چیف جستس صاحب فنڈ ریزنگ کے لئے لندن میں ہیں اُن کے ساتھ کچھ اینکرز بھی ہیں آج ہم نے ایک پروگرام دیکھا تو ہم کچھ سوچنے پر مجبور ہوئے ہمیں نہ تو دقیا نوسی سمجھا جائے اور نہ ہی کسی کا مخالف بس اتنا چاہتے ہیں کہ زرا پلٹ کر دیکھیں کہ ہم کیا ہو سکتے تھے اور کیا بن گئے ۔ہم دوسروں کی تعریف میں آسمان زمین کے قلابے ملا رہے ہیں لیکن یہ نہیں دیکھتے کہ اُن کے میڈیا اُن کے عدالتی احکام اُن کے حاکم کسی کے زیرِنگیں نہیں رہے جس طرح ہم نے پاکستان بننے کے کچھ عرصے بعد ہی خود کو بڑی طاقتوں کے سپرد کر دیا بجائے خود کو اُٹھانے کے کیونکہ ہم نے سیاست بھی اپنی ترقی کے لئے کی اور حکومت بھی اپنے مفادات اور اپنے خاندانوں کی بڑائی کے لئے کی ، ہمیں دُکھ ہوتا ہے جب ہم ان مغربی ممالک کی بات کرتے ہپیں انہوں نے جو کچھ حاصل کیا وہ ہماری ہی ساری تعلیم کو اختیار کر کے کیا ۔انہوں نے ہمارے ضابظئہ حیات ہی کو مشعلِ راہ بنایا جب کہ ہم نے اپنی تعلیمات سے دوری اختیار کی ہم سنتوں کی بات نہیں کرتے کیونکہ ہمیں مذہبی ہونے کا خوف گھیر لیتا ہے دقیانبوسی ہونے کا ڈر ڈھانپ لیتا ہے ۔ ہم سچ نہیں بولتے بلکہ سچ کا ساتھ بھی مشکل سے دیتے ہیں ۔ہم صرف اتنا پوچھنا چاہتے ہیں اُن سب سے جو ان معاشروں کی جھلک دکھا کر ہمیں اُن کی طرف راغب کرتے نظر آتے ہیں کہ کبھی آپ نے اپنی تعلیمات اپنی تہذیب اپنی معاشرت لوگوں تک اس طرح پہنچائی جس طرح آپ مغربی زندگی کو لے آئے ہماری زندگیوں میں ؟؟
ہمیں کسی بات سے اختلاف نہیں ہے بالکل ان ممالک نے جس طرح اپنے ملک میں انصاف کا اور عدل کابول بالا کیا بلا امتیاز اگر ہم نے بھی راہ دی ہوتی انصاف کو عدل کو اگر ہم نے بھی پنپنے دیا ہوتا ایمانداری اور احتساب کوتو شاید ہم ان سے کہیں تہزیب یافتہ اور با شعور قوم ہوتے ۔ہماری مثالیں دی جاتی تھیں میں ایک کتاب پڑھ رہی تھی ‘ اسلامی بحری بیڑے “ اُس میں مصنف نے تاریخ بتائی ہے کہ کس طرح انگریزوں نے ہم سے صفائی سیکھی ۔اپنے گھروں میں پودے لگانے سیکھے بلکہ اُس میں یہ بھی لکھا ہوا تھا کہ نہانا بھی ہم مسلمانوں ہی نے انہیں سکھایا کہ جسم کی صفائی بھی ضروری ہے ۔اسی طرح گھروں کے سامنے باغ لگانے کی ترغیب بھی انہیں مسلمانوں نے دی جب وہ ہجرت کر کے سمندری راستے سے یہاں پہنچے ۔لیکن ہم نے خود کو اب صرف اور صرف ان باتوں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا ہے جو دنیاوی ہیں ۔اگر پلٹ کر دیکگیں تو صرف اتنا کرنا تھا کہ اپنی اقدار اور اپنی تعلیمات کو فروغ دے دیتے آج آپ ایک مغربی ملک میں کھڑے ہو کر اُسکی تعریف میں رطب اللسان نہ ہوتے ۔ہمیں اُن ملکوں کی ان باتوں سے سبق ضرور سیکھنا چاہئے لیکن اپنی خامیوں کو دیکھنا لازم ہے کہ ہم اُس ماحول کے لئے بنے ہیں نہ ہمیں بننا چاہئے ۔ہم خود اتنے طاقتور اور ہمارا کلچر اتنا مضبوط ہے کہ اگر ہم اُس پر عمل کرلیں تو ہم سے زیادہ انسانیت دوست ۔کوئی ہو نہیں سکتا کہ ہم اُس نبی کی امت ہیں جس نے زندگی کے کسی بھی شعبے میں ہمیں بے علم نہیں رکھا یہ ہماری بد قسمتی ہے کہ ہم نے خود کو دنیا کے لئے مثال بنانے کے بجائے دنیا کو اپنے لئے مثال بنا لیا ۔یہ ہی ہماری بد قسمتی ہے ،
