جہان گم گشتہ کا عقاب،باب سوئم ۔ دوسری قسط

0
72

اگلی صبح چند تارے ابھی چمک رہے تھے اور پوری کڑی میں روانگی کی تیاریاں شروع ہو چکی تھیں۔ جرنیل اور اس کا بیٹا حسب سابق پیدل ہی اپنے سفر پر روانہ ہو گئے۔ خیمے گرا دئیے گئے تھے اور باربرداری کے جانوروں پر بار لادا جا رہا تھا۔ ناشتہ بنانے کے بعد جگہ جگہ آگ پر پانی ڈالا جا رہا تھا۔ کتوں کے بھونکنے اور اونٹوں کی بلبلاہٹ پر ایک شور مچا ہوا تھا۔۔۔کیوں کے انھیں سفر کے لئے تیار کیا جا رہا تھا۔ کارواں کو اگلے روز بارڈر پار کرنا تھا تب انھیں حکام کے رویوں کا علم ہونا تھا۔

سورج ابھی طلوع بھی نہیں ہوا تھا کہ قافلہ اپنے سفر پر لگ گیا۔ دوپہر ہونے سے پہلے ہی وہ سطح مرتفع کے کنارے پر تھے۔۔۔جہاں دونوں ملکوں کی سرحد تھی۔ ان کے سامنے ایک بے چہرہ دشت تھا۔ وہاں چند تباہ شدہ کاریزوں کے آثار تھے۔۔۔جنہیں قدیم دور کے انسانوں نے بہت مشقت سے موسم بہار کے پانی کے ذخیرے اور ترسیل کے لئے بنایا تھا لیکن انھیں بھی کسی تہذیبی تبدیلی نے برباد کر دیا اور وہ کاریزیں بنانے والے تاریخ کے صفحات میں جگہ نہ پا سکے۔

آج اس کاریزی تہذیب کے تمام نشان اور خود وہ لوگ بھی وہاں سے غائب ہو چکے تھے۔ چند قدرتی چشمے اب بھی جاری تھے۔۔۔اور کڑی نے رات کے قیام کے لئے وہیں رکنے کا فیصلہ کیا۔ پورا دن بغیر کسی بڑی سرگرمی کے گزرا البتہ قبیلے کے سبھی مرد و زن متوقع رکاوٹ پر مغموم تھے۔ اب چشمے پر آ کر کچھ سکون میں آ گئے۔ سارے مرد اکٹھے ہوے۔ کل چونکہ بارڈر پار کرنے کا دن تھا اس لئے دو اہم فیصلے کئے گئے۔ اول یہ کہ سبھی جوانوں اور جوشیلے سر پھروں کو قبیلے کے عقب میں رکھا جاے گا۔ دوئم یہ کہ ہر مرد اپنے بیٹوں اور بھتیجوں کو پرسکون رکھنے کی ذمہ داری لے گا۔۔۔خاص کر بارڈر حکام کے سامنے۔

