ملک میں سیاسی اُتھل پُتھل اور صحافتی مصروفیت کے باعث گزشتہ دو روز سے ایک اہم شکریہ ادا کرنے میں تاخیر ہوتی رہی جس کے لیئے معذرت۔میں آگاہ ہوں آج کے نمائشی دور میں کتاب اور وہ بھی مراثی کی اور پھر تحقیق کی شائع کروانا کیسا جان جوکھوں کا کام ہے اور پھر اس کتاب کو بیرون ملک بھجوانا ایک سوہان روح کہانی ہے۔ یہ تفصیل پھر سہی۔
کراچی میں مقیم نوجوان مرثیے کے محقق اور مرثیہ تحت اللفظ کو آکسیجن مہیا کرنے والے عزیزی فرحان رضا نے اپنی چار اہم کُتب اس طالب علم کو ایک بندہ مومن کے ذریعے بھجوائی ہیں اور خاصی تاخیر سے سہی مگر دو روز قبل بذریعہ ڈاک موصول ہوئی ہیں جو ہانسلو لندن سے محترم اظہر عباس نے پوسٹ کی ہیں جسکے لیئے انکا سپاس گزار ہوں ۔
برطانیہ کے شہر بیسنگسٹوک میں مقیم مرثیے کے شیدائی نوجوان ذیشان زیدی کا ممنون کہ وہ ان کتابوں کو مجھ تک پہنچانے کے لیئے مسلسل کوشاں رہے اور مُتردد بھی۔ جیتے رہو ذیشان، عزیزی فرحان رضا نقد و نظر مطالعے کے بعد انشااللہ ۔
میں چونکہ طالب ہوں کوئی نقاد نہیں کہ کتاب پڑھے بغیر اظہار رائے کر دوں اس لیئے فی الحال یہ چند سطور فقط رسید اور اظہار تشکر کے لیئے ہیں ۔ آپ نے اس گوشہ نشین کے لیئے جو الفاظ لکھے وہ آپکی بڑائی ہے ورنہ میں اس ادب کی منڈی کا مال نہیں اور مجھے اپنی ناکامی کا اعتراف بھی ہے اور فخر بھی۔ باب اکعلم آپ کے علم میں اضافہ کریں خالق لوح و قلم مہربان رہے ارواح انیس و دبیر شاد ہوں اور حسنین کی والدہ خاتون جنت آپ سے راضی ہوں
دعاگو
ہیچ مدان
صفدر ھمدانی
سرے
برطانیہ
آٹھ اپریل دوہزار بائیس














بہت شکریہ صفدر صاحب آپ کی رہے کا انتظار رہے گا
جی عزیز من انشااللہ