میری کینیڈین پڑوسن نے مجھ سے فرمائش کی کہ جب تم پاکستان جاؤ تو میرے لئے ایک شلوار قمیض لانا مجھے تمہارا ڈریس بہت پسند ہے ۔میں اس دفعہ اُس کے لئے ایک سوٹ لے آئی جب میں نے اُسے یہ تحفہ دیا تو وہ بہت خوش ہوئی مگر اُسکی بات سے مجھے جتنی شرمندگی ہوئی وہ بس میں پہی جانتی ہوں۔ اُس نے کہا تمہارا ڈریس اتنا خوبصورت ہے لیکن میں ٹی ؤی پر اور ویسے بھی دیکھتی ہوں تم لوگ اپنا ڈریس اپنے ملک میں بھی پہننا پسند نہیں کرتے بس تمہاری عمر کی عورتیں ہی یہ ڈریس پہنتی ہیں کیوں ؟ اور اُس کے اس کیوں کا جواب میرے پاس سوائے خاموشی کے کچھ نہیں تھا ،میں کیسے کہتی کہ تمہارے کلچر نے ہمارے کلچر کو جس خاموشی سے نگل لیا ہے وہ تم محسوس بھی نہیں کر سکتی اور ہمارے وہ ترقی پسند لوگ جو صرف تمہارے طرز کے اختیار کرنے کو ہی ترقی سمجھتے ہیں کس طرح ہمیں تمہارے رنگ میں رنگ رہے ہیں کہ ہم اپنی تعلیم اور اپنی بنیاد سے بھی دور ہو رہے ہیں ۔جب کہ ترقی وہ ہی کرتے ہیں جو اپنی اقدار اپنے ماحول اور اپنی معیشت سے جڑے رہتے ہیں اپنے مزہب کی پیروی کرتے ہیں ۔دوسروں کی ترقی سے سبق ضرور حاصل کرتے ہیں لیکن اپنی زات اور اپنی اقدار کو چھوڑ کر نہیں بلکہ انہیں اختیار کر کے اُن پر قائم رہ کر ۔کاش ہم سمجھ سکیں کہ ہم سب سے اوپر ہیں اگر خود کو اپنی تہزیب اپنے شعار کی طرف لے آئیں کہ فلاح اور کامیابی اسی میں ہے جس سے ہم دانستہ، یا نا دانستہ دور ہو بھی رہے ہیں اور کر بھی رہے ہیں ۔
‘میرا بس چلے تو حکومت چلنے ہی نہ دوں ‘ یہ خبر آپ نے ہم سے پہلے پڑھ لی ہوگی ۔ہمیں تو خوشی بس اتنی ہے کہ ہر کوئی کھل کر سامنے آرہا ہے کہ کتنا مُحب وطن ہے ۔کہ خود حکومت میں ہو تو حکومت چلے سو سال اگر خود حکومت سے باہر ہوں تو چلنے ہی نہ دیں ۔یہ کیسے پاکستانی ہیں یہ کیسے پاکستان سے پیار کرنے والے ہیں جن کی باتیں سوائے تکلیف پہنچانے کے کچھ نہیں کرتیں ۔خود کچھ کیا نہیں کسی کو کرنے نہیں دیتے۔بس یہ ہی انکی پہچان ہے ۔
ہم نے ان تین سوا تین مہینوں میں جو کچھ دیکھا وہ بھی ایک تاریخ ہے جسے کوئی موئرِخ ضرور لکھ رہا ہوگا ۔ورنہ وقت نقیب بنے گا کہ جو کچھ ہو رہا ہے وہ ایسا ہے کہ شاید تصور میں بھی نہیں تھا ۔لیکن ہمارے کچھ پڑھے لکھے بہت ہی تجربہ کار اسکالر تجزیہ نگار تھنک ٹینک جو خود ہی تھنک ٹینک بنے ہوئے ہیں ہمیں تو کہیں سے بھی اُن کی تھنکنگ سمجھ نہیں آتی اور یقینا` یہ اُن کا نہیں ہمارا قصور ہے کہ ایسے تعلیم یافتہ تجربہ کار لوگوں کی باتیں ہمارے سَر سے گزر جاتی ہیں ۔کہتے ہیں ان میں عقل ہی نہیں ہے ؟ یہ حکومت کر ہی نہیں سکتے ۔انہیں پتہ ہی نہیں ہے ؟ یہ سمجھ ہی نہیں رکھتے ؟ انہیں معلوم ہی نہیں ہے ۔ہم سو فیصد اتفاق کرتے ہیں شاید اسی لئے انکی جماعت نے بڑے بڑے کام کر دکھائے وہ کام جو حکومتیں بھی نہ کر سکیں ۔دس دس سال کی حکومتیں انکے کاموں کو تنقید کا نشانہ بنا رہی ہیں اور ہم حیران ہیں کہ وہ لوگ جو خود کچھ نہ کر سکے کیسے سفید کاغز نکال رہےہیں کیا کہیں کوئی دھیان ہے کہ اگر کسی نے اُنکے دس دس پندرہ پندرہ سال نکال لئے تو وہ کدہر جائینگے ،کیا پلٹ کر دیکھ سکتے ہیں اپنی کار کردگی ؟
