بیٹی جب پیدا ہو، تو اس کا نام محبت رکھنا ۔کوثر جمال

0
93

میری بیٹی نور اب سات برس کی ہے۔ کبھی کبھی اپنی عمر سے کہیں بڑی باتیں کر جاتی ہے۔ اس وقت رات کے اڑھائی بجے ہیں۔ کمرے کی فضا میں اس کی پرسکون نیند کے ہلکے ہلکے خراٹے ارتعاش پیدا کر رہے ہیں۔ لیکن نیند میری آنکھوں سے کوسوں دور ہے۔ اس کی ایک “بڑی بات” کے شور نے میرے اندر ہنگامہ سا مچا رکھا ہے۔

ان دنوں یہاں سڈنی میں گرمیوں کا موسم ہے۔ ہم دونوں ماں بیٹی رات کو اپنے گھر کے سامنے کی لمبی سڑک پر دیر تک واک کرتے ہیں۔ یوں تو ہمارے علاقے میں عام ٹریفک کا گزر نہیں، پھر یہ سڑک بھی بند راستہ ہے اس کے باوجود اس پر کبھی کبھار کسی مقامی رہائشی کی گاڑی کا گزر ہو ہی جاتا ہے۔ ایسے میں میں حفاظتی نکتہ نظر سے نور کا ہاتھ پکڑ کر اسے فٹ پاتھ والی طرف کر لیتی ہوں ۔

آج گھر واپس آئے تو نور کہنے لگی: ” ماما جب آپ کسی گاڑی کو اپنی طرف آتا دیکھ کر مجھے فٹ پاتھ والی سائیڈ پہ کرتے ہو تو میں دعا کرتی ہوں کہ میری ماما کو کچھ نہ ہو اور میں چاہتی ہوں کہ میں سڑک والی طرف ہو جایا کروں ” ۔۔۔۔ میں نے اپنی نم الود نگاہوں سے اسے دیکھا تو وہاں مجھے نور کی جگہ اپنی ماں نظر آئی۔
۔۔۔۔ اے لوگو، بیٹی جب پیدا ہو، تو اس کا نام محبت رکھنا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

کوثر جمال

SHARE

LEAVE A REPLY