہم نے اور ہمارے بزرگوں نے مرض پہچان کر اور گڑگڑا کر دعاکی تھی اے اللہ! ہم اپنی کرتوتوں کی وجہ سے دنیا پر اپنا اقتدار کھو بیٹھے ہیں، ہم ذلیل اور خوار ہوچکے ہیں ,تو ہمیں زمین کا ایک تکڑا عطا کر دے۔ جس پر ہم تیرا نام پہلے کی طرح بلند کریں اور پھر سے پوری طرح تیرے بندے بن کر اور اس پر خلفائے راشدین جیسی ایک مثالی اسلامی اور فلاحی حکومت قائم کر کے دنیا کودکھائیں ۔ جب ہم پہلے جیسے دنیا کے لیے بن جا ئیں گے ،تو ہمارے اعلیٰ کر داروں کو دیکھ کر اور ان سے متاثر ہوکر دوسری قومیں بھی جوق در جوق ا سلام میں داخل ہو جائیں گی اور پھر سے یہ دنیا امن کا گہوارہ بن جا ئے گی۔
چونکہ اس کاعلم ہر چیز کو محیط کیے ہوئیے ہے۔ یہ جانتے ہوئے بھی کہ یہ وہی کچھ کریں گے جو مجھے بھول کر پہلے کرتے آئے ہیں ، اسے ہماراا صل چہرہ دنیا کو دکھانا مقصود تھا، ایک ملک پھردیدیا؟ اور اس نے اس کی بنیاد بھی معجزانہ طور پر رمضان المبارک کی ستائیسویں شب میں رکھی اور مملکت قائم بھی اِس طرح ہو ئی کہ نہرو جیسے لوگ اپنے مسلم لیگ کے ساتھ کیئے ہوئے معاہدے سے جو پھر چکے تھے اور طاقت کے نشے میں کل تک یہ کہہ رہے تھے کہ “ہم تمہیں کچھ بھی نہیں دیں گے؟ ہماری آنے والی پارلیمنٹ یہ طے کریگی کہ ہمارا دستور کیسا ہوگا؟ ‘‘آج وہی خود قائدینِ مسلم لیگ پر زور دینے لگے اور کہنے لگے کہ ‘‘ تم اپناپاکستان لواور ہماری جان چھوڑو ‘‘
ملک مل گیا اب ہماری وعدے پورے کرنے کی باری تھی؟ ہم اسے مملکتِ خداد کہتے تھے اور حقیقت میں تھا بھی ایسا ہی کہ یہ مملکت اسی کی مہربانی سے بنی تھی۔ لیکن ہم اسے ایک مدت تک اسلامی دستوربھی نہیں دے سکے کیونکہ بعد میں آنے حکمرانوں کو خطرہ تھا وعدے پورے نہیں کرتے ہیں تو عوام نارض ہو جائیں گے اور اگر کرتے ہیں تودنیا کی نظروں سے گر جائیں اور کیونکہ وہ ہمیں ماڈرن نہیں سمجھیں گے ‘‘۔ اس کی وجہ سے ہماری پارلیمنٹ سالوں تک دستور ساز اسمبلی کہلاتی رہی اور دستور بنا کر نہیں دے سکی ۔ جبکہ اس ریاست کی شان یہ تھی کہ بھارت سے چھوٹی ہونے کے با وجود وہ بھارت کو اس وقت سینڈوچ بنا ئے ہوئے تھی کیونکہ ایک سرا اس طرف تھا تودوسرا اس طرف۔ اور ہمارا اور اس کا آبادی کا تناسب بھی ایک اور تین تھا ۔ اس نے مزید مہربانی یہ فرمائی کہ پہلے جیسی اخوت بھی عوام کے دلوں میں ڈالدی ۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی رب نے اس طرح ہمیں نوازا تو ہم اپنے سے سو گنا بڑی اکثریت کو بھی خاطر میں نہیں لائے۔ وہی دور جاری تھا کہ ایسے میں ہم پر پڑوسی ملک حملہ کر بیٹھا اور اس کے ایک جنرل نے ناشتہ واہگہ کی سرحد پر اور اپنالنچ( دوپہر کا کھانا )لاہور میں تناول فر مانے کا اعلان فرما دیا؟
اس وقت پھر ہمیں خدا یاد آیا، پاکستان پر ایک جنرل کی حکومت تھی انہوں نے یہ کہہ کراور پاکستانی قوم کو کلمے کا واسطہ دیکر پکارا کہ‘‘ دشمن نے لا الہ پڑھنے والیٰ قوم کو للکارا ہے اٹھو! اور اس کوسبق سکھادو؟ اس کی ایک آواز پر قوم اپنے تمام اختلافات بھلا کر جمع ہوگئی۔ اور بھارتی جنرل کا وہ خواب ادھورا رہ گیا۔ کیونکہ دونوں بازؤں نے ایک جیسی حمیت اور حب الوطنی کا ثبوت دیا۔ اس وقت عوام کی یہ حالت تھی کہ جو چیز بھی حکومت نے خود یا ملکی دفاع کے نام پر کسی اور نے مانگی؟ ہر فرد اپنی ضرورتوں کو نظر انداز کر کے فوراً فراہم کرنے پر آمادہ ملا؟ ہر طرف سے ایثار کے وہ مظاہرے ہوئے۔ جن سے اس وقت کی تاریخ بھری پڑی ہے۔ ان کو قلم بند کرنے کے لیے ا یک دو نہیں ہزاروں جلدیں چاہیئے ، اس چھوٹے سے مضمون میں وہ سب واقعات نہیں سما سکتے۔
