طاہرہؔ مسعود, عزت مآب عمران خان وزیر اعظم پاکستان

1
212

عزت مآب عمران خان وزیر اعظم پاکستان الحمد للہ کہ بالآخر وہ دن آ ہی گیا جب عمران خان نے پاکستان کے وزیر اعظم کے طور پر حلف اٹھا لیا۔ وہ لوگ جو ا ن کے وزیر اعظم بننے کو بڑی تعلّی اور تکبر سے ناممکنات میں سے کہتے تھے اور عجیب و غریب دعوے اور پیش گوئیاں کرتے تھے گویا ان کو الہام ہو اہو کہ عمران خان وزیرِ اعظم نہیں بن سکتے ،ان کے دلوں پر کیا گزر رہی ہو گی۔ بعض سکتے میں ہوں گے اور بعض شاید دماغی توازن کھو چکے ہوں۔ وہ جنہوں نے حلق پھاڑ پھاڑ کرا س کو “دھاندلہ” کہا وہ بھی خوب “عزت” اور نام کما کر کہیں پس پردہ جا کر شانت ہوچکے ہیں۔ الحمد للہ ثم الحمد للہ۔ “بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے” تبدیلی کھا گئی بے ایماں کیسے کیسے جناب عمران خان صاحب کے وزیر اعظم بنتے ہی لگا کہ پاکستان کا وقار جیسے ایک دم بڑھ گیا ہو۔ ہم بحیثیت مجموعی معتبر ہو گئے ہوں۔ عوام کے چہروں پر بشاشت اور امید ہے۔ ہر چہرہ شاد باد منزل مردا کا متمنّی ہے۔ مجموعی طور پہ فضا سے گھٹن کے بادل چھٹ گئے ہیں۔ ان کی تقریر سن کر یاد آیا آج سے دو ،ڈھائی عشرے پہلے کراچی میں ایک میگزین میں پاکستان کے کرپٹ نظام اور زبوں حالی پر ایک نوحہ نما آرٹیکل لکھا تھا جس میں پاکستان کی ریلوے کا ابتر نظام اسپتالوں کی حالت زار، دو نمبر دوائیوں کی بہتات، علاج کے مہنگے اخراجات اور دوائیوں کے ہوشربا نرخ اور اصلی دوائیوں کی کم یابی، صفائی کا فقدان، مریضوں کی بے بسی،
مسیحاؤں کا گھمنڈ اور فرعونیت،کچرے کے ہلاکت خیز ڈھیر، اشیائے خورونوش میں ملاوٹ، مضر ِصحت پینے کا پانی، شہر کو در پیش پانی کی کمی، شہروںمیں درختو ں اور جھاڑیوں نیز بجلی کے کھمبوں میں جھنڈیوں کی طرح پروئے ہوئے شاپرز، سیوریج کا مفلوج نظام، بچوں کے لیے خوفناک مضر صحت دودھ کی فروخت، دوہرے تعلیمی معیار، ٹریفک کا مفلوج نظام ، فٹ پاتھوں پر تجاوزات، علاقائی تفریق ، عقائد کی منافرت ،عدم برداشت، پولیس کی بدنام زمانہ ریپوٹیشن، نوجوانوں کی رہنمائی کے لیے فلاحی تنظیموں کی ضرورت اور بچوں کی کھیل کود کے لیے مختص پارکوں کی پلاٹننگ اور ناجائزفروخت کا رونا رویا تھا۔ مگر وہ ایک عام سا میگزین تھا ۔ ا سکی سرکولیشن بھی زیادہ نہ تھی۔ لیککن سوچتی ہوں اگر وہ خاص بھی ہوتا تو جب حکومت ہی نہایت نا اہل اور نا مخلص تھی پھر سمجھتا یا سنتا کون؟آج جب نو منتخب وزیر اعظم کی تقریر سنی تو روح تک سکون اتر آیا۔ ان مسائل پر اپنی طرح بات کرتے دیکھا تو جی ٹھنڈا ہوگیا۔ آنکھیں بھر آئیں۔ کتنی آرزو تھی کہ کوئی تو ہو جوپاکستانیوں کو سوچے ،پاکستان کی سوچے اے وطن کوئی تو ہو جو کہ زلفیں سنوار دے تیری کوئی تو کہو جو کہ مشکل اُسار دے تیری خدا تجھے وہ قیادت دے جو کہ تیری ہو کبھی پنپنے نہ پائے جو تیرا بیری ہو نہیں ہدف تھا یہ تیرہ شبی نہ منزل تھی ترا نصیب تو مخمل سی ایک محمل تھی تو الحمد للہ وہ رہنما آج پاکستان کو مل گیا۔ لیکن افسوس کہ کچھ لوگ ہیں جن کو محبت کے نغمےپسند نہین ان کو عمران کان کے خوبصورت افکار
سمع خراشی لگ رہے ہیں۔ جبکہ جس وقت ملک میں ہلاکت ناچ رہی تھی کرپشن کی کالی دیوی خزانے میں دانت گاڑے ہوئے تھی ۔ ملک میں ایک گٹر جیسی فضا اور گھٹن تھی تب یہ خاموش تھے۔ اب جب باد صبا کی ایک ٹھنڈی لہر آئی ہے اور اندھیرے میں روشنی کی پہلی کرن طلوع ہوئی ہے تو یہ چاہتے ہیں کہ آنا فاناً نصف النہار کا سورج چڑھ جائے۔ نئے حکمرانوں کے پاس کوئی جادوکی چھڑی نہیں ہے اس لیے ان سےغیرا نسانی مطالبے اور توقعات رکھنا نا انصافی ہے۔ نصف صدی کا گند چند دنوں یا مہینوں میں کیوں کر ختم ہو سکتا ہے۔ نئے وزیر اعظم پر ا سوقت بہت دباؤ ہے۔لیکن انہوں نے جو بنیادی قدم اٹھائے ہیں انشا للہ اس کے نتائج بہت جلد ظاہر ہوں گے۔ اس وقت بعض لوگ بلا وجہ ان پر تنقید کرنے میں جلدی کر رہے ہیں۔ بعض لوگ ان کے مقرر کردہ وزراء کی سادگی پر اعتراض کرتے ہیں تو کوئی اور کسی وزیر کی انگریزی پر۔ اصل چیز خدمت کا جذبہ اور ایمان داری ہے۔ اگر یہ نہ ہو تو لیڈر کی صرف علمی قابلیت عوام کے کس کام کی؟ بعض نئے نئے مطالبے کرتے ہیں ، ارے بھئی نئی حکومت کو سانس تو لینے دیں ۔ ان کو کچھ وقت تو دیں۔ قائد اعظم سے مخلص تو کوئی نہیں تھا نہ؟ لوگوں نے ان کے گرد بھی اعتراضات اور تقاضوں کا گھیرا تنگ کیا تھا۔ عمران خان صاحب انتھک طور پر اپنے نظریات کا اظہار فرما رہے ہیں۔ یقیناً وہ اپنے جیسے ہم خیال اور ہم اوصاف کئی لوگ بنائیں گے۔ امید ہے کہ وہ ہر ماہ عوام سے خطاب کر کے ان کو متحد کرتے ہوئے بہتری کی طرف موٹیویٹ کرتے رہیں گے۔ اللہ ان کا حامی و ناصر ہو۔آمین

طاہرہؔ مسعود۔ کینیڈ

SHARE

1 COMMENT