کہتے ہیں کہ پڑھی لکھی عورت نسلوں کا مزاج و عادات, سوچ اور اقدار بدل دیتی ہے ,
ایک عورت کی گود ایک اچھی نسل کو پروان چڑھاتی ہے,
»اک مرد پڑھا اک فرد پڑھا ”
لیکن
” ایک عورت پڑھی تو خاندان پڑھا”,
یہ سب نعرے بالکل سچ ہیں اور آج دنیا بھر کی طرح پاکستان میں بھی خواتین کی شرح تعلیم میں بھی بتدریج اضافہ ہوا ہے تو پھر کیا وجہ ہے کہ کل کی ان پڑھ مائیں بڑے بڑے علماء, اساتذہ, سائنسدان, سپہہ سالار ,شاعر, لکھاری, انجینیر پیدا کر رہی تھیں اور آج کی مائیں ان سے کہیں زیادہ تعلیم یافتہ,خود مختار اور آذاد ہونے کے باوجود چور ,ڈاکو,زانی,رشوت خور, بدکردار, نالائق, بدزبان اور بدلحاظ نسل کو پیدا کر رہی ہے ؟
آخر آج کی نسل کی ناکامی کا ذمہ دار کون ہے؟
آج تو عورت ہر میدان میں بازی مار رہی ہے ؟
تعلیم میں اسے پہلے سے زیادہ مواقع مل رہے ہیں..
ہنر مندی اسے ہر میدان میں موقع دے رہی ہے…
پھر کیا وجہ ہے کہ کہاں کل تک
” ایک عورت پڑھی سمجھو پورا خاندان پڑھا “سمجھا جاتا تھا…
تو پھر یہ بدتمیز , بدزبان, سست, ہڈ حرام, نسل کہاں سے تیار ہو کر آگئی. کیونکہ یہ “خوبیاں “کسی ایک معاشی یا سماجی حلقے سے نکل کر نہیں آ رہی ہیں , بلکہ ان “خوبیوں” کے ساتھ کیا ہی لوئیر کلاس, کیا ہی مڈل کلاس, کیا ہی اپر کلاس سب ہی اس پیداوار میں ایک سے بڑھ کر ایک ہیں ..
انہیں کسی سے بات کرنے کی تمیز نہیں, چھوٹے بڑے کا لحاظ نہیں, کسی کی عزت نہیں, ان میں وفاداری نہیں, حیآ نہیں, وعدہ وفائی نہیں, فرض شناسی نہیں, انہیں کوئی کام کرنے کا نہ شوق ہے نہ جلدی ..
ان سب بلباتں کی ہس پردہ حالات کا جائزہ لیں تو اس کی قصور وار صرف اور صرف عورت ہی دکھائی دیتی ہے. فیشن اور ذہنی مادر پدر آذادی کی جستجو نے اسے کامیابی کے نام پر بے راہ روی کی تاریک سڑک پر دھوکے کے ٹرک کی بتی کے پیچھے لگا رکھا ہے. جہاں اس ک منزل صرف اور صرف خسارہ ہی ٹہرتا ہے.
کیونکہ آج کی عورت اپنے حقوق تو جان چکی ہے لیکن اپنے فرائض بھول چکی ہے.
خود رو جھاڑیاں وقتا فوقتاً نہ کاٹی جائیں تو شاندار باغ کو جنگل بنتے دیر نہیں لگتی ہے لیکن اگر مالی اچھا ہو تو وہ جنگل میں سے بھی تراش خراش اور حفاظتی اقدامات سے حسین باغ نکال کر لا سکتا ہے..
آج کی اولاد جو عورت کی پہلی ذمہ داری ہے وہ خود رو جھاڑیوں کی طرح ہی بڑھ رہی ہے. اب اللہ کی جانب سے ہی کوئی بوٹی زہر مار اور تریاق نکل آئے تو نکل آئے ورنہ ہر بوٹی زہریلی ہے اور ہر جھاڑی خار دار..
آج کی عورت کی اکثریت ہر وہ کام کر رہی ہے جس کے بنا بھی شاید گزارہ ممکن ہے لیکن ہر اس کام سے متنفر ہے جو کسی بھی خاندان یا اولاد کی پرورش کا لازمی حصہ ہے.
ضع رت اس امر کی ہے آج کی عورت اپنی ترجیحات کا ازسر نو جائزہ لے. اور اپنی مصروفیات کے بارے میں غور کرے کہ اس اے اس کی قومی ذات کو کا حاصل ہو رہا ہے, اس ک اولاد کو کیا مل رہا ہے , اسے دنیا میں ان کاموں سے کیا حاصل ہو گا ,اور آخرت میں ان کاموں اور طرز زندگی کے کیا ثمرات ہمارے حصے میں آئیں گے .
یاد رکھئیے
زندگی کتنی بھی لمبی ہو ,آخر کو ختم ہو ہی جانی ہے ,اور جہاں جانا ہے وہاں آج کی کھیتی ہمیں ہی کاٹنی ہے .
اپنے پیچھے اس دنیا میں ایک بہترین نسل چھوڑ کر جانے کی سعی کیجئیے, جو ہمارے لیئے دونوں جہانوں میں عزت کا باعث اور صدقہ جاریہ بن سکیں.

SHARE

3 COMMENTS

  1. خاتون یعنی ماں بہن بیٹی کسی بھی گھر کا نیوکلیئس ہوتی ہے۔ وہ کنبے کو جوڑے رکھنے کے لیے گوند کا کام کرتی ہے۔ وہ چھوٹی ہو کر بھی بروں کی طرح ہر کسی کا خیال رکھ سکتی ہے۔ قدرت نے ا سکے دل میں جو ممتا رکھی ہوتی ہے اس سے ہر کوئی فیض پاتا پے۔

  2. ماں بہن ہو یا بیٹی ہر خاتون کسی بھی خاندان کا نیکلیئس ہوتی ہے۔ وہ کنبے کو جوڑے رکھنے میں گوند کا کادرا دا کرتی ہے۔ ا سمیں قدرت میں جو ممتا کا جذبہ رکھا ہوتا ہے لامھالہ ہر وکئی اس سے حصہ لیتا ہے۔ افسوس آج میڈیا اور میک اپ کی چکا چوند نے ا سکے اتنا مصروف کردیا ہے کہ اس کو اب وقت ہی کم ملتا ہے کہاپنی صلاحیتوں کی پیٹی میں بند اس جذبے کو بروئے کار لا سکے