چودہ/ نومبر 1957ء اسٹیٹ بنک آف پاکستان کے پہلے گورنرنے وفات پائی

0
373

اقبال حسن کی وفات
یہ 14 / نومبر 1984ء کی بات ہے کہ پاکستانی فلمی صنعت کے دو مایہ ناز اداکار اقبال حسن اور اسلم پرویز، حیدر چوہدری کی فلم جھورا کی عکس بندی کے بعد فیروز پور روڈ، لاہور سے اپنے گھروں کو واپس جارہے تھے کہ ان کی کار کا ایک ویگن سے تصادم ہوگیا۔ اس تصادم کے نتیجے میں اقبال حسن تو جائے حادثہ پر ہی جاں بحق ہوگئے جبکہ اسلم پرویز ایک ہفتہ تک موت اور زندگی کی کشمکش میں مبتلا رہنے کے بعد 21 /نومبر کی صبح خالق حقیقی سے جاملے۔

اقبال حسن نے اپنی فنی زندگی میں 285 فلموں میں کام کیا تھا۔ وہ پاکستان کے مقبول اداکاروں میں شمار ہوتے تھے۔ اقبال حسن کی فلمی زندگی کا آغاز ہدایت کار ریاض احمد کی پنجابی فلم سسی پنوں سے ہوا تھا۔ انہوں نے کچھ اردو فلموں میں بھی کام کیا لیکن ان کی وجہ شہرت پنجابی فلمیں ہی بنیں۔ اقبال حسن کی مشہور فلموں میں یار مستانے، سر دھڑ دی بازی، وحشی جٹ، طوفان، گوگا شیر، وحشی گجر، شیرتے دلیر، دو نشان، سر اچے سرداراں دے، میری غیرت تیری عزت، ہتھکڑی ،ایمان تے فرنگی، بغاوت، جوانی دی ہوا، ڈاکو تے انسان، دس نمبری، جوڑ برابر دا، خانو دادا، جوان تے میدان، سجن دشمن، مرزا جٹ،دادا استاداور بدلے دے آگ کے نام سرفہرست ہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جناب زاہد حسین کی وفات

چودہ/ نومبر 1957ء کو پاکستان کے مشہور ماہر اقتصادیات اور اسٹیٹ بنک آف پاکستان کے پہلے گورنر جناب زاہد حسین نے وفات پائی۔ جناب زاہد حسین 1895ء میں پیدا ہوئے تھے انہوں نے اسلامیہ کالج لاہور اور علی گڑھ کالج سے تعلیم حاصل کی۔ پھر انڈین فنانس ڈپارٹمنٹ کے مقابلے کے امتحان میں نمایاں کامیابی حاصل کرکے حکومت کے اہم عہدوںپر فائز رہے۔

1945ء سے 1947ء تک وہ سلطنت آصفیہ (حیدرآباد دکن) میں وزیر خزانہ کے عہدے پر خدمات انجام دیتے رہے۔ قیام پاکستان کے بعد وہ بھارت میں پاکستان کے پہلے سفیر مقرر ہوئے۔

یکم جولائی 1948ء کو اسٹیٹ بنک آف پاکستان کا افتتاح ہوا تو جناب زاہد حسین اس کے پہلے گورنر مقرر ہوئے۔ اس کے بعد بھی آپ مختلف اہم عہدوں پر فائز رہے۔ 14 نومبر 1957ء کو آپ نے کراچی میں وفات پائی۔ آپ کو علامہ شبیر احمد عثمانی کے پہلو میں دفن کیا گیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مولانا ظہور الحسن درس کی وفات

چودہ / نومبر 1972ء کو مشہور عالم دین مولانا ظہور الحسن درس نے وفات پائی اور کراچی میں قبرستان مخدوم صاحب نزد دھوبی گھاٹ کراچی میں آسودۂ خاک ہوئے۔
آپ 9 / فروری 1905ء کو کراچی میں مولانا عبدالکریم درس کے ہاں پیدا ہوئے۔ آپ 1940ء سے 1947ء تک آل انڈیا مسلم لیگ کونسل کے رکن اور اہم عہدوں پر فائز رہے۔قائداعظم آپ کو سندھ کا بہادر یارجنگ کہا کرتے تھے۔

قیام پاکستان کے بعد قائد اعظم نے عید الفطر اور عید الاضحی کی نمازیں آپ ہی کی اقتداء میں ادا کیں۔ اکتوبر 1947ء میں جب عید الاضحی کی نماز کے وقت قائد اعظم کے عید گاہ میں پہنچنے میں تاخیر ہوئی اور اعلیٰ حکام نے آپ سے نماز کو کچھ وقت کے لیے مؤخر کرنے کی درخواست کی تو آپ نے کہا کہ میں قائد اعظم کے لیے نماز پڑھانے نہیں آیا ہوں بلکہ خدائے عزوجل کی نماز پڑھانے آیا ہوں چنانچہ انہوں نے صفوں کو درست کرکے تکبیر فرما دی اتنے میں قائد اعظم بھی عید گاہ پہنچ گئے اور انہوں نے پچھلی صفوں میں نماز ادا کی۔ نماز کے بعد قائد اعظم نے مولانا ظہور الحسن درس کی جرأت ایمانی کی تعریف کی اور کہا کہ ہمارے علما کو ایسے ہی کردار کا حامل ہونا چاہیے۔

مولانا ظہور الحسن درس کئی کتابوں کے مصنف تھے جن میں چشم تلطف پنجتن‘ خون کے آنسو اور تحقیق الفقہ اما فی کلمتہ الحق کے نام سرفہرست ہیں۔

وقار زیدی

SHARE

LEAVE A REPLY