ممتاز قلم کار سلمیٰ اعوان کا سفر نامہ ،،،عراق اشک بار ہیں ہم،،، عالمی اخبار میں ہربدھ کو قسط وار

0
313

عالمی اخبار کا اعزاز ہے سلمیٰ اعوان کا یہاں شائع ہونا

،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،

عراق اشک بار ہیں ہم۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سلمیٰ اعوان کا سفر نامہ مسلسل اقساط میں

عالمی اخبار کے مدیرِ اعلیٰ کی حیثیت سے میں، صفدر ہمدانی، پاکستان کی عالمی سطح پر معروف اور ممتاز قلم کار سلمیٰ اعوان صاحبہ کو دل کی گہرائیوں سے خوش آمدید کہتا ہوں۔

یہ ہمارے لیے باعثِ فخر اور اعزاز ہے کہ انہوں نے اپنے موقر سفرنامے کی قسط وار اشاعت کے لیے عالمی اخبار پر اعتماد کیا۔ میں اپنی جانب سے، ادارتی بورڈ اور تمام قارئین کی طرف سے ان کا تہہِ دل سے شکریہ ادا کرتا ہوں اور اس اعتماد کو ہمارے لیے ایک قابلِ قدر اعزاز سمجھتا ہوں۔

مجھے یقین ہے کہ ان کا یہ شاندار سفرنامہ اپنی منفرد طرزِ بیان، مشاہدات اور فکری گہرائی کے باعث قارئین کی بھرپور توجہ حاصل کرے گا اور ہر قسط ایک نئی ادبی اور فکری لذت سے آشنا کرے گی۔

اس سفرنامے کی نئی قسط ہر بدھ کو اسی صفحے پر شائع کی جائے گی۔

صفدر ہمدانی
مدیرِ اعلیٰ، عالمی اخبار

,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,

تعارف
سلمیٰ اعوان جالندھر کے مضافاتی گاؤں سمّی پور میں 1943میں پیدا
ہوئیں۔ پنجاب اور ڈھاکہ یونیورسٹی سے تعلیمی مراحل طے کیئے۔ فضائیہ بیس
لاہور سکول کی پرنسپل، اخبار خواتین، اردو ڈائجسٹ ،ہفت روزہ زندگی،
جنگ، نوائے وقت اور خبریں میں فری لانس صحافی، اور پھر اپنے اسکول کا
قیام اور انتظام پیشہ ورانہ زندگی کے چند گوشے ہیں۔
1967 سے2026تک قلم کارشتہ زندگی سے جڑا ہوا ہے۔ ناول، افسانے،
سفرنامے اور کالم سب ساتھ ساتھ چلتے رہے۔ اس وقت تک 29 کتابیں چھپ
چکی ہیں اور الحمدُ اللہ سب مارکیٹ میں موجود ہیں۔
2025میں ستارہ امتیاز سے نوازی گئی۔اللہ کا یہ بڑا احسان ہے کہ سینئر
اور جونیر سبھی ادیبوں نے اس ایوارڈ پر مسرت کا اظہار کیا کہ یہ جینوئن
ادیب کو دیا گیا ہے۔
میرے لیئے یہ بہت اعزاز کی بات ہے کہ میں صفدر ھمدانی جیسے
عظیم شاعر اور بڑے انسان کے اخبار میں چھپنے جا رہی ہوں۔اللہ پاک انہیںاپنی سلامتی میں رکھے سدا۔ وہ اردو ادب کا مان ہیں۔

,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,

,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,

قسط نمبر :1

”عراق اشک بار ہیں ہم “

سلمیٰ اعوان
سچ تو یہ تھا کہ ایک کہانی کی تخلیق کے لیے میں اپنے بھیجے کا تیل نکالنے میں کسی کولہو
کے بیل کی طرح آنکھوں پر کھوپے چڑھائے چوبی ہل کے ساتھ جُتی دن رات چکر پر چکر
کاٹے چلی جا رہی تھی۔
بات تو اتنی سی تھی کہ سفرِ روس کے دوران روس کی صحافتی زندگی کے ایک بے باک پر
مقتول کردار نے مجھے جپّھی ڈال لی تھی۔ یوں تو وہ ایک لفظ بھی نہیں بولی تھی پر پتہ نہیں
کیوں اُس کا متین سا سچائی کی لو سے دمکتا چہرہ میری آنکھوں میں رچ گیا۔ دل میں بس گیا۔
میرے سنگ سنگ رہنے لگا۔ ایک دن میں نے اپنے آپ سے کہا تھا۔
”بھئی اب اُردو پڑھنے والوں سے اُس کا ملانا بہت ضروری ہو گیا ہے۔“
پھر کہانی بُنی جانے لگی۔
جب میں نے اُس کے بالوں کو سنوار کر اُن میں پھول چٹریاں سجا لیں۔ سک مسّی لالی سے
ہونٹوں سُرمے کاجل سے آنکھوں ماتمی پوشاک اور حُزن و یاس میں ڈوبے گیتوں سے اُسے
رخصت کر بیٹھی تو احساس ہوا کہ اب کیا کروں؟
اُچھل پیڑے یوں بھی ٹکنے نہیں دیتے۔ ہمیشہ یہی چاہتے ہیں کہ کہیں نہ کہیں بھاگی پھروں۔
خجل ہوتی رہوں۔
اب خود سے پوچھتی ہوں۔ کہاں چلنا ہے؟ کہیں بھی سوائے ٹامیوں اور سامیوں کے دیس کے۔
باقی سب جگہیں قبول ہیں۔ پر مصیبت ساتھی کی۔ ہمیشہ ساتھ چلنے والی نے مہم جوئی دکھا دی
تھی۔ نازک سی نئی نویلی گاڑی کا دیو جیسے ٹرک سے پیچا لڑا دیا۔ اُس نے وہ پٹخنیاں دیں کہ
یقیناً چھٹی کا دودھ یاد آ گیا ہوگا۔ وہیں اُسے یہ بھی سمجھ نہیں آتی تھی کہ بچی کیسے؟ کسی
بڑی نیکی نے جیسے دروازہ کھٹ سے کھول کر اُسے فٹ پاتھ پر لُڑھکا دیا۔
دھان پان سی مہر النساء کو گاڑی کے سُرمہ بننے کے ملال کے ساتھ ساتھ خود پر اوپر والے
کی نظرِ عنایت کا بھی پورا احساس تھا۔ شکر گزاری کے سجدوں کی مدت کم از کم سال بھر تو
ٹھہری۔
”بھئی سر نہیں اٹھانا مجھے تو۔“
اب ایسے میں میں کیا کرتی؟ ایک دن شیریں مسعود کا ایس ایم ایس پر ایران جانے کا پیغام ملا۔
”ایران“ میں نے پکوڑا سی ناک سکیڑی اور لمبی سانس بھری۔

