بغیر ساز ترانے ترستے رہتے ہیں
لبوں کے بول سہانے ترستے رہتے ہیں
کرو یہ شکر کہ تم کو ہوئے میسر ہم
وگرنہ ہم کو زمانے ترستے رہتے ہیں
بچھڑنے والے کو احساس بھی نہ ہو شاید
کہ اس کے قرب کو شانے ترستے رہتے ہیں
ازل سے جن کا مقدر ہے بس سفر، ان کو
تمام عمر ٹھکانے ترستے رہتے ہیں
نئے ملے ہوئے لوگوں کی خیر بات ہی کیا
ہمارے دوست پرانے ترستے رہتے ہیں
ہر ایک رات ہی کٹتی ہے اب تو آنکھوں میں
ہزار خواب سرہانے ترستے رہتے ہیں
ہمارے پاس ہے اک تیر سعدیہ ایسا
کہ جس کو سارے نشانے ترستے رہتے ہیں
سعدیہ













