ہمارے پاس ہے اک تیر سعدیہ ایسا ۔۔سعدیہ صدف

0
1035

بغیر ساز ترانے ترستے رہتے ہیں
لبوں کے بول سہانے ترستے رہتے ہیں

کرو یہ شکر کہ تم کو ہوئے میسر ہم
وگرنہ ہم کو زمانے ترستے رہتے ہیں

بچھڑنے والے کو احساس بھی نہ ہو شاید
کہ اس کے قرب کو شانے ترستے رہتے ہیں

ازل سے جن کا مقدر ہے بس سفر، ان کو
تمام عمر ٹھکانے ترستے رہتے ہیں

نئے ملے ہوئے لوگوں کی خیر بات ہی کیا
ہمارے دوست پرانے ترستے رہتے ہیں

ہر ایک رات ہی کٹتی ہے اب تو آنکھوں میں
ہزار خواب سرہانے ترستے رہتے ہیں

ہمارے پاس ہے اک تیر سعدیہ ایسا
کہ جس کو سارے نشانے ترستے رہتے ہیں
سعدیہ

SHARE

LEAVE A REPLY