ہمیں بھی اس سے کوئی انکار نہیں کہ ہمارے سیاست دانوں کے ہاتھ ہی نہیں کپڑے بھی صآف ستھرے ہیں اور گھر بھی محل کے محل ہیں جیسے ابھی سابق صدر کا گھر دیکھا ،جو یونیورسٹی کی زمین قبضے میں لے کر بنایا اگیا؟؟؟بات ساری یہ ہی ہے کہ شفافیت اس قدر ہے کہ ایک اندھے کو بھی جے آئی ٹی رپورٹ میں جو کچھ ہے اس کے تناظُر میں بقول مولانا کے صرف ایک کمرہ ہی نظر آرہا ہے اُن سب کے لئے جو جو ان صآف ستھری کرپشن میں مطلوب ہیں ۔لیکن ہمارے یہاں کب کون سی ہوا چِل پڑے کسی کو پتہ نہیں ،اس لئے جو چاہے تقریروں میں کہیں سب سنتے ہی ہیں ۔ دو معصوم اور بھی تھے جو لندن میں براجمان ہیں ،ہاتھ اُن کے بھی بالکل صاف ہیں ۔
کہیں دیواروں سے نوٹ نکل رہے ہیں کہیں بینکوں سے آ ،جا رہے ہیں لیکن ملک کا خزاانہ اتنا خالی ہے کہ ہم جگہ جگہ جا کر اپنی صلاحیتیں بتا رہے ہیں ،لوگوں کو باور کرا رہے ہیں کہ ہم ان باتوں پر قابو پائینگے ۔ہمارے ملک میں پیسہ لگاؤ ،ہمارے یہاں سے تجارت کرو مگر کہتے ہیں کہ دودھ کا جلا چھاچھ بھی پھونک پھونک کر پیتا ہے اس لئے مشکلیں آرہی ہیں ۔ایسے میں اپنے ہی لوگ بیٹھ کر جس طرح تنقید کرتے اور زرا زرا سی بات پر جملوں کا مطلب نکالتے ہیں وہ ہمیں کہیں سے بھی مثبت یا فائدے کی بات نہیں لگتی ۔اس لئے نہیں کہ ہم تبدیلی کا ساتھ دیتے ہیں بلکہ اس لئے کہ انسان ہی ہے جو غلطیاں کرتا ہے اور شاید ہی دنیا میں کہیں کوئی لیڈر ہو جس نے جو کچھ کہا ہو وہ سارا کا سارا پورا کر دکھایا ہو کیونکہ سوچ پر کوئی پا بندی نہیں ہے جو لوگ اچھا سوچتے ہیں وہ اکثر اُس اچھائی کو کر بھی گزرتے ہیں ۔لیکن یہ ناممکن ہے کہ خستہ حال معشت کو یوں کچھ ماہ میں کھڑا کر دیا جائے ۔
ویسے ہماری ایک سوچ ہے جو ہم نے پہلے بھی کبھی لکھی تھی کہ اس حکومت کے وزراء اگر کمر کس لیں اور غریبوں کی مشکلات کے حل کے لئے دن رات کام کر لیں تو یہ کچھ ناممکن بھی نہیں ہے ۔کیونکہ روزگار مسئلہ ہے غریب کا ،مہنگائی مسئلہ ہے غریب کا گھر مسئلہ ہے غریب کا ۔تعلیم مسئلہ ہے غریب کا علاج مسئلہ ہے غریب کا ،اور جہاں سیاست دان کہیں ہمارے ہاتھ صاف ہیں وہاں تو یہ مسئلے گندگی سے بھرے سامنے آجاتے ہیں ۔کیونکہ کہنے والوں کے دس سے پندرہ سال ہیں نشانے پر اور کرنے والوں نے ابھی چلنا بھی نہیں شروع کیا اس لئے مقابلہ ناممکن ہے ۔اگر ان سب سے جنہوں نے ملک کا پیسہ لوٹا ہے وہ پیسہ وا گزار کرا لیا جائے تو سب کچھ ٹھیک ہو جائیگا ۔
آج سپریم کورٹ میں جعلی اکاؤنٹ کیس بھی تھا اور بھی بہت سے کیس تھے ،لیکن یہ سمجھ میں نہیں آیا کہ اگر کوئی بڑے عہدے پر ہے تو اُسے کیوں باہر جانے سے نہیں روکا جا سکتا جبکہ ہمارا اس معاملے میں بڑا تلخ تجربہ رہا ہے کہ بھاگے ہوؤں کو چاہے فوجی ہوں یا سیاست دان لانا جوئے شیر لانے کے مترادف ہے ۔اس لئے اگر کسی کو باہر جانے سے اُس وقت تک کے لئے روک دیا جائے جب تک کہ تحقیقات ہوں کوئی برا تو نہیں ہے ۔لیکن سپریم سپریم ہے ہم کیا کہہ سکتے ہیں ۔بچے بھی اگر بڑوں کے ساتھ شامل ہوں تو کیوں اُن سے بھی پوچھ گچھ نہ کی جائے کہ ہمارا ملک ان تمام باتوں میں خود کفیل ہے جہاں باپ بیٹے اور اکثر خاندان کے خاندان بھی ملوث ہوتے ہیں برائی میں ۔