”ہائے کہیں عراق چلی جاؤں نا۔ ایک کہانی جنگ کے زمانے سے بلا رہی ہے۔ جائے بغیر
اُسے پیرہن کیسے پہناؤں؟ یوں بھی میرے خوابوں کے بغداد کا ظالموں نے حشر کر دیا ہے۔
دیکھنا چاہتی ہوں۔“
یونہی کہیں بچوں کے سامنے ذکر کر بیٹھی۔ انہوں نے تو وہ لتّے لیے کہ بولتی کو جیسے
سانپ سونگھ گیا۔ بڑے والے نے ماں کی ایسی بے سُری خواہشوں کا ذکر بہن سے کر دیا۔ اُس
نے پل نہیں لگایا۔ بڑی ہیجلی بو بو نے فون کھڑکھڑا دیا۔
”بس بس باز رہیں ایسی مہم جوئیوں سے۔ ہماری تو جان آپ میں ہی پھنسی رہے گی۔“
تپ چڑھی۔
”لو اِن کی محتاج ہوں نا میں۔ میرے نان نفقے کا بوجھ اُٹھاتے ہیں نا یہ۔ رُعب تو دیکھو۔ ساری
زندگی اِن کے پیچھے گال دی۔ ابھی بھی رجّے نہیں۔“
پر چھوٹے والے نے تو حد ہی کر دی۔ اُس کی تو منطق ہی عجیب تھی۔
”جیسی ٹٹ پنجھی (شکستہ غریب سی) خود ہیں ویسے ہی مُلکوں میں جاتی ہیں۔ کبھی سری
لنکا جا وڑھیں گی کبھی رنگون۔ ارے امریکہ انگلینڈ جاتے ہوئے تکلیف ہوتی ہے کیا؟ چلو
کسی یار دوست کے سامنے بندہ ڈھینگ ہی مار لیتا ہے۔ بے نیازی اور خاندانی رجّے پجّے
ہونے کا تاثر دیتا ہے۔
”یار امّاں تو آج کل ذرا امریکہ گئی ہوئی ہیں۔ واپسی پر انہیں انگلینڈ بھی رُکنا ہے۔ بہت مِس کر
رہا ہوں۔“
”چلو امریکہ انگلینڈ سے الرجک ہیں تو آسٹریلیا چلی جائیں۔ عائشہ باجی نے ہزار بار کہا ہے۔
شو بازی کے لیے وہ بھی کچھ اتنا بُرا نہیں۔“
وہ اگر چھوٹا سا ہوتا تو میں نے کھینچ کر جُوتا اُس کے جباڑے پر مارنا تھا جیسے میں اُس
کے بچپن میں اکثر مارا کرتی تھی۔ مگر اُس وقت وہ پانچ فٹ دس انچ کا لوہاری دروازے کے
ماجھے ساجھے جیسے تن و توش رکھنے والوں جیسا بنا ہوا تھا۔
میں نے ”حرام زادہ“ منہ بھر کر کہا تھا۔
ایسا کرنے اور کہنے میں اُس کی فضولیات پر میرے غصے اور کھولاؤ دونوں کی یقیناً تسکین
تھی۔
”میں تو وہ کروں گی جو میرا من چاہے گا۔“
اِن ہی بھول بھلیّوں میں کچھ یاد آیا تھا جو ذہن سے اوجھل ہوا پڑا تھا۔
مصر پر ایک کتاب لکھی تھی۔ ”مصر میرا خواب“۔ کتاب لکھ کر اُس کی رونمائی کروانا بھی
اب بیٹی کو بیاہنے کی طرح ایک مجبوری بن گئی ہے۔ سوچا کہ بھئی مصر پر لکھا ہے تو
مصر والوں کو بھی خبر کرو۔ یہ کیا کہ سوتے ہوئے بچے کا منہ چوم رہی ہوں نہ ماں کو خبر
نہ پیو کو پتہ۔ تھوڑی سی ہل جل کرو۔
سفیر صاحب کو لاہور بُلانے کا سَدا بھیجا۔ جواب آیا۔ بڑے مشکور ہیں ہم کہ آپ نے ہمارے
دیس پر لکھا۔ اب حق تو ہمارا بنتا ہے۔ پچاس لوگوں کی بارات لے کر جولائی کے پہلے ہفتے
ہمارے گھر اسلام آباد تشریف لے آئیں۔ اب اس البیلی داستان کی روئیداد کی تفصیل کا کیا ذکر
کہ من آنم و من دانم۔ بہرحال سفارت خانے کی اِس نوازش کا بہت شکریہ کہ بہتیری عزت دے
ڈالی جس کا ہمیں گمان تک نہ تھا۔