ہم اُن تجزیہ نگاروں کی خدمت میں صرف ایک عرض کرنا چاہتے ہیں کہ آپ سب نے ہمیشہ پروگرواموں میں یہ نوید سنائی کہ جو ہورہا ہے وہ آپ کو بھی پتہ ہے مجھے بھی پتہ ہے ؟ جس جس نے کھیا ہے وہ آپ کو بھی پتہ ہے مجھے بھی پتہ ہے ہمارا سوال ہے کہ ہمیں تو وہ ہی پتہ ہے جو آپ ٹی وی پر بیٹھ کر ہمارے گوش گزار کرتے ہیں لیکن اگر آپ کو پتہ ہے ہماری قسمتوں سے کھیلنے والے کون ہیں ،کرپشن کرنے والے کون ہیں تو کیا آپ بھی اُن سب کے ساتھ ہمارے مجرم نہیں ٹہرتے کہ آپ نے ان سب کی کارستانیاں چھپائیں اتنے سالوں تک ۔پم تو آپ کو جب مانیں جب آپ صاف صاف نام لیں ہر اُس شخص کا جو پاکستان کے ساتھ زیادتی کرتا رہا جس نے پاکستان کو لوٹا ۔ ہم رو اس پر بھی حیران ہیں کہ جھوٹ بطولنے والے اور اُن کے ساتھی کس طرح لوگوں میں یہ بات پھیلا رہے ہیں کہ جھوٹ بولا جارہا ہے ۔اگر اب بھی ملک کی طرف نہ دیکھا تو یاد رکھیں کہ نہ یہ حزبِ اختلاف رہے گی نہ ہی آپ کی یہ اعزازی سیٹیں جن پر بیٹھ کر آپ ہماری قسمتوں سے کھیلتی ہیں ۔ہماری تو ایک خواہش ہے کہ یہ اعزازی کوٹہ ختم کیا جائے اور صرف اور صرف ایلیکشن میں جیتنے والی خواتین ہی کو پارلیمنٹ کا حصہ بنایا جائے ۔
ہمارا ایک سوال اُن لوگوں سے بھی ہے جو سو دِن کی کارکردگی مانگ رہے ہیں کہ آپ سالوں سے کورٹ میں ہیں ۔آپ نے عدلیہ میں کچھ بہتری کی کوشش کی ،ہمارا سوال ڈاکٹروں سے ہے کہ آپ اسپتالوں میں سالوں سے ہیں آپ نے ان کے ماحول میں کوئی تبدیلی کی ۔ ہمارا سوال پروفیسرز سے ہے کہ آپ سالوں سے یونیورسٹیوں میں ہیں آپ نے تعلیم کے مسائل حل کئئے ۔ہمارا سوال ٹیچرز سے ہے کہ آپ سالوں سے پڑھا رہے ہیں آپ نےتعلیمی نظام کو تبدیل کرنے کی کوشش کی ۔ہمارا سوال اینکر حضرات سے ہے کہ اآپ نے اُن کرپشنوں کی نشاندہی کی اُن لوگوں کی نشاندہی کی جنہوں نے ہمیں یہاں تک پہنچا دیا ۔اپنے تمام اُن ہم وطنوں سے ہے جن کے بچے باہر پڑھ رہے ہیں کیا آپ نے کبھی اپنے ملک کو اس قابل بنانے کی کوشش کی کہ آپ کا بچہ یہیں تعلیم حاصل کرتا اور یہیں سے انجینئیر ڈاکٹر ،جج اور ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ بن کر نکلتا یا پھر میں یہ پوچھوں کی کیا پاکستانی بچے جو باہر تعلیم کے لئے نہیں جاسکتے آپ کے بچوں سے کسی صورت بھی زہانت میں کم ہیں شاید وہ آپ کے بچوں سے زہانت اور صلاحیت میں کہیں زیادہ ہیں وہ بھی اگر ایسی تعلیم حاصل کر سکیں تو اآپ سب کے بچوں کو بھی پیچھے چھوڑ جائینگے اور یہ ہی خوف شاید ہمیں روکتا ہے کہ نہ تعلیم ٹھیک کرو نہ اسپتال نہ عدالت نہ اسکول ۔
اگر کسی کی بھی میرے کسی جملے یا لفظ سے دِل آزاری ہوئی ہو تو معافی کی درخواست ۔لیکن نہ جانے کیوں اج دل بہت بھر آیا تھا ۔
اللہ میرے ملک کو اتنی ترقی دے کہ وہ بھی اُن ممالک کی صف میں جا کھڑا ہو جن کی مثالیں دے دے کر ہمیں دُکھی کیا جاتا ہے ۔
پاکستان زندہ باد

SHARE

LEAVE A REPLY