وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ اپوزیشن لیڈر شہباز شریف ڈرامے باز ہیں جبکہ پیپلز پارٹی چیئرمین بلاول بھٹو لبرل نہیں وہ لبرلی کرپٹ ہیں۔
ایبٹ آباد میں ہزارہ موٹروے فیز 2 منصوبے کی افتتاحی تقریب سے خطاب میں عمران خان اپوزیشن جماعتوں پر خوب گرجے برسے، انہوں نے مسلم لیگ ن، پیپلز پارٹی اور جمعیت علماء اسلام (ف) کی قیادت کو آڑے ہاتھو ں لیا۔
اپنے رد عمل میں بلاول بھٹو نے کہا ہے کہ میں نظریاتی ہوں منافق نہیں جبکہ عمران تم بوڑھے منافق اور بیس سال سے سلیکٹڈ ہو
عمران نیازی نے کہا کہ شو باز شریف کو بالی ووڈ میں ہونا چاہیے تھا، اپنے بھائی کی صحت پر اس نے خوب ڈرامے بازی کی، منڈیلا جیسی شکل بناکر کہتا تھا نواز شریف کو کچھ ہوا تو ذمے دار عمران خان ہوگا، پوچھتا ہوں گزشتہ 10 برس میں 800 سے زائد قیدی جیلوں میں مرے، ان کی ذمے داری کس پر ہے؟
عمران خان نے کہا کہ غریب آدمی جیل میں مرتا ہے، شہباز شریف نے کبھی سوچا اس مرنے والے قیدی کے بیوی بچوں کا کیا ہوتا ہے، جو اکیلا کمانے والا ہو، کبھی ان سے ملنے بھی گئے؟
ان کا کہنا تھا کہ ہم نے تو گارنٹی کے طور پر صرف کاغذ کا ٹکڑا مانگا تھا اور جانے کی اجازت دے دی تھی، شہباز شریف نے کہا میں اپنے بھائی کی گارنٹی دیتا ہوں۔
وزیراعظم نے شہباز شریف کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ کا بیٹا اور داماد فرار ہیں، آپ پر بھی کیسز ہیں، ان سب کی گارنٹی کون دے گا؟ نواز شریف کا سمدھی اور دو بیٹے بھی ملک سے بھاگے ہوئے ہیں، یہ اربوں روپے کے محلوں میں رہتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ وہ موجودہ چیف جسٹس آصف کھوسہ اور آنے والے چیف جسٹس گلزار سے کہنا چاہتے ہیں کہ عدلیہ آزاد ہے، قانون سب کےلیے ہے، عدلیہ اپنے اوپر عوام کا اعتماد بحال کرے۔
عمران خان نے کہا کہ عدلیہ کے اعتماد کی بحالی کےلیے ہم ہر ممکن مدد کےلیے تیار ہیں، ساری جگہ سے پیسے نکالیں گے لیکن آپ کی مدد کریں گے۔