یہیں سفارت خانے میں تقریب کے اختتام پر ایک اُونچے لمبے نوجوان نے اپنا تعارف ابو شینب
الہیثم سفیرِ فلسطین کی حیثیت سے کرواتے ہوئے کہا۔
”ہمارے ملک فلسطین پر لکھیے۔“
”لو میاں۔ ہمارے تو نتھنے پُھولے۔ جی باغ باغ ہوا۔ سالوں پُرانی خواہش کی تکمیل کے آثار
نمودار ہوئے۔
فلسطین پر بھلا کس کافر کا جی لکھنے کو نہ چاہے گا اور فلسطین کی سرزمین پر اُترنے کی
تمنا کون نہ کرے گا؟
پر ایک مصیبت تھی۔ میں اس وقت سفرنامۂ روس کے کھلارے میں تن من سمیت ڈوبی پڑی
تھی۔ ایسا بڑا میدان کہ جس نے میرے کس بل نکال دیے تھے۔
درمیان میں یہ ایک اور نازک گہرا اور گھمبیر سا پنگا۔
گھر آ کر سوچا کہ پہلے ایک سے تو نپٹوں۔ کہیں دھوبی کا کتا گھر کا نہ گھاٹ کا والی بات ہو
جائے۔ دو کشتیوں کا سوار بالعموم غڑاپ سے پانیوں میں لڑھک جاتا ہے۔ بچتا بچاتا کہیں نہیں
سیدھا ڈوبتا ہے۔ کوئی بخت ور اور قسمت والا ہو تو دوسری بات۔
اور میں جتنی بخت ور اور قسمت کی دھنی ہوں بہت اچھی طرح جانتی ہوں۔
جاری ہے۔۔۔۔۔

,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,

قسط نمبر :2

”عراق اشک بار ہیں ہم “
میں جتنی بخت ور اور قسمت کی دھنی ہوں۔ بہت اچھی طرح جانتی ہوں۔
پروجیکٹ سے فراغت ملی تو فون کھڑکایا۔ کہ حضور والا بندی فلسطین جانے کی آرزو
مند ہے۔ ہز ایکسیلنسی کے ہاں پھوں پھاں والی کوئی بات نہ تھی۔ جواب میں بچوں والی تہذیب
و شائستگی نمایاں تھی۔ پاسپورٹ، درخواست فوری بھیجنے کو کہا گیا۔ چلو بھیج کر انتظار میں
بیٹھ گئی۔
شوق و اضطراب بیٹھنے نہیں دیتا تھا۔ رابطہ کیا۔ لہجے کی بیتابی و شتابی پر صبر اور
حوصلے کی تلقین کی گئی۔ کارگزاری کی رپورٹ بلاشبہ بڑی مسرور کن تھی۔ اس بے چاری
نمانی سی عورت کا ذکر صدر فلسطین جناب محمود عباس سے ہوا تھا۔ انہوں نے کہا۔ اہلاً و
سہلاً، جم جم آئیں سو بسم اللہ، سر متھے سر آنکھوں پر۔ پاکستان اور پاکستانی ہمیں بہت پیارے۔
وہاں کی وزارتِ اطلاعات کی چیف سیکریٹری بھی ہماری آمد کی تہہ دل سے منتظر اور
اسرائیل خانہ خراب کے ہاں بھی تذکرہ ہو گیا تھا۔
ہمیشہ کہیں بھی گئے رُلنے والی بات ہی ہوتی تھی، کوئی تھوکتا بھی نہیں تھا۔ اب جو
کچھ وی آئی پی بننے کے آثار نمودار ہونے شروع ہوئے تو ایڑی ہی زمین پر نہ لگتی تھی۔
فلسطین کے لیے پروین عاطف کی جان بھی لبوں پر تھی۔ تھوڑی سی شاکی بھی تھیں کہ سب
کچھ اکیلے اکیلے ہی۔ پر ابھی تو میں خود بھی بیچ میں لٹکتی مٹکتی پھر رہی تھی تو کسی اور
کے لیے کیا فرمائش ڈالتی؟
یہ جاڑوں کے دن تھے۔ گلابی گلابی جاڑوں والے نہیں بلکہ دُھندوں، کہروں اور ہڈیوں کے
اندر گودا تک جام کرنے والے دن۔ جب وہ میری خلیری بہن ڈاکٹر رضیہ حمید امریکہ سے
ٹپکی۔ ۱۷۹۱ کے اوائل میں کیمسٹری میں پی۔ایچ ڈی کے لیے وظیفہ پر امریکہ جانے والی
ایسی وہاں گئی کہ واپسی کا تو راستہ ہی بھول گئی۔ وہیں اپنے پاکستانی کلاس فیلو سے شادی
اور دو بچے پیدا کر کے اُسی معاشرے میں گھل مل کر ہمارے لیے بس ایک داستان کی
صورت میں یاد رہ گئی تھی۔
کہیں بیس 20 سال بعد جوگی والا پھیرا ڈالا تو آدھی زندگی امریکہ جیسے مُلک میں
گالنے والی کو دیکھ کر دانتوں تلے اُنگلی داب لی۔ کمبخت نرا سا دھو، محنت، بے چین و
مضطرب، غریبوں اور ماڑے موٹے انسانوں کے لیے کچھ کرنے کی خواہشمند۔
پھر سُننے میں آیا۔ اُس نے نوکری پر لات مار دی۔ امریکہ کی Peace Core میں
شامل ہو کر دُنیا کے دُور اُفتادہ ملکوں میں تعلیم دینے کے مشن پر روانہ ہوگئی۔ کبھی لاطینی
امریکہ اور کبھی افریقہ کے پس ماندہ ملکوں میں اُس کی سرگرمیوں کے بارے پتہ چلتا۔ بیچ
میں اکثر پاکستان کا چکر بھی لگ جاتا۔ ساتھ میں اُس کے اپنے جیسے کچھ اور ماہی منڈے
ٹائپ عورتیں اور مرد بھی ہوتے۔ اکتوبر 2005 کے زلزلے میں آزاد کشمیر کے علاقوں میں
جا بیٹھی۔ اُن دنوں میں بھی اُس کے ساتھ مظفر آباد کی دُور اُفتادہ اور دشوار گزار وادیوں میں
گئی۔
جب وہ گھانا، موزمبیق، تنزانیہ اور ممباسا کے قصّے سناتی تو میرے سینے پر رشک و
حسد کے سانپوں کی یلغار ہو جاتی۔ جی چاہتا ابھی اور اِسی وقت اٹھوں کھڑاویں نہیں جوگرز
پہنوں۔ جوگیا کُرتا نہیں، پینٹ کُرتا تن پر ڈالوں۔ ٹین کا نہیں، چمڑے کا چھوٹا سا بیگ ہاتھ میں