اگلی صبح دو گھنٹے سے بھی کم سفر کرنے کے بعد وہ ایک خشک ندی کی تلی میں پہنچ گئے۔۔۔جس کے دونوں جانب چٹانیں یوں کھڑی تھیں جیسے کسی حملہ آور کو روکنے کے لئے انسانوں نے تعمیر کی ہوں۔ ان چٹانوں کی ایک ندی کی طرف آگے کو نکلی ہوئی ایک کگار پر خاکستری رنگ کا قلعہ نظر آ رہا تھا۔۔۔جو وہاں بلکل عقابوں کا نشیمن لگ رہا تھا۔ جونہی قافلہ اس قلعے کے سامنے نمودار ہوا فوجیوں کی ایک پلاٹون قلعے سے نمودار ہوئی۔ داوا خان نے اپنے دائیں بازو کے اشارے سے اپنے لوگوں کو رکنے کا اشارہ کیا۔ فوجیوں کے آگے آگے آنے والے صوبیدار سے سبھی اہل قافلہ شناسا تھے۔۔۔وہ تھا صوبیدار غنچہ گل۔ داوا خان نے اس کے قریب آنے پر پکارا۔ ” غنچہ گل!!! اللہ کرے تم کبھی بوڑھے نہ ہو!” غنچہ گل نے جواب دیا۔” داوا خان!!! اللہ کرے تم کبھی تھکو نہیں! جب تک کہیں پڑاو نہیں کرتے میں اور میرا دستہ تمھاری حفاظت کریں گے یا اگلے قلعے تک بحفاظت چھوڑ آئیں گے۔” داوا خان کے آئی ہوئی شکن ختم ہو گئی۔ کیوں کہ حکام نے نہ صرف انھیں پاکستان میں داخلے کی اجازت دی بلکہ حفاظت کا ذمہ بھی لیا۔ سب معاملات اتنے معمول کے مطابق تھے کہ داوا خان کو وہ افواہ بس افواہ ہی لگی۔ اچانک ہی غنچہ گل بول اٹھا۔ ” یار داوا خان! میں یہ سرحد بند ہونے کا کیا سن رہا ہوں؟ میرا ایک سپاہی چھٹی کاٹ کر واپس آیا تو وہ یہ خبر لے کر آیا۔”
“ہاں! میں نے بھی ایسی ہی ایک افواہ سنی تھی اور کچھ پریشان بھی ہوا تھا۔ تمھارے خیال میں ایسا کچھ ہے؟”
“میں تصور کرتا ہوں۔ نہیں! ایسا کرنا نا ممکن ہو گا۔ یہ تو ایسے ہی ہو گا کہ پرندوں یا ٹڈی دل کو ہجرت سے روک دیا جاے۔” وہ دونوں اس تصور پر کچھ دیر زور زور سے ہنستے رہے۔ داوا خان غنچہ گل کی طرف مڑا۔ ” میں اپنا وعدہ نہیں بھولا۔ میں تمھارے منہ بولے بیٹے کے لئے خاص اپنے کتوں کی جوڑی سے پلہ لے کر آیا ہوں۔ بہترین کتا بنے گا۔ بچہ کدھر ہے؟ میں خود اسے یہ تحفہ دینا چاہوں گا۔” ” لڑکا تو قلعے میں ہے۔ میں نے اسے اپنے قلعے کے مولوی کے حوالے کیا ہوا ہے تاکہ اچھا پڑھ لکھ جاے۔ تم مجھے پلہ دے دو میں تمھاری طرف سے اسے دے دوں گا۔ اور مجھے یقین ہے وہ اس کی قدر بھی کرے گا۔”
داوا خان اونٹوں کی قطار کے پیچھے گیا اور ایک وحشی نما کتے کا بچہ لے آیا۔ جب اسے غنچہ گل کے حوالے کیا گیا تو وہ غضبناک انداز میں غرا رہا تھا۔ داوا خان نے بڑی محبت سے اس پر الوداعی نظر ڈالی اور کہا۔” یہ یقیننا ایک زبردست اور اعلی جوان کتا تیار ہو گا۔ اس کے آواز میں طاقت اور وفا کے خوشبو ہے۔”

غنچہ گل اور سپاہیوں نے پھیل کر قافلے کے گرد حفاظتی حصار بنا لیا۔ اب وہ حکومتی تحفظ میں تھے۔ سپاہیوں کی موجودگی کا مطلب تھا مہاجر قبیلہ کو مقامی قبائل کے حملوں سے محفوظ رکھنا۔ ایسے حملوں کے نتیجہ میں قتل و غارت مدت تک چلتی رہتی تھی جس سےحکومت کے لئے بہت سارے انتظامی مسائل کا سامنا رہتا۔ گزر گاہ پر ہر قلعہ اپنے مقررہ فاصلے تک ان قبائل کی حفاظت کا ذمہ دار تھا۔ غنچہ گل نے ان کو اگلے قلعہ تک بحفاظت پہنچا کر واپس ہونا تھا۔

حفاظتی دستے کے بیس جوانوں میں زیادہ تر چہرے داوا خان کے لئے شناسا تھے۔ وہ سالہا سال سے انھیں کسی نہ کسی قلعے میں دیکھتا آ رہا تھا۔ وہ محافظ دستے انسانوں کی ایک خاص نسل تھے۔۔۔جن کی اوئل جوانی سے لے کر آخری عمر تک زندگی پہاڑوں کی ایک چٹان سے دوسری چٹان تک چوکیدارہ میں ہی گزر جاتی۔

