اکیس اکتوبر2016 میری زندگی کا خوبصورت دن طلوع ہوا
میں بہت پیارے پیارے نواسے کی نانو بن گئی
تیرے آنے سے محبتوں کے رفاقتوں کے ہر طرف چراغ جل اُٹھے
تیرا مسکرانا میرے ننھے فرشتے میری پیاری بیٹی جیسا ہی تو ہے
تیری خوشبو سے معطر ہو گیا آنگن اُس کا ۔۔۔۔۔
اِک پَل میں سارا منظر بدل گیا
تیرے وجود کی تخلیق ہوئی میرا رشتہ بدل گیا
آج کا دن میرے لئیے بہت خاص ہے ۔سارے عزیز و اقارب سارے دوست ہماری اِس خوشی کے موقعہ پر
ہمارے ساتھ خوشی منا رہے ہیں ۔مگر ایک بہت عظیم شخصیت کی کمی اور دوری مجھے افسردہ کر رہی ہے
ہاں وہ ہستی ہے میری ماں ۔۔
اماں سے جدائی اور انکے اور ہمارے بیچ حائل فاصلے کبھی کبھی مجھ کو آبدیدہ کر جاتے ہیں ۔آج اماںّ جی ہوتیں تو کتنی خوش ہوتیں ۔۔جب مجھکو
پُرجوش و پُر مسرت دیکھتیں تو خوش ہوکر بے ساختہ دعا کے لیے ہاتھ بلند کرتیں ۔
ماں کی دعا مستجاب ہوتی ہے ۔میں ماں بنی تو اماں کتنی خوش تھیں ۔ماں کا بس نہیں چلتا تھا کہ مجھے کس طرح اپنی ممتا کی دل آویز مہک سے سرشاد کر دیتیں
میرا ماتھا چوم کر عرش کو چھونے والی دعاؤں سے میرا دامن بھر دیتیں ،
اُن کی دعا اور محبت میں بڑی تاثیر تھی ،قدم قدم پَر انکی شفقت و محبت و ممتا بھری چھاؤں بڑی ڈھارس دیتی جو میرے دل میں اطمینان و سکون بھرنے کے لیے کافی ہوتا ۔۔۔ اس گھر کے ہر کونے سے ابھی بھی مجھے ان کی مہک آتی ہے ۔سخت راتوں میں میرا سفر آسان رہا ۔جب بھی میں دعا کرتی ہوں میرے ہاتھوں میں اماں کا چہرہ اُتر آتا ہے ۔میں دعا مانگتے مانگتے مُسکرا اُٹھتی ہوں ۔ایے میرے مولا تیری شان یہی ہے

farkhanda-nani آج میں نے جب اپنے نواسے کو اپنی گود میں لیا تو اُس کی مسکراہٹ مجھے جنت کی فضاؤں میں لے گی ۔میرا دل ان گنت خواہشات سے بلکل خالی تھا۔ہم نے اس کا نام زَکریا علی رکھا ہے
۔میری آنکھوں کی تلاش ختم ہو کر رہ گئی ۔میں سر بسجود ہو گی ۔یااللہ تو ہمیں ہماری بساط سے بڑ ھ کر دیتا ہے ۔ہم ہمیشہ گلہ ہی کرتے ہیں اُن چیزوں کے کھو جانے کا جو ہماری زندگی سے تُو بہت دور لے جاتا ہے۔مگر یہ سوچے بینا کہ تو بہتر سے بہتر نوازتا بھی تو ہے ۔۔
ماں کی ممتا کی مہک یا د آئی
دل میں بے ساختہ ایک نام آیا
ماں کا پُر نور سا مشفق چہرہ
یاد ہر رو ز سر ِ شام آیا

فرخندہ رضوی (ریڈنگ)انگلینڈ

SHARE

LEAVE A REPLY