لوں اور "ربّا میں شوقن تیرا جگ ویکھن دی" الاپتی انجانے دیسوں کی طرف نکل جاؤں۔ پر
کہاں؟
تنزانیہ کے لیے ٹرائیاں ماریں۔ پر وہ تو کہیں ڈودوما (Dodoma) میں بیٹھی تھی۔
افریقی سارے زمانے کے ہڈ حرام اور سُستی کی پنڈیں۔ دو بار وہ میرے ویزے کے لیے
دارالسلام بھی آئی۔ پر ایک کے بعد ایک ایسی ایسی پخیں فون پر سُنیں کہ میں نے کڑھ کر
اُسے کوسا۔
” ارے ایک تہائی جنم تو میرا اُس کا ایک چھت تلے اکٹھا گزرا۔ ہوشیاری چالاکی تو اُس
کمبخت کے پاس نہیں پھٹکی۔ نہ بل نہ پھیر۔ مقدر کی بخت ور تھی۔ علم نصیب میں لکھا تھا۔
پڑھ گئی اور امریکہ پہنچ گئی۔ چالیس سال سے وہاں ہے۔ کچھ کرنے جوگی ہوتی تو آدھا محنت
کش ٹبر امریکن شہری اور کروڑ پتی تو ضرور ہوتا۔“
”بیٹھ آرام سے۔ تیرے نصیب میں یہ دیس دیس گھومنا نہیں لکھا۔“
جاڑوں کے یخ بستہ دنوں میں وہ پاکستان آئی۔ اُس نے مجھے بتایا کہ اس بار اس کے پروگرام
میں تین ماہ کے لیے اسرائیل و فلسطین کا قیام بھی ہے۔
میں چلّائی۔
”ارے وہاں تو میں بھی جا رہی ہوں۔ مجھے اپنے ساتھ ہی نتّھی کر لو نا۔“
دو دنوں بعد میں نے اُسے گاڑی میں بٹھایا اور اسلام آباد کے سیکٹر ۰۱ میں ابو الہیثم کے
سفارت خانے پر ہلّہ بول دیا۔
میرے اضطراب، میری بے چینیوں، میرے اُچک کر جہاز میں بیٹھنے کے بے تابانہ و بے
پایاں اظہار پر نوجوان سفارت کار کا انداز بڑا مدبّرانہ سا تھا۔
کاجو کی پلیٹ بذاتِ خود وہ میرے سامنے کرتے ہوئے بولا۔
”یہ لیجیے۔“
چاکلیٹ ہاتھوں میں زبردستی تھمائی اور مُصر ہوا اِسے کھائیے۔
میں نے ممتا کی ساری محبت لہجے میں گھولتے ہوئے کہا تھا۔
”الہیثم مجھے پہنچاؤ وہاں۔“
”سمجھنے کی کوشش کریں۔“ اُس نے میرے جوش و جذبے پر سرد پانی انڈیلا۔ ”یہ امریکی
شہری ہیں۔ اسرائیل انہیں روک نہیں سکتا۔ آپ کا تو پاسپورٹ اعلان کرتا ہے کہ اسرائیل جائے
ممنوعہ ہے۔“
ٹھنڈی ٹھار ہو گئی تھی۔
”کوشش ہو رہی ہے۔ گھبرائیے نہیں۔“
ایک دن جب میں جنگ اخبار کی ریفرنس لائبریری میں بیٹھی "سری لنکا" کی فائل دیکھ رہی
تھی۔ ماحول کی خاموشی اور سناٹے کو فلسطینی سفارت خانے سے آنے والی آواز نے توڑا۔
ابو شینب بول رہے تھے۔
” اسرائیل نے آپ کو اوکے کر دیا ہے۔ پر ساتھ ہی چند شرائط بھی عائد کر دی ہیں۔ سُن
لیجیے۔“
میں دھڑکتے دل کے ساتھ سُنتی تھی۔ کڑی شرائط میں سب سے اہم فلسطین کے مسئلے پر نہ
لکھنے کا وعدہ تھا۔ یروشلم میں داخلے کی کوئی کوشش نہیں ہونی چاہیے۔ چند اور بھی ایسی
ہی بے تکی باتیں تھیں۔ فون بند ہوگیا تھا۔ اب خود سے پوچھنا ضروری تھا تو میں نے وہاں