ہمیں تو بس ایک بات کی خوشی ہے کہ یہ سب ان تحقیقات کے بعد صاف ستھرے نکلینگے اور ہم سب اپنا سا منہ لے کر رہ جائینگے ۔کیونکہ جو کچھ ہم دیکھ رہے ہیں اس میں ہمیں کہیں کوئی بھی نہ تو جعلی اکاؤنٹ میں پھنستا نظر آرہا ہے اور نہ ہی کسی سبسیڈی کے لین دین میں ہمیں تو لگتا ہے کہ سندھ میں کچھ سالوں جِنوں کی حکومت رہی جنہوں نے یہ اکاؤنٹ بھی کھولے ان سے لین دین بھی کیا اور باہر بھی پیسہ بھیجا ۔اب جِنوں کو تو کوئی بھی قابو نہیں کر سکتا اور شاید یہ ہی ہماری بد نصیبی ہے کہ کچھ معاملات پر ہم بہت ہلکا ہاتھ رکھتے ہیں اور جب نقصان نا قابلَ تلافی ہو تو پھر پچھتاتے ہیں ۔
زرداری صاحب نے ایک اور تھپڑ عوام کے منہ پر جڑا جب انہوں نے تقریر میں فرمایا کہ مجھے کیسے کچھ کہہ سکتے ہو میں جیل میں بیٹھ کر بھی جیتا تھا ایلیکشن ۔اور شرجیل میمن بھی جیل میں بیٹھ کر ایلیکشن جیتا اب اس سے زیادہ کیا ثبوت ہے صاف ستھرے ہونے کا ۔واقعئی ہمارے گال پر پانچ اُنگلیاں ثبت ہوگئیں ہم عوام ہیں ہی اسی قابل ۔
انہوں نے ایک بات اور بھی کی جو ہمیں بہت اچھی لگی انہوں نے کہا کہ تم اُس سے کیا لڑ سکتے ہو جس نے اپنا راستہ خود بنایا ہو ۔واقعئی ہمیں محترمہ کی وصیت یاد آئی ۔انہوں اندھوں گونگوں اور بہروں کو بھی اپنی طرف متوجہ کیا اب انہوں نے کس طرح سنا ہوگا اور کس طرح دیکھا ہوگا جب بقول زرداری صاحب کے وہ تو ہیں ہی گونگے بہرے اندھے ۔اب ہمیں لگا کہ کچھ اچھا ہونے والا ہے جب تک پانی سِر سے نہیں گزرتا انسان جاگتا نہیں اور جب ڈوبنے کا ڈر ہو تو ہاتھ پیر تیزی سے مارنے پڑتے ہیں اور یہاں تو ایسا لگ رہا ہے کہ پانی سر سے بہت اوپر گزر رہا ہے کہ سانس بھی بند ہوتی محسوس ہو رہی ہے مگر بھلا ہو عدلیہ کا انہوں نے پھر دو ماہ دے کر کچھ اطمینان دے دیا ہے ۔جب کہ ساتھ ساتھ خبریں یہ بھی ہیں کہ تفتیش کرنے والوں نے عدلیہ سے درخواست کی ہے کہ ہمیں بہت خطرے ہیں ہماری سیکیورٹی کا انتظام کیا جائے ۔نہ جانے کیوں ہمیں یہ پڑھ کر بہت دکھ ہوا کیونکہ ہم کسی کو اتنا بھی گیا گُزرا نہیں سمجھتے کہ وہ تفتیش کرنے والوں کو نشانے پر لے لینگے ۔لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ اس سے پہلے بھی بہت سے لوگوں کو دنیا سے رخصت کر دیا گیا جو گواہ تھے یا کسی تفتیش میں شامل تھے ۔ محترمہ کا واقعہ کچھ زیادہ پرانا نہیں ہے ۔
بلاول زرداری کے حق میں ہم بھی ہیں لیکن یہ نہیں چاہتے کہ وہ خود کو کسی آلودگی میں ڈالیں ۔ کیا وہ خود کو اس خوشامدی ٹولے سے الگ کر سکتے ہیں جو ہمیشہ سے غلط کو صحیح قرار دیتا آیا ہے ۔کیا وہ خود بھی ان تمام اکاؤنٹس کی تحقیق کرینگے کہ کس طرح اُن کے صوبے میں اتنے بڑے بڑے اکاؤنٹ کھلے اور اُن سے پیسوں کی ترسیل بھی ہوئی اور اُن میں پیسے جمع بھی ہوئے ۔ہم تو جب ہی مان سکتے ہیں اُنہیں معصوم ،جب وہ کوئی ایسا کارنامہ کر کے دکھائیں کہ اپنے صوبے کے کرپٹ لوگوں کو سامنے لائیں ۔ملک کے لئے کرپشن کے خلاف کوئی قدم اُٹھائیں ۔
ایک خبر پڑھ کر خوشی ہوئی اگر یہ خبر صحیح ہے تو، کہ اس حکومت نے روئیتِ ہلال کمیٹی ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ ہماری بھی یہ ہی سوچ ہے کیونکہ یہ کمیٹیاں جتنی خرابی لاتی ہیں چاند دیکھنے کے بارے میں اتنا شاید ان کمیٹیوں کے بغیر چاند دیکھنا مشکل ہوگا نہ عید کرنا۔
اللہ سے دعا ہے کہ وہ ہمارے ملک کو اندرونی اور بیرونی دشمنوں سے بچاتا رکھے آمین

SHARE

LEAVE A REPLY