سر شاہنواز بھٹو کی وفات

انیس / نومبر1957ء پاکستان کے ممتاز سیاستدان سر شاہنواز بھٹو کی تاریخ وفات ہے۔

سر شاہنواز بھٹو، ذوالفقار علی بھٹو کے والد اور محترمہ بے نظیر بھٹو کے دادا تھے۔ شاہنواز بھٹو 1888ء میں پیدا ہوئے تھے۔ ان کی سیاسی زندگی کا آغاز 1920ء میں ہوا جب وہ لاڑکانہ ڈسٹرکٹ بورڈ کے صدر منتخب ہوئے۔ یہ عہدہ 1934ء تک ان کے پاس رہا۔ 1921ء میں انہیں خان بہادر اور 1930ء میں سر کا خطاب عطا ہوا۔ 1931ء میں انہوں نے لندن میں ہونے والی گول میز کانفرنس میں سندھ کے مسلمانوں کی نمائندگی کی جہاں انہوں نے سندھ کو بمبئی سے جدا کرنے کا مطالبہ بڑی خوش اسلوبی سے اٹھایا۔ 1934ء میں انہوں نے سندھ پیپلزپارٹی کے نام سے ایک سیاسی جماعت بنائی اور 1936ء میں سندھ اتحاد پارٹی کے صدر منتخب ہوئے۔1937ء کے عام انتخابات میں ان کی پارٹی نے انتخاب میں اکثریت حاصل کی تاہم وہ خود اپنی نشست پر کامیاب نہ ہوسکے جس کے بعد سر غلام حسین ہدایت اللہ سندھ کے وزیراعلیٰ بن گئے۔

اور 1947 میں وہ جونا گڑھ کے وزیراعظم مقرر ہوئے تاہم اسی برس جونا گڑھ پر بھارت کے غاصبانہ قبضے کے بعد وہ واپس وطن آگئے جہاں انہوں نے بقیہ عمر گوشہ نشینی میں بسر کی۔
19 / نومبر 1957ء کو ان کا انتقال ہوگیا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

استاد واحد حسین کی وفات

انیس / نومبر 2004ء کو خورجہ گھرانے کے نامور موسیقار استاد واحد حسین خان صاحب وفات پاگئے۔

استاد واحد حسین خان صاحب 1923ء میں دہلی میں پیدا ہوئے تھے۔ ان کے والد استاد الطاف حسین خان صاحب نے، جو خود بھی اپنے زمانے کے مشہور موسیقار تھے، انہیں موسیقی کی اعلیٰ تربیت دی۔ انہیں اپنے بھائیوں استاد عظمت حسین خان اور استاد ولایت حسین خان صاحب کے ساتھ موسیقی کی متعدد کانفرنسوں میں شرکت کا موقع ملا۔ 1964ء میں اپنے والد کی وفات کے بعد وہ اپنے بھائی استاد ممتاز حسین خان کے ساتھ کراچی آگئے۔

استاد واحد حسین خان نے پربھوداس اور واحد رنگ کے قلمی نام سے متعدد بندشیں بھی مرتب کی تھیں

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
قومی اسمبلی کے سپیکر۔ چوہدری امیر حسین

(19 /نومبر 2002 تا 19 / مارچ 2008)

پاکستان کی قومی اسمبلی کے سترہویں اسپیکر چوہدری امیر حسین 22 / جون 1942ء کو سیالکوٹ میں پیدا ہوئے۔

وہ 19 / نومبر2002ء کو قومی اسمبلی کے اسپیکر منتخب ہوئے اور 19 / مارچ 2008ء تک اس عہدے پر فائز رہے۔

پرانے پارلیمینٹیرین ہیں اور کئی مرتبہ قومی اور صوبائی اسمبلی کے رکن منتخب ہوچکے ہیں

وقار زیدی

SHARE

LEAVE A REPLY