کرنے کیا جانا ہے اگر لکھنا نہیں۔ پھر چند لمحوں کی چُپ کے بعد میرا اندر جیسے پھڑک اٹھا
تھا۔
”ہے نا لعنتی یہ اسرائیل بھی۔“
اب یہ بھی کہیں ممکن تھا کہ فلسطین پر جس انداز سے بھی لکھا جائے اسرائیل کا ذکر
نہ آئے۔ اس کے وجود کا کینسر اور اُس کے بغیر ہی۔ یعنی افسانہ آئیں بائیں شائیں سے بھر
جائے اور اصل قصے سے رہ جائے یا شاعر کے خوبصورت لفظوں میں کہ وہ بات جس کا
سارے فسانے میں ذکر نہ تھا والی بات ہو۔
گھر واپس آکر میں نے خود پر لعن طعن اور پھٹکار کا پٹارہ کھولاجس میں اس سے
پہلے بھی بیسوؤں بار میں اُسے غوطے دیتی رہی ہوں۔
جاری ہے۔۔۔۔

,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,

قسط نمبر :3

”عراق اشک بار ہیں ہم “

گھر واپس آ کر میں نے خود پر لعن طعن اور پھٹکار کا پٹارہ کھولا جس میں اس سے پہلے
بھی بیسوں بار میں اُسے غوطے دیتی رہی ہوں۔
عمان میں اپنے قیام کے دوران جب ہوٹل والوں نے اسرائیل کے لیے چند گھنٹوں کا
ٹرانزٹ ویزا دینے کا پوچھا تو مجھے ڈر کیوں لگا اور فیس کا سُن کر مجھے دندل سی کیوں
پڑی؟ کبھی ایسا ہوتا ہے کہ وقت اور چانس آپ پر خوش قسمتی کا دروازہ کھول دے۔ اور تُف
ہے کہ کھیسے میں پیسے ہوتے سوتے بھی آپ یہ دروازہ بند کر لیں۔ کوئی چار پانچ سال بعد
مصر اپنی سیر کے دوران صحرائے سینا  کے ریگ زاروں سے گزرتے ہوئے خلیجِ
عقبہ  کے ساحلی شہر ایلات اور اسرائیلی شہر رفح  سے ظالم
اسرائیل کو شروع ہوتے دیکھنا بڑا تلخ تجربہ تھا۔ یہ سرحدی علاقہ افقی صورت میں چلتا چلتا
بحیرۂ روم کے مشرقی ساحلوں پر واقع غزہ سے جا ملتا ہے جو ایک چھوٹی سی مستطیل پٹی
ہے۔ جہاں وہ بدقسمت اور مظلوم قوم جس کا نام فلسطینی ہے محصور ہوئی پڑی ہے۔ مصر کے
ساتھ جڑے اس چھوٹے سے حصے میں جیالوں نے سرنگیں بنا ڈالی ہیں۔ ایک ظالم اسرائیل،
دوسری ظالم مصری فوجی حکومتیں جو غزہ کے مجاہدوں اور مصر کے اخوان المسلمین سے
خائف۔ اوپر سے دلیر اور جیالے فلسطینی مجاہد جنہوں نے سو جتنوں اور حربوں سے یہ غیر
قانونی راستے بار بار تباہ کیے جانے کے باوجود پھر بنانے ہیں۔ اِن سے گزرنا ہے۔ چھاپے
پڑنے پر پکڑے بھی جانا ہے۔ سزائیں بھی کاٹنی ہیں اور باز پھر بھی نہیں آنا۔
میں نے بھی جی جان سے اُس سرنگ کے راستے فلسطین جانے کا سوچا۔ خرچہ کچھ
زیادہ نہ تھا۔ لالچی طبیعت نے اب ساری توانائی اس میں جھونک کر اس مقصد کو حاصل
کرنے کی اپنی سی کوشش کرنی چاہی۔ گویا آدم خور شیر کے کچھار میں سر دینے والی بات
تھی۔ پر اس وقت خواہش کے منہ زور اور تندو تیز ریلے کے سامنے بڑی مجبوری محسوس
کر رہی تھی۔
پر بُرا ہوا یا اچھا۔ میری ساتھی نے ایڑی نہ لگنے دی۔ زمانے بھر کی ڈرپوک اور دبّو
سی۔
اُسے کون سی کتاب لکھنی تھی جو وہ اس جھمیلے میں پڑتی۔ یوں بھی چسکے مارے
میرے ساتھ آ گئی تھی۔ میرا کیا تھا؟ کھا کھٹ بیٹھی تھی۔ نانی دادی جو بالعموم کاٹھ کباڑ کا
سامان بن کر کھڈے لائن لگی ہوتی ہے۔ اندر بھی ہو جاتی تو خیر صلّا۔
رضیہ حمید نے جب واپس آ کر فلسطین کے شہروں حیفہ، غزہ، رام اللہ، عکا، یروشلم
وغیرہ کی گردان کی۔ غزہ کی بوڑھی عورت کے زیتون کے باغ میں زیتون کے درختوں پر
چڑھنے، انہیں توڑ کر گھر لانے اور دستی مشین سے تیل نکالنے کے قصے سنائے۔ اسرائیل
کی ظالمانہ کہانیاں، اس کے ظالمانہ ہتھکنڈے، حماس کی خدمتِ خلق، ان کے جذبات کی شدتیں
اور الفتح کی سیاست، سب پہلوؤں پر روشنی ڈالی تو میری حالت قابلِ دیدنی تھی۔ حسرتوں کا
دھواں تھا جو مجھے سُلگا سُلگا کر مارے جا رہا تھا۔
خیر سے میری اُمیدوں پر پانی پھر جانے کی رہی سہی کسر فریڈم فرٹیلا نے پوری کر
دی۔ میری تو لُٹیا ہی ڈوب گئی۔ ظالم اسرائیل پٹڑی پر کِس مشکل سے چڑھا تھا؟ اب ایک
گڑگڑاہٹ سے نیچے اُتر گیا۔