وہ ماسواے کبھی کبھار کی چھٹیوں کے اپنے خاندانوں سے ہرگز نہ مل سکتے تھے۔ ان کی تنہا اور اجاڑ زندگیوں میں تھوڑی بہت سرگرمی یہی تھی کہ قبائل کے درمیان تصادم رکواتے، حکومتی تنصیبات اور سڑکوں کی حفاظت کریں یا اپنی پوسٹنگ اور تبادلہ تعیناتی پر بحث و مباحثہ کریں۔ ان کی سب سے بڑی تفریح پر سکوت راتوں میں ریڈیو سن لینا یا دن میں راہ گیروں سے معمولی سی گپ شپ۔

گل جاناں اپنے بچے کے ساتھ اونٹ پر سوار تھی۔ پیدل چلنے والے فوجیوں کی سہولت کی خاطر اونٹوں کی رفتار بے حد کم رکھی گئی تھی۔ گل جاناں اس رفتار پر خوش تھی۔ اس رفتار پر اسے نہ کوئی جھٹکا لگ رہا تھا نہ کوئی بدنی تکلیف محسوس ہو رہی تھی۔ وہ بہت اچھے موڈ میں تھی۔ اس نے چلتے چلتے پچھلے ایک گھنٹے میں تیسری بار اپنے دائیں جانب چل رہے فوجی کو دیکھا تھا۔ وہ بلکل ابھی بچہ تھا۔ اس کو داڑھی سے بھرے چہرے والا جوان بننے میں ابھی کافی سال درکار تھے۔ وہ شروع سے ہی لگاتار گل جاناں کو گھورے جا رہا تھا۔ اب تنگ آ کر وہ اپنے منہ پر ہاتھ رکھ کر بولی۔ ” اوے! لڑکے تو! تم ابھی میرے خاوند کے عضو خاص سے بھی چھوٹے ہو!”

تمام خواتین جو اپنے اپنے اونٹوں پر آگے پیچھے سوار تھیں اور وہ فوجی اور قافلے کے مرد جنہوں نے اس کے آواز سن لی تھی بے اختیار خوب ہنسنے لگے۔ جلد ہی گل جاناں کا جملہ پورے کارواں میں پھیل گیا۔ پھر کیا تھا ان پرسکوت چٹانوں سے گھری گھاٹی میں ھنسی کا ایک طوفان اٹھ کھڑا ہوا۔ بس وہ فوجی جوان نہیں ہنس رہا تھا۔ وہ منہ نیچے کئے سوچ رہا تھا کہ زمین پھٹے اور وہ اس میں سما جاے۔ غنچہ گل اس جوان کی کیفیت سمجھ رہا تھا۔ غنچہ گل کی اپنی بیوی۔۔۔جسے وہ سال میں صرف ایک ماہ کے لئے ملنا جاتا۔۔۔بے حد سنجیدہ اور کم گو تھی۔ وہ شاید ہی مسکراتی۔ اس نے فیصلہ کیا کہ وہ اس جوان کی سرزنش نہیں کرے گا۔ بہتر یہی تھا کہ وہ پاوندا عورتوں کی خوش مزاجی اور بذلہ سنجی و بہادری پر خود ہی شرمندہ ہو کر آئندہ ایسی غلطی کا مرتکب نہ ہو۔

سہ پہر تک، کاروان بمعہ حفاظتی دستہ کے اگلے قلعہ تک پہنچ گیا۔ یہ “جوں مار پارٹی” کا ہیڈ کوارٹر بھی تھا۔ یہاں پر طبی عملہ افغانستان سے آنے والے مردوں، عورتوں اور جانوروں کا طبی معائنہ کرتا کہ پہاڑوں سے جوئیں، پسو، کھٹمل یا ٹائفس کے جرثومے تو ساتھ نہیں لے آئے۔

