بارہ / نومبر 1966شکیب جلالی نے سرگودھا میں ٹرین کے نیچے آکر خودکشی کرلی

0
629

بارہ / نومبر 1966شکیب جلالی نے سرگودھا میں ٹرین کے نیچے آکر خودکشی کرلی

وقار زیدی ۔ کراچی

شکیب جلالی کی وفات

بارہ / نومبر 1966ء کو اس خبر نے کہ اردو کے صاحب اسلوب شاعر شکیب جلالی نے سرگودھا میں ٹرین کے نیچے آکر خودکشی کرلی ہے، پوری ادبی دنیا کو سوگوار کردیا۔
شکیب جلالی کا اصل نام سید حسن رضوی تھا اور وہ یکم اکتوبر 1934ء کوعلی گڑھ کے قریب ایک قصبے جلالی میں پیدا ہوئے تھے۔ 1950ء میں وہ پاکستان آگئے جہاں ملازمتوں کے سلسلے میں وہ مختلف شہروں میں مقیم رہے۔شکیب جلالی‘ ایک منفرد اسلوب کے شاعر تھے۔ انہوں نے بلاشبہ غزل کو ایک نیا لہجہ دیا۔
ان کا شعری مجموعہ روشنی اے روشنی ان کے ناگہانی انتقال کے چھ برس بعد 1972ء میں لاہور سے شائع ہوا۔ اس مجموعہ کلام کا شمار اردو کے چند اہم ترین شعری مجموعوں میں ہوتا ہے۔ 2004ء میں لاہور ہی سے ان کے کلام کے کلیات بھی شائع ہوئی۔

شکیب جلالی نے صرف 32 برس کی عمر پائی مگر انہوں نے اتنی کم مہلت میں جو شاعری کی وہ انہیں اردو غزل میں ہمیشہ زندہ رکھے گی۔
آکر گرا تھا کوئی پرندہ لہو میں تر
تصویر اپنی چھوڑ گیا ہے چٹان پر
……٭٭٭……
جہاں تلک بھی یہ صحرا دکھائی دیتا ہے
مری طرح سے اکیلا دکھائی دیتا ہے
نہ اتنی چلے، سر پھری ہوا سے کہو
شجر پہ ایک ہی پتہ دکھائی دیتا ہے
……٭٭٭……
شکیبؔ اپنے تعارف کے لیے یہ بات کافی ہے
ہم اس سے بچ کے چلتے ہیں جو رستہ عام ہو جائے

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
احمد راہی کی پیدائش

بارہ / نومبر 1923ء پنجابی کے نامور شاعر اور فلمی نغمہ نگار احمد راہی کی تاریخ پیدائش ہے۔احمد راہی کا اصل نام غلام احمد تھا اور وہ امرتسر میں پیدا ہوئے تھے۔
1946ء میں ان کی ایک اردو نظم آخری ملاقات افکار میں شائع ہوئی جو ان کی پہچان بن گئی۔ اس کے بعد ان کا کلام برصغیر کے مختلف ادبی جرائد کی زینت بننے لگے۔ قیام پاکستان کے بعد وہ لاہور میں قیام پذیر ہوئے اور ماہنامہ سویرا کے مدیر مقرر کئے گئے۔ 1953ء میں پنجابی زبان میں ان کا شعری مجموعہ ترنجن شائع ہوا جس نے ادبی حلقوں میں بڑی پذیرائی حاصل کی اور احمد راہی کا شمار جدید پنجابی نظم کے بانیوں میں ہونے لگا۔

کم و بیش اسی زمانے میں انہوں نے پنجابی فلموں میں نغمہ نگاری کا آغاز کیا۔ ان کی پہلی فلم بیلی تھی جس میں انہوں چار گیت لکھے تھے اور چاروں کے چاروں بہت خاصے مقبول ہوئے تھے اس کے بعد انہوں نے لاتعداد پنجابی فلموں کے لئے نغمات تحریر کئے جن میں شہری بابو، ماہی منڈا، پینگاں، چھومنتر، یکے والی ، پلکاں، گڈو، سہتی ، یار بیلی ، مفت بر، رشتہ، مہندی والے ہتھ، بھرجائی، اک پردیسی اک مٹیار، وچھوڑا، باڈی گارڈ، قسمت، ہیر رانجھا، مرزا جٹ، سسی پنوں، نکے ہوندیاں دا پیار، ناجو اور دل دیاں لگیاںکے نام سرفہرست تھے، اس کے علاوہ انہوں نے کئی اردو فلموں کے لئے بھی کئی نغمات تحریر کئے جن میں فلم آزاد، کلرک اور باجی کے نام شامل ہیں۔

احمد راہی کی دیگر تصانیف میں ان کے شعری مجموعے رت آئے رت جائے، رگ جاں اور فلمی نغمات کا مجموعہ نمی نمی وا شامل ہیں۔

احمد راہی نے متعدد ایوارڈز بھی حاصل کئے تھے جن میں سب سے بڑا ایوارڈ صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی تھا جو انہیں 1997ء میں حکومت پاکستان نے عطا کیا تھا۔ احمد راہی کا انتقال 2 / ستمبر 2002ء کو لاہور میں ہوا اور وہ لاہور ہی میں آسودۂ خاک ہوئے۔

SHARE

LEAVE A REPLY