ابو شینب فون پر تاسف بھرے لہجے میں مخاطب تھے۔
”اسرائیل نے انکار کر دیا ہے۔“
اب بغداد جانا بھی خاصا سنسنی خیز تھا۔ جسے کہتی وہ کانوں پر ہاتھ رکھ لیتا۔
”ارے موت کے منہ میں جانے والی بات ہے یہ تو۔“
سوچا عراق ایمبیسی کو لکھوں۔ عرضداشت بھیجی گئی کہ حضور والا اکیلی ہوں
صرف تحفظ درکار ہے۔ بلایا گیا۔ ہز ایکسی لینسی
ڈاکٹر رُشدی محمود تاریخ میں پی ایچ ڈی تھے۔ تپاک سے ملے۔ ہر طرح سے تعاون کی یقین
دہانی ہوئی۔
”بس جا کر ایک خط لکھیے کہ آپ کو کن کن پہلوؤں پر کام کرنا ہے؟“
آٹھ نو پوائنٹس پر مشتمل ایک خط بھیج کر انتظار کی سُولی پر چڑھ بیٹھی۔ چند بار فون
کیا۔ ہر بار ہز ایکسی لینسی خوش مزاجی سے ہیلو ہائے کرتے۔ یقین دلاتے۔ جلد خوشخبری
سنانے کا فرماتے۔ مگر کچھ تھا جس کی پردہ داری مطلوب تھی۔ تفصیل ہرگز خوشگوار نہیں۔
کہیں خوشگوار میٹھی میٹھی سی دوستانہ باتوں کے انبار میں محتاط لفظوں میں لپٹا ایک پیغام
ضرور تانکا جھانکی کرتے ہوئے کچھ بتاتا اور سمجھاتا تھا کہ عراق امریکی تسلط میں ہے۔
کہیں تمہارے جیسی منہ پھٹ اور ہتھ چھٹ گرفت میں آ گئی تو اُس کا تو پٹڑہ ہو جائے گا اور
کوئی بعید نہیں کہ اُس کی اٹھا پٹخکی شروع ہو جائے کہ عراق میں تو افراتفری مچی ہوئی ہے
اور عہدوں کے لیے دوڑیں ہیں۔ وہ جو گزشتہ سال سے ڈپلومیٹک انکلیو میں کروڑوں کی
مالیت سے بننے والا نیا سفارت خانہ انتہائی شاندار، بغداد کی قدیمی عظمتوں کا نمائندہ جی جان
سے بنانے میں ہلکان ہو رہا ہے اور چاہتا ہے کہ اُس کی تکمیل صرف اور صرف اسی کے
ہاتھوں ہو اس اعزاز سے محروم رہ جائے گا۔
اب میں تو یہی کہوں گی کہ اس میں یقیناً میرے مقدر کا بھی دوش ہے کہ جس کے نصیب میں
مُفتہ نہیں خجل خواری ہے۔
” اب میں کیا کروں؟ کِس کھوں کھاتے میں گروں؟ کہاں جاؤں؟ کسی پل چین نہ تھا۔ ایسے
میں اخبار کا ایک اشتہار نظر سے گزرا۔ عراق اور شام کے لیے زیارتی کارواں ۱۵ جولائی
کو روانگی۔ ادائیگی ایک لاکھ پچیس ہزار۔
یہ زیارات کا پیکج تھا۔ عراق و شام کی مقدس جگہیں محترم تو سبھی مسلمانوں کے لیے
ہیں۔ یوں شیعہ مسلک کے لیے ذرا خصوصی اہمیت رکھتی ہیں۔
بہت سی سوچوں نے گھیرا ڈال دیا۔ ترجیحات کا فرق غور طلب تھا۔
مذہبی معاملات میں بہت لبرل ہوں۔ خدا کو رب المسلمین نہیں رب العالمین جانتی ہوں۔
انسانیت پر ایمان رکھتی ہوں اور تہہ دل سے اِس پر یقین ہے کہ مذاہب کی یہ رنگا رنگی اوپر
والے کی اپنی تسکینِ طبع کے لیے ہے اور یہ تنوع اُسے حد درجہ محبوب ہے۔
اس لیے آپ اور میں کون اپنے عقیدے اور مسلک پر غرور کرنے والے۔
مسئلہ میرے اکیلے کا تھا۔ عرفانہ عزیز نے ایک بار بڑے جذب سے میرے ساتھ سفر
کی خواہش کا اظہار کیا تھا۔ فون کیا تو دس مجبوریاں سُننے کو ملیں۔ میں نے ریسیور پٹختے
ہوئے دل میں کہا۔
”چل میاں چل اِنہی کے ساتھ۔ بات ساری کھول دینا۔ گھر والوں والے تو مطمئن رہیں گے کہ بی
بی اکیلی نہیں۔ عراق جانے کی اور تو کوئی راہ ہی نہیں۔“

