گزشتہ قسط میں ہم اس پر بات کر رہے تھے۔ کہ اسلامی ماڈل ولیج بنا نے کے لیئے ہمیں پہلے وہ رضاکار تیار کرنے پڑیں گے جن میں کم از کم امام تو ایسے ہوں جوکہ حضور ﷺ کے اسوہ حسنہ پر عامل ہوں تا کہ وہ آگے چل کر نوجوان نسل کے لیئے خودنمونہ بن کراسے اس سانچے میں ڈھال سکیں جو کہ ہمیں ایسے کسی پروجیکٹ کو عملی شکل دینے کے لیئے درکار ہونگے؟ اس کے بغیر تو دنیا کے سامنے کچھ پیش کرنا بہت مشکل ہے۔ جبکہ اسلام کا تقاضہ یہ ہے کہ اے ایمان والو!پورے پورے اسلام میں داخل ہو جا ؤ اور شیطان کے قدموں کی تابعداری نہ کرو جو کہ تمہارا کھلا دشمن ہے اگربا جود دلیلیں آجانے کے بعد تم پھسل گئے تو اللہ غلبے والا اور حکمت والا ہے (سورہ البقرہ آیت نمبر(208, 209) پھر ہمیں اس نے سورہ 114 کی آخر ی آیت میں مزیدہدایت عطا فرمائی ہیں کہ ہر قسم کے وسوسہ سے اللہ کی پناہ مانگو؟ اس کی تفسیر میں حضور ﷺ سے سوال کیا گیا کیا انسانوں میں بھی شیطان ہوتے ہیں۔فرما یا ہاں! شیطان انسانوں میں بھی ہوتے ہیں اور جنوں میں بھی ہوتے ہیں ان سے بچو؟ یہ وہ لوگ ہیں جوکہ انسانوں کی شکل میں ہوتے ہیں اور لوگو ں کے دلوں میں وسوسے ڈالتے ہیں۔ جیسے بہت سے نعرے آجکل بھی چل رہے ہیں ان میں سے ایک یہ بھی ہے کہ بہت سی حدیثیں چونکہ ضعیف ہیں لہذا صرف قر آن کو مانو! وہ کافی ہے۔ جبکہ دین نام ہے دراصل حضور ﷺ کے اسوہ حسنہ کا؟ کیونکہ وہ مجموعہ ہے ان تمام ہدایات کاجو حضورﷺ تک کسی بھی ذریعہ سے پہنچیں۔ مثلا ً خواب کے ذریعہ سے پہنچنے والی ہدایت! جس کے نتیجہ میں صلح حدیبہ والا واقعہ رونما ہوا جس نے اسلام کی تاریخ ہی بدل دی ۔ یا پھر انﷺ کے دل میں جو باتیں ڈالدی گئیں جسے “ القا “کہتے ہیں۔ پھر inspiration (انسپائریشن) جس کا اردو میں متبادل “ کشف “ہے۔ پھر وہ ہدایا ت بھی جو فرشتوں کی معرفت تو آئیں جیسے کہ نماز کی تربیت حضرت جبر ئیلؑ کی معرفت آئی، حضور ﷺ نے ہمیں بتا ئیں بھی لیکن وہ قرآن میں شامل نہیں ہیں۔ اسی طرح حج کرنے کا،روزے رکھنے کا طریقہ وغیرہ وغیرہ۔ پھر قرآن میں اللہ سبحانہ تعالیٰ فرما رہارہا کہ “ ہم نے اُ ن پر کتاب بھی نازل کی اور “حکمت “بھی اور اسے گھروں میں پڑھنے کاحکم دیا تا کے قر آن کی طرح اسوہ حسنہ کو بھی پڑھا جا ئے (34.33)آ۔اس کی تفسیر ایک روایت میں بھی ملتی ہے جس کے راوی حضرت زین العابدین ؓ ہیں کہ “ صحابہ کرام (رض) اپنے گھروں میں اسوہ حسنہﷺ کو اس طرح پڑھتے تھے جیسے قر آن کو پڑھا جاتا ہے۔“کہنے کا مطلب یہ ہے کہ جتنی چیزیں اوپر جو میں نے گنا ئی ہیں اگر اس میں سے کوئی ایک بھی کم کردی جا ئے تو ہم دعوے کے ساتھ نہیں کہہ سکتے کہ ہم پورے پورے اسلام میں داخل ہو گئے ہیں کیونکہ مسلمان ہونا اس کا نام نہیں ہے کہ جو چاہو لیلوجو چاہو چھوڑ دو؟ بلکہ اسلام اپنی ہر خواہش سے دین کی راہ میں دستبردار ہو جا نے کا نام ہے؟ دین کی تعریف یہ ہے کہ جو نبی ﷺ دیں وہ لیلو اور جس سے روکیں رک جاؤ۔ جو مسلمان ہو نے کی شرط اول ہے۔ پھر آگے چل کر قر آن میں اللہ سبحانہ تعالیٰ فرما رہا ہے کہ تمہارے لیئے تمہارے نبی ﷺ کے اسوہ حسنہ میں نمونہ ہے(سورہ 33 کی۔21) پھر اللہ سبحانہ تعالیٰ خود فرمارہا ہے کہ اے نبی! جو مجھ سے محبت کے دعویدار ہیں ان سے فرما دیجئے کہ وہ آپ کا اتباع کریں 3.31(3.31) پھر یہ بھی فرما یا نبیﷺ کی اطا عت میری ا طا عت ہے۔ اور آخر میں قرآن میں یہ فرماکر مہر ثبت فرمادی کہ ” یہ اپنی مرضی سے کچھ نہیں فرماتے ہیں وہی فرما تے ہیں جو ان پر میر ی طرف سے وحی کیاجاتا (35۔ 3.4)اکیا ایسی گارنٹی کسی اور کوحاصل ہے ہر ایک صاحب علم اور عقلمند مسلمان کا جواب ہو گا کہ نہیں۔؟ بزعم خود اس مجدد کی کیا حیثیت ہے جو کہہ سکے کہ اپنی مرضی کی احادیث لے لی جا ئیں۔اور باقی چھوڑدی جا ئیں۔ رہا یہ اعتراض کے احادیث کو حضور ﷺ نے اپنے زمانے میں کیوں محفوط نہیں کیا؟ پہلی بات تو یہ تھی کہ اس وقت قرآن نازل ہورہا اس کو محفوظ رکھنا اولین تر جیح تھی،دوئم یہ کہ اس وقت بھی کچھ صحابہ کرام احادیث تحریر کر رہے تھے جنہیں کچھ لوگوں نے منع کیا تو حضور (ص) فرما یا کہ تم اپنا کام جا ری رکھو اور انہوں نے جا ری رکھا جو بعد میں محدیثین کو لاکھوں میں سے چند احادیث کو منتخب کرنے کا موقعہ ملا؟ پھر جو محنت اور تحقیق انہوں نے احادیث جمع کرنے میں کی یہ انہیں کا حصہ جنہوں نے ایک ایک حدیث کے لیئے میلوں کا سفر کیا وہ بھی اس زمانے میں! یہاں تک کے بعض نے اپنی پوری پوری زندگیاں اس جد جہد میں صرف کر دیں۔ اس پر بھی حدیث کو پرکھنے کے لئےسب سے اچھا پیمانہ خو د حضور (ص) نےعطا فرما دیا کہ“ جو حدیث قرآن سے تکرائے وہ کہنے والے کہ منہ پر ماردو“ (باقی آئندہ)