یہ وہ مقام تھا جہاں سے غنچہ گل اور اس کی پلاٹون نے واپسی کی رسمی اجازت طلب کی۔ اسی طرح وہ دو دن مزید سفر کرتے ہوے ایک بڑے قلعے میں پہنچ گئے۔ ۔۔جسے فورٹ سنڈیمن کہتے تھے۔ اس قلعہ کے اردگرد اب باقاعدہ ایک آبادی بن چکی تھی۔ کارواں جوں جوں پاکستانی عملداری میں آگے سے آگے آتا گیا ان کا ڈر ختم ہوتا گیا۔ ہر کسی نے اس افواہ کو اب مکمل طور پر بھلا دیا سواے داوا خان کے۔ اس نے فیصلہ کیا کہ وہ جرنیل صاحب کے آنے تک یہاں رکے اور اس کا انتظار کرے۔ اس اثنا میں ان کی عورتیں اور جانور اپنی طاقت بحال کر لیں۔ اسے طوراق خان کے سوتیلے باپ سے اسے جہیز کی رقم بھی لے کر دینا تھی۔ اسے اس افواہ پر یقین تھا جب تک کہ جرنیل خود نہ آ جاتا اور آخری کڑی بھی میدانوں تک نہ پہنچ جاتی۔

جب اس نے قبیلہ والوں کو اپنا فیصلہ سنایا تو ہر طرف خوشی کی لہر دوڑ گئی۔۔۔خاص طور پر عورتوں میں۔ وہ درختوں کے ایک جھنڈ میں بسیرا کرنا چاھتی تھیں۔۔۔جہاں وہ اپنے بچوں کے لئے درختوں کی مضبوط شاخوں کے ساتھ اپنے بچوں کے جھلنگے ڈال سکتی تھیں۔ ان کی سوچوں میں گھر کا بنیادی تصور چند روزہ قیام ہی تھا جس میں وہ وہ ذاتی صفائی، کپڑوں کی دھلائی اور بستروں کی مرمت کر لیتیں۔
اگلے دن صبح سویرے داوا خان اپنے چند ساتھیوں کے ہمراہ قصبے کی طرف جاتے ہوے ذرا رستے سے ہٹ کر ایک گھاٹی کی طرف مڑ گیا۔ وہ قبیلہ “کاکڑ” کا علاقہ تھا۔ اس نے تب قسم کھائی تھی کہ وہ اپنے ایک چچا زاد کا بدلہ لے گا جسے ایک کاکڑ قبائلی نے چند سال قبل قتل کر دیا تھا۔ اب تک اصل قاتل تو اپنی طبعی موت مر چکا تھا۔ اب اس کی بیوہ اور دو نابالغ بچے تھے۔ جب وہ ان کے گھر کے سامنے پہنچا تو اس نے دیکھا گھر کے سامنے دو نوخیز بچے بیٹھے تھے جنہوں نے لمبی قمیضیں پہن رکھی تھی جبکہ شلواریں نہیں۔ وہ داوا خان کو پہچان کر ہنسے اور بولے۔” چاچا اللہ کرے تم کبھی نہ تھکو!”
داوا خان نے جواب دیا۔” اللہ کرے تم بھی کبھی نہ تھکو!” وہ ہر سال وہاں آتا صرف یہ دیکھنے کہ لڑکے کب شلواریں پہنیں اور وہ اپنی قسم پوری کرے۔ “پشتون والی” رواج کے مطابق قتل کے بدلے میں کبھی بھی عورتوں اور بچوں کو قتل نہ کیا جاے گا۔ ادھر وہ لڑکے شلواریں پہننے سے انکاری تھے۔ وہ اسے دیکھ کر ہنستے رہے۔ وہ سمجھ رہا تھا کہ وہ اسے دھوکا دے رہے تھے۔ وہ بڑبڑایا۔”ان دھوکہ بازوں نے لگتا ہے میرے جیتے جی کبھی بھی شلواریں نہیں پہننی۔ یہ مجھے ترغیب دے رہے ہیں کہ میں روایت شکنی کروں۔” پھر وہ واپسی کے لئے مڑ گیا۔

غلام حسین غازی

جاری ہے

SHARE

LEAVE A REPLY