بہت خوبصورت شاعر جناب حسن عسکری کاظمی سے راہنمائی چاہی کہ مقاماتِ مقدسہ
پر اُن کی دو کتابیں میں پڑھ چکی تھی۔ انہوں نے ایک نمبر دیا۔
”اِن سے رابطہ کرو۔“
جاری ہے۔۔۔۔

,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,

قسط نمبر :4

”عراق شک بار ہیں ہم“

بات ہوئی۔ دل کچھ ٹُھکا۔ پر تھوڑی سی جانکاری، تھوڑی سی پرکھ پڑتال ضروری تھی۔
حیدر زماں صاحب کے گھر پہنچی۔ دہلیز میں قدم دھرتے ہی دروازے ہی دروازے والا اشتہار
آنکھوں کے سامنے آ گیا تھا۔ یہاں بھی درویشی ہی درویشی والا منظر تھا۔
لگی لپٹی کے بغیر اپنی ترجیحات کا ذکر کر دیا۔ اہلِ بیت سے محبت ہے مگر مسلمان
میں بس ایویں سی ہوں۔ حج، عمرہ، گیتوں اور نظموں کے زور پر کر کے آئی ہوں۔ مجھ جیسی
سرکی ہوئی خاتون اُس شریف النفس انسان نے کہاں دیکھی ہوگی؟ تاہم انہوں نے اپنے تعاون کا
بھرپور یقین دلایا تو میں نے پاسپورٹ اور پچاس ہزار روپیہ کھٹ سے نکالا۔ حوالے کیا۔ شام
کو بقیہ رقم بھیجنے کا وعدہ کیا اور اتنا سا جانا کہ 5 جولائی کو روانگی ہے۔ لاہور سے دمشق
بذریعۂ ہوائی جہاز۔ تیرہ دن کا شام میں قیام۔ بس سے عراق، پندرہ دن کے بعد ایران کے لیے
روانگی اور تہران سے لاہور واپسی۔
مزید حال احوال کیا ہیں؟ پتہ نہیں۔ کچھ جاننے کی ضرورت ہی نہ سمجھی۔ جنگ کے
بعد کا عراق دیکھنے کا تجسّس اگر زوروں پر تھا تو وہیں شام کے بارے وارفتگیِ شوقِ عالم
کچھ نہ پوچھ والا معاملہ بھی تھا۔
چند دن کے خمار کے بعد نقشے کھولے۔ فاصلوں کا حساب کتاب کیا۔ موسم کے بارے
میں رپورٹیں لیں۔ شام گرم تھا۔ لیکن قابلِ برداشت۔ تیس سے بتیس 30-32 ٹمپریچر پر۔ ہاں البتہ
عراق تنور بنا ہوا تھا۔ ڈی ہائیڈریشن کی پرانی مریض ہنس کر خود سے بولی۔
”آپے بجھی نی تینوں کون چھڑائے۔ (خود اپنے شوق سے تم بندھی ہو۔ اب کون تمہیں
اِس سے چھڑائے)“
وسط جون کا وہ بھی ایک آگ برساتا دن ہی تھا۔ ظہر کے چار فرض پڑھتے پڑھتے عراق پہنچ
گئی۔
”دو جہاں کے بادشاہ، ناممکنات کو ممکن بنا دینے والے شہنشاہ کیا یہ ممکن ہے؟
اب پڑھ کیا رہی تھی التحیات، قل ھو اللہ یا سورۂ فاتحہ سب بھول گئی اور سوال جواب میں
اُلجھ گئی تھی۔
”میرے لیے تو ناممکن پر تیرے لیے کن فیکون۔ پلیز آپ عراق میں میرے قیام کے دوران ابر
کا ایک چھوٹا سا ٹکڑا میرے سر پر تان
دیجیے نا۔ مشکور ہوں گی آپ کی۔“
ایسی فضول اور بے سروپا سی خواہش پر بے اختیار ہی میری ہنسی چھوٹ گئی۔
بیڈ پر بیٹھے پانچ سالہ پوتے نے حیرت سے دیکھا۔ چھلانگ لگا کر نیچے کُودا اور
دوڑتا ہوا ماں کے پاس جا کر بولا۔ ”اماں دادو پاگل ہو گئی ہیں۔“
چار بالشت لمبے اور تین بالشت چوڑے اٹیچی کیس میں میرے نہ نہ کرنے پر بھی
میری بے حد پیاری خادمہ نے دس جوڑے
ٹھونس دیے کہ وہاں جا کر آپ نے دھوبی گھاٹ ہرگز ہرگز نہیں لگانا۔ تنہائی میں چُپکے سے
میں نے پانچ جوڑے نکال باہر پھینکے۔
”کِسی فیشن شو میں جا رہی ہوں۔ فضول کا بوجھ“