ہم ہمیشہ کی طرح پھر اپنے وعدؤں سے پھر گئے، اور اپنے وعدوں کے مطابق اوروں کو کیا متاثر کرتے، خود اپنوں ہی کوانصاف نہ دے سکے؟ جو کہ اسلام کی اساس ہے جس کا سبق ہمیں ہر جمعہ کے خطبے میں دیا جاتا ہے اور جو بلاتفریقِ مذہب و ملت سب کے ساتھ یکساں کرنے کاہمیں قرآن کی ایک دوسری آیت میں تاکیدی حکم بھی ہے کہ؟ ‘‘ دیکھو!کسی قوم کی دشمنی تمہیں نا نصافی پر مائل نہ کر دے ‘‘
پھر کیا ہوا؟ پھر اسی دشمن نے ہمارے اپنوں کو بہکا کر ملک کے دو تکڑے کردیئے؟
جب سے ذلت اور رسوائی ہمارا دوبارہ مقدر بن چکی تھی اور ہم روز بروز اخلاقی پستی کی طرف جارہے تھے کہ ایک مرتبہ اللہ سبحانہ تعالیٰ نے ہمیں پھر موقع دیدیا کہ عمران خان کی شکل میں ایک مقبول قیادت عطا فرمادی“ جس کا نعرہ پھر مدینہ منورہ جیسی ریاست قائم کرنا ہے “ ہمارے سپہ سالار نے اس دفعہ پھر قوم کو آواز دی ہے جس میں سچائی ہے درد ہے؟ اورہمارے وزرا ء بھی 1965کی اسپرٹ دوبارہ لانے کی بات کر رہے ہیں جوکہ بڑی خوش آئند ہے ۔ مگر اپنے گریبان میں جھانک کر نہیں دیکھ رہے ہیں کہ ہم میں اس وقت جیسی آپس میں محبت اور اخوت بھی ہے، جو حقیقت میں نہیں ہے! پہلےاسے واپس لانا ہوگا ؟ یہ جبھی واپس آسکتی ہے کہ ہم خدا سے اور بندوں سے کیئے ہوئے وعدوں کانہ صرف زبانی احترام کریں ،بلکہ عملی طورپران کو پورا بھی کریں ؟ کیونکہ دلوں میں دوبارہ ا لفت ڈالنا اللہ سبحانہ تعالیٰ کا کام ہے ،یہ اور کسی کے بس کی بات نہیں ہے؟ اور اِس ملک کو مجھے یہ بتانے کی ضرورت نہیں ہے، جس ملک کی 95 فیصدآبادی خود کو مسلمان کہلاتی ہے، کہ اللہ کو منایا کیسے جاتا ہے؟ اب بھی دلوں پر ہاتھ رکھ ہم سب ملکر سوچنے کی زحمت کریں ۔ اگر اللہ کو منانے کا طریقہ قوم کو نہیں یاد رہا ہے۔ تو علماء سے مدد لے لیں وہ بھی اس مسئلہ پر انشا ء اللہ میرے ساتھ متفق ملیں گے کہ‘‘ اگر ہم نے ا پنے اس سے کیے ہوئے وعدے پورے کر کے پہلے اسے راضی نہ کیا تو اس کی نصرت خود بخود ساتھ نہیں آئیگی اور ہم ہر وقت خطرے میں رہیں گے کیونکہ وہ اپنی سنت تبدیل نہیں کرتا؟ اگر ہم پہلےاسے راضی کرلیں گے تو پھر کوئی ہمارا کچھ نہیں بگاڑ کرسکتا۔ اور ہم اپنی قومی صلاحتیں کوا ستعمال کرکے ذلتوں سے نکل سکیں گے؟
شجر کاری کی مہم اس سمت میں اچھی کوشش ہے جو کہ آرمی چیف نے شروع کی اور وزیر آعظم نے اسے اپناکے ایک اچھی طرح ڈالی؟ جس کے ذریعہ ہمارے پڑوسی اور دوست ملک چین نے آزادی کے فوراً بعدعمل کرکے زبردست کامیابی حاصل کی؟ اور پھر قوم کی ا سی روح کو کام لاتے ہوئے ہر میدان میں وہ کامیابیوں پرکامیا بیاں حاصل کرتا چلا گیا؟ جبکہ ہمارے یہاں کبھی بھی کسی قومی بیداری سے فائدہ نہیں اٹھا یاگیا اور ہر موقعہ کو ہمیشہ بیدردی سے ضائع کردیا گیا؟

SHARE

LEAVE A REPLY