ایک اعلیٰ امریکی اہلکار نے خبردار کیا ہے کہ قیامِ امن کے لیے کیا جانے والا کوئی بھی معاہدہ جنگ کا شکار افغانستان کی صورتِ حال کو مزید پیچیدہ کرسکتا ہے جس سے وہ تمام پیش رفت ضائع ہوسکتی ہے جو اب تک افغانستان کی تعمیرِ نو کے سلسلے میں بین الاقوامی برداری نے کی ہے۔
یہ بات افغانستان میں تعمیرِ نو کی سرگرمیوں کے نگران امریکہ کے خصوصی انسپکٹر جنرل جان سوپکو نے کہی ہے۔
رواں ہفتے واشنگٹن ڈی سی میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے جان سوپکو کا کہنا تھا کہ گو کہ ہر کوئی افغانستان میں امن چاہتا ہے لیکن یہ خدشات بھی ہیں کہ کسی معاہدے پر پہنچنے کی جلدی میں کہیں معاہدے کو دیرپا بنانے کے لیے درکار منصوبہ بندی میں خامیاں نہ رہ جائیں۔
انہوں نے کہا کہ امریکہ اور عالمی برادری افغانستان پر اب تک 10 کھرب ڈالر خرچ کرچکے ہیں اور اگر امن معاہدے میں کوئی خامی رہ گئی یا اس کے بعد کچھ گڑ بڑ ہوگئی تو یہ ساری رقم اور کوشش اکارت ہوسکتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ انہیں سب سے زیادہ تشویش افغان حکومت کی معاشی صورتِ حال پر ہے جو اپنی سکیورٹی فورسز کو تنخواہوں کی ادائیگی کے لیے بھی امریکی امداد پر انحصار کرتی ہے۔