ہاں البتہ عراق کی گرمی کو مارنے کے لیے تخمِ ملنگا اور قتیرہ گوند کے لفافے رہنے دیے۔
بادام اور سونف کے ساتھ قطعی چھیڑا چھیڑی نہیں کی۔ نئے ڈیجیٹل کیمرے کے ساتھ پرانا
یاشیکا بھی رکھا۔ پرانی ساتھی دوربین بھی حفاظت سے کونے میں ٹکائی۔
بلڈ پریشر کی دوائی دھیان سے سنبھالی۔
میں اُن جاہل اور اَن پڑھ لوگوں سے بھی بدتر ہوں جو خاموش قاتل کے بارے میں سب
کچھ جانتے ہوئے بھی دوائی نہ کھانا بڑا فخر سمجھتے ہیں۔ سفر پر جاتے ہوئے دوائی رکھنی
ضروری پر کھانے کی مجبوری نہیں۔ ہاں البتہ تکلیف کی شدت تو ناک سے لکیریں بھی نکلوا
دیتی ہے۔
بیگ میں نہ پاسپورٹ، نہ ٹکٹ، نہ کوئی معلوماتی بروشر۔ اجڈوں اور جاہلوں والی بات تھی۔ اللہ
تیرے حوالے۔
ایئرپورٹ پر تھوڑی سی پریشانی ہوئی۔ شُکراََ کہا کہ میاں ساتھ نہیں آئے تھے۔ ایسی
بدنظمی دیکھتے تو وہیں لعن و طعن کے تبّروں سے تواضع شروع کر دیتے۔
قافلے کے لوگوں کو تاڑنے اور جائزہ لینے سے یہ اندازہ ہو گیا تھا کہ یہ سیدھے
سادھے عقیدتوں کے اسیر لوگ ہیں جو حج و عمرہ کی طرح زیارات کو بھی ایمان کا حصّہ
سمجھتے ہیں۔
پہلا پڑاؤ بحرین ہوا۔ خوبصورت شہر پرشین گلف کے دہانے سے کِسی جادوئی اسرار
کی مانند پھوٹتا ہوا نظر آیا۔ ایئرپورٹ کیا تھا۔ ایک پورا شہر۔ دنیا جہان کی نسلوں اور قوموں
سے بھرا پڑا۔
فلپائن کی پھینی پھدکڑ ڈھڈورنگی (چپٹی ناک اور مینڈک جیسے رنگ والی) لڑکیوں کے
ٹولوں نے آدھا ہال سنبھالا ہوا تھا۔ باقی کا آن بوسی بنگلہ دیشی لڑکیوں اور عورتوں کے قبضے
میں تھا۔ شلوار قمیض اور قمیض پاجاموں کے علاوہ ساڑھی تو قسم کھانے کو ایک کے بھی تن
پر نہ تھی۔

1969ء ڈھاکہ یونیورسٹی میں اپنا زمانۂ طالب علمی یاد آیا تھا۔ ایک ماہ میں ہی
اُٹھتے بیٹھتے میرے کلاس فیلوز نے ”تماں کے خوقی ناہیں (تم بچی نہیں ہو) بنگال آئی ہو
تمہیں ساڑھی پہننی اور بنگالی بولنی چاہیے“ جیسے طعنوں سے چھلنی کرنا شروع کر دیا تھا۔
لباس اور زبان کے لیے اُن کی بے تکی محبت، کریز اور تعصّب خوفناک حدوں کو چھُوتا تھا۔
میں نے بھی فی الفور یہ دونوں کام کرنے میں ہی اپنی سلامتی اور عافیت جانی تھی۔
وقت کتنا بدل گیا تھا۔ بنگلہ دیشی عورت ملکی معیشت مضبوط کرنے میں کِس درجہ
سرگرم ہے۔
متحدہ عرب امارات کی چھ امیر ریاستوں اور مشرقِ وسطیٰ کے کھاتے پیتے ملکوں
میں یہ غریب عورتیں اور لڑکیاں ایجنٹوں کی وساطت سے محنت مزدوریاں کرنے جا رہی
تھیں۔ تیسری دنیا کے غریب لوگوں کا مقدر۔ یہاں کوئی تین گھنٹے کا پڑاؤ ہوا۔ گیٹ نمبر 31
سے دمشق کے لیے ہمیں داخل ہونا پڑا۔
گیٹ نمبر 30 پر کھڑا دُبلا پتلا مسکین سا آدمی ”بغداد بغداد“ کے لیے یوں آوازیں لگا
رہا تھا کہ جیسے بادامی باغ کے بس سٹینڈ پر ”سیالکوٹ سیالکوٹ، راولپنڈی راولپنڈی“ کی
صدائیں لگتی ہیں۔

اِس بین الاقوامی ہوائی اڈے پر جہاں دنیا جہان کے مسافروں کو اُن کی پروازوں کے لیے
پروقار انداز میں عربی، انگریزی اور ہندی میں بلایا جا رہا تھا۔ میں خود سے کہے بغیر نہ رہ
سکی تھی۔ ”اللہ یہ
پیغمبروں، ولیوں، صاحبِ کشف اور الف لیلیٰ کا بغداد ایسا یتیم و اسیر ہو گیا ہے کہ اِس درجہ
گھٹیا اور جٹکے انداز میں اِس کے مسافروں کو پُکاریں پڑ رہی ہیں۔
بس اُس وقت جی چاہا تھا کہ اِس پُکار کے پیچھے پیچھے چلتی شہریار اور شہرزاد کے
دیس چلی جاؤں۔ دیکھوں تو بے چارہ کتنا زخمی ہوا پڑا ہے؟“
یہیں میں نے اُس مدھو بالا کو دیکھا تھا۔ ثروت شجاعت شیخوپورہ کالج کی پروفیسر۔
ہنستے ہوئے میں نے پوچھا تھا۔ ”کوئی قرابت داری اُس خاندان
سے؟“کھلکھلا کر ہنس پڑی۔ زندہ دل خاتون تھی۔
جاری ہے۔۔۔۔۔

,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,

 

 

SHARE

LEAVE A REPLY