طالبان کے ناقد سمجھے جانے والے مغوی مذہبی عالم اور بیٹے کی لاشیں برآمد

0
508

فغانستان کےدارالحکومت کابل سے چند روز قبل اغوا ہونے والے مذہبی عالم مولوی ابو عبید اللہ متوکل اور ان کے بیٹے کی گولیوں سے چھلنی لاشیں اتوار کے روز نواحی سیاحتی علاقے لغمان سے برآمد ہوئی ہیں۔

مولوی ابو عبیداللہ متوکل اور ان کے بیٹے عبیدا للہ کو چند روز قبل مسلح نقاب پوش افراد نے ان کے گھر سے اغوا کرلیا تھا۔

مقتولین کے رشتے داروں کا مؤقف ہے کہ اغوا کرنے والے مسلح نقاب پوشوں نے اپنے آپ کو طالبان ظاہر کیا تھا۔

تاہم طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے ایک ٹوئٹ میں مولوی ابو عبیداللہ متوکل اور ان کے شاگرد کے اغوا اور بعد ازاں قتل سے لاتعلقی کا اظہار کیا ہے۔

اپنے ٹوئٹ میں ان کا کہنا تھا کہ اس واقعے کی تحقیقات کی جارہی ہیں اور اس میں ملوث افراد کو بے نقاب کرکے انہیں قرار واقعی سزا دی جائے گی۔

مولوی عبیداللہ متوکل کون تھے؟
کابل کے ایک سینئر صحافی دانش کڑوخیل نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ مولوی ابو عبیداللہ متوکل کا شمار ان چند اہم مذہبی رہنماؤں میں ہوتا تھا جو نائن الیون کے بعد سیاسی عمل کی حمایت تو کر تے تھے لیکن بعض معاملات بالخصوص انتظامی اداروں میں بدعنوانی کے رجحان کے ناقد بھی تھے۔

بتایا جاتا ہے کہ ابو عبید اللہ متوکل کا تعلق اہلِ حدیث مکتبِ فکر سے تھا جسے افغانستان میں جماعتِ سلفیہ بھی کہتے ہیں۔

ایک اور صحافی سید رحمان نے بتایا کہ مولوی ابو عبیدا للہ متوکل حکومتی اقدامات اور پالیسیوں پر تنقید کرنے کے علاوہ تحریکِ طالبان افغانستان کی جنگ اور مزاحمت پر مبنی پالیسوں پر بھی سخت تنقید کیا کرتے تھے ۔ اسی طرح وہ اپنی تقاریر میں طالبان کی حمایت کرنے پر پاکستان پر بھی کڑی نکتہ چینی کرتے تھے۔

سید رحمان کا کہنا ہے کہ مولوی متوکل طالبان کے بجائے داعش کی حمایت کرتے تھے اور اسی بنیاد پر اُنہیں 16-2015 میں امریکی افواج نے حراست میں لیا تھا۔

انہوں نے بتایا کہ ایک سال قبل ڈاکٹر اشرف غنی کی حکومت میں مولوی متوکل کو قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہل کاروں نے گرفتار کرکے کچھ عرصہ کے لیے تحویل میں لے رکھا تھا۔

انسانی حقوق کے کارکنوں کا ردعمل
افغانستان میں انسانی حقوق کے ایک تنظیم سے منسلک لال گل لعل نے وائس آف امریکہ کے ساتھ ٹیلیفون پر بات چیت میں مولوی عبیدا للہ متوکل اور ان کے شاگرد کے اغوا اور قتل کے واقعے کو افسوس ناک قرار دیا۔

SHARE

LEAVE A REPLY